بن سعد مجہول: ان کا شمار اعرابِ بصرہ میں ہوتا ہے۔ عبدالرحمٰن بن عمرو بن جبلہ نے ملیکہ بنت الحارث المالکیہ سے جس کا تعلق بنو مالک بن سعد سے ہے، روایت کی اس نے کہا کہ میری ماں نے میرے دداا مالک بن سعد سے سنا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز صبح با جماعت ادا کی، گویا اس نے رات عبادتِ الٰہی میں صرف کی نیز انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جرابوں پر مسح کے بارے میں پوچھا، مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن کی اجازت ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالسمح: یہ صحابی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے اور یحییٰ بن یونس نے اس روایت میں ان کا ذکر کیا ہے۔ جو جعفر نے ان سے نقل کی ہے حاکم ابو احمد نیشاپوری راوی ہیں کہ ابو السمح بعد میں کہیں گم ہی ہوگئے کیونکہ ان کی جائے وفات کا علم نہیں ہوسکا۔ ہم بعد میں ان کا ذکر کنیتوں کے عنوان کے تحت بیان کریں گے۔ ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ضمرۃ الضمری: کوفے میں سکونت اختیار کرلی تھی، فضیل بن مرزوق نے جبلہ بنت مصفح سے روایت کی ہے کہ ان کے چچا مالک بن ضمرہ نے اپنے ہتھیاروں کے بارے میں وصیت کی کہ ان کی وفات کے بعد مہاجرین بنو ضمرہ کو اس شرط پر دے جائیں کہ وہ انھیں اہل بیت کے خلاف استعمال نہ کریں۔ جناب مالک نے امیرِ معاویہ کے زمانے میں وفات پائی۔ جناب جبلہ رضی اللہ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مصاحبت کا موقع میسر آیا۔ بن مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام سلمی دختر ابوامیہ،ابوموسیٰ نے اذناً،ابو سعد،محمد بن علی الکاتب اور ابو علی حسن بن احمد ابوالشیخ سے،انہوں نے زکریا سادجی سے،انہوں نے محمد بن حارث بن مدلج مخزومی سے،انہوں نے عمرو بن عثمان بن سہل بن ابی حثمہ سے روایت کی کہ انہوں نے ام سلمہ دختر ابوامیہ سے سنا کہ رسولِ کریم نے شوال میں نکاح کیا،اور اسی مہینے میں شبِ زفاف منائیابوالشیخ نے کتاب النکاح میں اسی طرح بیان کیا ہے،اور ایک روایت میں ہے کہ عمروبن عثمان نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت کی،اور شاید ام سلمہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی،واللہ اعلم،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن صعصعۃ الانصاری الخزرجی المازنی: ان کا تعلق مازن بن بخار سے تھا۔ یحییٰ بن محمود نے اس اسناد سےجو ابوالحسین مسلم بن حجاج تک جاتا ہے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن منشی نے اس سے محمد بن ابی عدی نے اس نے سعید سے اس نے قتادہ سے، اس نے انس بن مالک سے اس نے مالک بن صعصعہ سے، جو ان کے قبیلے سے تعلق رکھتا تھاسنا! اس نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ بیداری اور نیند سے ملتی جلتی حالت میں کعبے کے پاس تھے۔ کہ حضور نے سنا کہ ایک شخص دو (ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ) کے درمیان تیسرے کو بلا رہا ہے آپ اس کے ساتھ چل دیے پھر سونے کا ایک تھال لایا گیا جس میں آب زمزم تھا پھر آپ کا سینہ (آپ نے اشارہ کرکے فرمایا) یہاں سے وہاں تک کھولایا گیا جناب قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ حضور کا اس ۔۔۔
مزید
بن عامر بن ہانی بن خفاف: وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے مندرجہ ذیل شعر ایک نعتیہ قصیدہ کا پڑھا اَتَیْت النبی علی نایہ فبایعتہ غیر مستنکر ترجمہ: میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باوجود بعد مسافت کے حاضر ہوا اور خوشی سے ان کی بیعت کرلی۔ جناب مالک نے اس قصیدے میں (جس میں یہ شعر مذکور ہے) قادسیہ کی جنگ اور فتح عراق کا بھی ذکر کیا ہے، نیز آ۔۔۔
مزید
بن عبداللہ بن خیبری بن افلت بن سلسلہ بن عمرو بن سلسلہ بن غنم بن ثوب بن معن بن عتود بن سلامان بن عنین بن سلامان بن ثعل بن عمرو بن الغوث بن طئی الطائی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کے دو بیٹے تھے، مروان اور ایاس اور دونوں شاعر تھے۔ یہ روایت ابن الکلبی کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عبداللہ الخزاعی: ان کا شمار کوفیوں میں کیا جاتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے اور لڑائیوں میں شریک ہونے کا انھیں موقعہ ملا۔ ایک روایت میں ان کا نام مالک بن عبیداللہ بیان کیا گیا ہے، ایک روایت میں ابن ابی عبیداللہ آیا ہے لیکن زیادہ تر مالک بن عبیداللہ ہی مشہور ہے۔ ابوالفرج ثقفی نے اپنے اسناد میں جو ابن ابی عاصم تک پہنچتا ہے، بیان کیا ہے کہ ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے اس سے مروان بن معاویہ نے اس نے منصور بن حبان سے، اس نے سلیمان بن بشر الخزاعی سے اس نے اپنے ماموں مالک بن عبداللہ سے بیان کیا کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک رہے اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں بھی پڑھیں، لیکن وہ کہتے میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو فرض نمازوں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح۔۔۔
مزید
بن عبدۃ الہمدانی: ان کا ذکر اس مکتوب میں ہے، جو زرعہ بن یوسف بن ذی یزن نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت تحریر کیا تھا۔ جب اس نے معاذ بن عبداللہ بن زید، مالک بن عبادہ اور عقبہ بن عمرو کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تھا اور اُن لوگوں کو آپ سے متعارف کرایا تھا۔ ابن مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عتاہیہ بن حزب بن سعد الکندی: یہ صحابی مصری تھے۔ بکر بن ابراہیم نے ابن لہیعہ سے، اس نے یزید بن ابی حبیب سے، اس نے مخیس بن ظبیان سے۔ اُس نے عبدالرحمان بن حسان سے اس نے بنو جذام کے ایک آدمی سے اس نے مالک بن عتابیہ سے سنا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص عشاء کو پائے اسے قتل کردے (عشاء ایک شاعر کا نام ہے جو بدگو شاعروں کی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجو کرتا تھا) یحییٰ القطان نے ابن لہیعہ سے اسی سند اورمتن سے یہ روایت بیان کی ہے اور محمد بن معاویہ نے بھی ابن لہیعہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ قتیبہ نے بھی ابن لہیعہ سے روایت کی ہے، لیکن اُس نے نہ مخیس کا ذکر کیا ہے اور نہ عبدالرحمٰن بن حسان کا۔ ابویاسر نے اپنی سند سے ہمیں عبداللہ بن احمد سے روایت کی ہے کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ ہم سے موسیٰ بن داؤدنے بیان کیا کہ ہم سے ابن لہیعہ نے۔۔۔
مزید