آپ کا محبوب ترین مشغلہ تجرد کی زندگی تھا، اور ابدال صفت بزرگ تھے اور محفل سماع میں بے قرار ہوجایا کرتے تھے۔ صاحب سیرالاولیاء فرماتے ہیں کہ ایک روز میں نے خواجہ احمد بدایونی سے دریافت کیا کہ مزاج اچھے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ خوشی صرف یہی ہے کہ روزانہ پنج وقتہ نماز با جماعت پڑھ لیا کرتا ہوں۔ ایسا گُما دے اُن کی وِلا میں خدا ہمیں ڈھونڈا کریں پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو (حدائقِ بخشش) اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آپ بدایوں میں گوشہ نشینی کے اندر ہی اپنے کام میں مشغول رہے آپ کی کئی کتابیں بھی ہیں، مثلاً سلک السلوک، عشرہ مبشرہ، کلیات و جزئیات، طوطی نامہ وغیرہ آپ کی تمام تصنیفات بلند مرتبہ اور مضمون کے اعتبار سے ایک دوسرے سے متشابہ ہیں، سلک السلوک وہ کتاب ہے جو اپنی حلاوت، رنگینی اور لطافت بیانی کے ساتھ ساتھ پرتاثیر حکایات و نصائح اولیاء سے لبریز ہے، آپ کی اکثر کتب میں ایک ہی طرز کے قطعات ہیں جیسا کہ یہ قطعہ ہے۔ قطعہ بخشی خیز با زمانہ بساز! ورنہ خود رانشانہ ساختن است علاقلان زمانہ می گویند! عاقسلی با زمانہ ساختن است ترجمہ: (اے بخشی کھڑا ہو اور زمانہ کا ساتھ دے ورنہ خود کو لوگوں کا نشانہ بنانا ہے، زمانہ کے عقل مندوں کا یہ مقولہ ہے کہ زمانہ کا ساتھ دینا ہی عقل مندی ہے)۔ آپ کا حال جو ظاہر ہوا وہ یہ تھا کہ لوگوں کے میل جول سے علیحدہ رہتے اور کسی اعتقاد یا عدم اعتقاد سے کوئی سروکار نہ رکھتے تھ۔۔۔
مزید
آپ کو اپنے زمانے کے باکمال علماء میں خاص مقام و عزت حاصل تھی، شیخ نظام الدین کی قربت اور نظرِ عنایت کی وجہ سے دوسرے تمام مریدوں سے فائق اور ممتاز تھے، حسن معاملہ اور پاکیزگی باطن اور دیگر تمام اوصاف حسنہ کی وجہ سے یکتائے زمانہ تھے، اسی طرح تصوف کے تمام تر اوصاف سے موصوف تھے اگرچہ آپ اور امیر خسرو باہم دیگر دوست تھے لیکن باوجود اس کے امیر خسرو پر آپ کو ایک قسم کی برتری حاصل تھی، آپ نے سلطان غیاث الدین بلبن کی مدح میں قصائد لکھے تھے اور امیر خسرو کے کلام میں اس بادشاہ کی تعریف کے سلسلہ میں کوئی شعر نہیں ملتا، البتہ امیرخسرو نے زیادہ تر سلطان غیاث الدین بلبن کے فرزند ارجمند خان شہید کی تعریف میں قصائد لکھے ہیں جو اپنے والد کی زندگی میں ملتان کا گورنر تھا یہ اس زمانہ کی بات ہے جب امیر خسرو اس کے ہاں ملتان میں ملازم تھے، خان شہید نے شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی سے ملتان تشریف لا۔۔۔
مزید
آپ خواجہ نظام الدین اولیاء کے ممتاز خلیفہ تھے اور اپنے ہم عصر لوگوں میں شیخ کے معزز و مکرم اور صاحب صدر شمار ہوتے تھے، آپ دہلی کے مشہور عالم تھے، سکان دہلی اکثر آپ کے تلمیذ اور شاگرد تھے اور آپ کی شاگردی پر فخر کیا کرتے تھے، کہتے ہیں آپ نے مشارق کی شرح بھی لکھی ہے جس میں لکھا ہے کہ ما تثاوب نبی قط ترجمہ: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی جمائی نہیں لی) آپ اودھ سے حُصول علم کی غرض سے دہلی آئے ہوئے تھے انہی دنوں خواجہ نظام الدین اولیاء کی کرامات کا چرچا سنا تو ایک روز مولانا صدرالدین ناوی کے ہمراہ شیخ کی خدمت میں آئے، شیخ نے پوچھا کہ کیا تم یہیں شہر میں رہتے ہو اور کیا پڑھتے ہو؟ شمس الدین یحییٰ نے عرض کیا کہ مولانا ظہیرالدین بہکری سے اصول بزودی پڑھتا ہوں، شیخ نے مشکل مشکل مقامات پوچھے تو شمس الدین یحییٰ نے جواب دیا کہ ہمارا یہیں تک سبق ہوا ہے اور یہ مسئلہ ہماری سمجھ میں نہیں آ۔۔۔
مزید
آپ ایک دانشمند اور خدا رسیدہ مرد تھے، شیخ نظام الدین اولیاء قدس سرۂ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ شیخ فریدالدین گنج شکر کی زیارت کے لیے جا رہا تھا کہ قصبہ ’’سرسی‘‘ کے مقام پر مولانا احمد حافظ سے ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ آپ جب شیخ کے مزار پر جائیں تو اولاً میرا سلام عرض کریں اور اس کے بعد کہہ دیں کہ اب مجھے دنیا کی طلب نہیں ہے، دنیا چاہنے والے میرے علاوہ اور بہت ہیں اور عقبیٰ کے بارے میں بھی میری یہی رائے ہے، میری تو یہ آرزو ہے کہ (مجھے بحالت اسلام وفات دے اور اپنے نیک بندوں میں شامل کرلے) آپ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں۔ ایمان پہ دے موت مدینے کی گلی میں مدفن مرا محبوب کے قدموں میں بنا دے (مُغیلانِ مدینہ) اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
شیخ نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں کہ شیخ احمد میرے دوستوں میں سے تھے،بڑے صالح اور درویشوں سے محبت کرنے والے ابدال صفت بزرگ تھے، اگرچہ باضابطہ پڑھے لکھے نہ تھے مگر دن رات آپ کا شغل شرعی مسائل میں انہماک تھا، آپ کے رحلت کرجانے کے بعد میں نے ایک دفعہ آپ کو خواب میں دیکھا، ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنی حیات کے معمول کے مطابق مجھ سے شرعی مسائل دریافت فرمائے، میں نے ان سے عرض کیا کہ جو کچھ آپ دریافت فرما رہے ہیں ان کا تعلق دنیا کی زندگی سے ہے اور بحالت موجود ہ آپ مردہ ہیں (اس لیے آپ کو ان مسائل کی ضرورت نہیں) تو انہوں نے میرا یہ جواب سن کر فرمایا کہ کیا آپ بھی اولیاء اللہ کو مردہ کہتے ہیں۔ اللہ آپ پر رحمتیں نازل کرے۔ سرکارِ مدینہ کی سُنّت پہ جو چلتے ہیں اللہ کے وہ بندے زندہ ہیں مزاروں میں الحمدللہ عزوجل اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آپ بہت بڑے ولی اللہ تھے، خواجہ نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک بار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، کہ آپ بدایوں میں ایک جگہ بیٹھے وضو فرما رہے ہیں، قاضی جمال بیدار ہونے کے فوراً بعد وہاں گئے دیکھا کہ زمین پر پانی کا اثر ہے اور زمین گیلی ہے یہ دیکھ کر لوگوں سے فرمایا کہ میری قبر اسی جگہ بنائی جائے چنانچہ انتقال کے بعد آپ کو لوگوں نے وہیں دفن کیا۔ وہیں تُربت بن خالد کی یارب ترے مَحبوب کی جو راہ گُزر ہو اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آپ بہت بڑے صاحب کمال بزرگ تھے، شیخ نظام الدین اولیاء کے استادوں میں سے تھے، خیرالمجالس میں ہے کہ شیخ نظام الدین اولیاء نے مولانا ہی سے قدوری (فقہ کی ایک کتاب ہے جو مدارس عربیہ میں داخل درس ہے) پڑھی تھی، مولانا فرماتے ہیں کہ شیخ نظام الدین کی اس کے بعد تین چار گز کے کپڑے سے دستار بندی کی گئی کیونکہ اس وقت پوری دستار میسر نہ تھی اس کا پورا واقعہ خواجہ علی کے حالات میں گزر چکا ہے۔ فوائد الفواد میں ہے کہ مولانا اپنے بچپن کے زمانے میں بدایوں کی ایک گلی میں جارہے تھے کہ شیخ جلال الدین تبریزی نے آپ کو دیکھ کر اپنی طرف بلایا، اس وقت جو لباس شیخ جلال الدین خود زیب تن کیے ہوئے تھے وہ اتار کر اس نوجوان کو پہنا دیا، مولانا میں جو کچھ عمدہ اخلاق اور اعلیٰ اوصاف تھے وہ اسی لباس کی برکت سے تھے، یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ آپ نے ایک لونڈی خریدی جب اس کو گھر لائے تو اس کارونے کے علاوہ اور کوئی کام ہی نہ ت۔۔۔
مزید
آپ رودلی کے ایک گاؤں پالٰہی کے رہنے والے تھے، شیخ فریدالدین کے مریدوں میں سے تھے، حضرت محبوب سبحانی اکثر و بیشتر فرمایا کرتے تھے کہ مولانا داؤد پالٰہی بڑے بزرگ تھے محبوبِ سبحانی نے فرمایا کہ ایک دفعہ مجھے اور مولانا داؤد پالٰہی دونوں کو اپنے شیخ فریدالدین کی خدمت میں اکٹھا جانے کا اتفاق ہوا، دونوں اپنے اپنے گھروں سے باہر نکلے اور چل دیے مولانا لمبے لمبے قدم رکھتے ہوئے مجھ سے آگے نکل جاتے اور میرا انتظار کرنے کے لیے نفل پڑھنے لگتے، میں بہت دیر کے بعد ان کے پاس پہنچتا، چونکہ مجھے ان کی عادت معلوم تھی اس لیے ان کو نماز پڑھتے چھوڑ کر ان سے آگے روانہ ہوجاتا، میں دو چار میل ہی چلتا تھا کہ وہ پیچھے سے آکر مجھ سے دو چار میل آگے نکل جاتے اور حسب معمول نماز میں مشغول ہوجاتے اور ایسے لق و دق جنگل میں راستہ نہ بھولتے تھے۔ ہرن دیدار کے لیے حاضر ہوتے تھے: مولانا داؤد پالٰہی نماز فجر کے۔۔۔
مزید
ابن حارث ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔ ان کی حدیث اشعث بن سحیم نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے ان سے روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ میرا بیٹا (یعنی حسین) سرزمیں عراق میں شہید ہوگا پس جو شخص ان کو پائے وہ ان کی مدد کرے۔ چنانچہ یہ انس بھی حسین رضی اللہ عنہ کے ستھ شہید ہوئے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ مگر ابو نعیم نے کہا ہے کہ بعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے ان کو صحابہ میں شمار کیا ہے حالانکہ یہ تابعین میں سے ہیں۔ ابن مندہ کی ابو عمر نے اور ابو احمد عکسری نے بھی موافقت کی ے ان دونوں نے بھی کہا ہے کہ ان کا صحابی ہونا ثابت ہے۔ ابو احمد نے کہا ہے کہ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ یہ انس ہزلہ کے بیٹِہیں۔ واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید