ابن اصبغ کلبی۔ عبداللہ بن کنانہ بن بکر بن عوف بن عذرہ بن زید لات بن رفیدہ بن ثور بن کلب بن ویرہ کی اولاد میں سے ہیں انھیں رسول خدا ﷺ نے قبیلہ کلب پر عامل بنا کے بھیجا تھا جب کہ آپ نے اپنے اعمال قبیلہ قضاعہ پر بھیجے تھے بعض لوگ ان میں سے مرتد ہوگئے تھے مگر امر و القیس انے دین پر قائم رہے۔ یہ امر والقیس میرے خیال میں ابو سلمہ بن عبدالرحمن ابن عوف کے ماموں ہیں واللہ اعلم کیوں کہ ابو سلمہ کی مان تماضر بنت اصبغ بن ثعلبہ بن ضمام کلبی ہیں اصبغ اپنی قوم کے سربارہ اور ان کے سردار تھے یہ کلام ابو عمر کا ہے ان کا تذکرہ صرف انھیں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱) ۔۔۔
مزید
ابن اباء حضرمی۔ ہمیں ابو موسی نے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو سعید احمد بن نصر بن احمد بن عثمان واعظ سے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو العلا محمد بن عبدالجبار نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو الحسن علی بن یحیی بن جعفر نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم ے سلیمان بن احمد بن ایوب نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں علی بن عبدالعزیز نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو عبید قاسم ابن سلام نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو عبیدہ معمر بن مثنی نے خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے بھائی یزید بن مثنی نے سلمہ بن سعید سے نقل کر کے خبر دی وہ کہتے تھے کہ ہم حضت معاویہ کے پاس تھے تو انھوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرے پاس کوئی ایسا شخص ہوتا جو زمانہ گذشتہ کے حالات ہم سے بیان کرتا تاکہ دیکھیں کہ وہ زمانہ ہمارے زمانے سے مشابہ ہے یا نہیں ان سے بیان کیا گا کہ حضرت میں ایک شخص ہے جس کی عمر تین سو سا کی ہے حضرت معویہ نے س ۔۔۔
مزید
ابن قیس بن حارث بن شیبان بن فاتک کندی قبیلہ بنی معاویہ اکرمیں سے ہیں جو کندہ کی ایک شاخ ہے نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے تھے بہت بڑی عمر پائی تھی انھیں کی نسبت بعوضیہ شاعر کہتا ہے۔ الا کیتنی عمرت یا ام خالد کعمر اماناہ بن قیس بن شیبان لقد عاش حتی قبل لیس بمیت واغنی فامامن کھول و شیبان (٭ترجمہ۔ اے ام خالد کاش میں ایسی عمر پاتا جیسی اماناہ بن قیس بن شیبان نے پائی وہ اتنے دنوں رہے کہ لوگ کہتے تھے اب کبھی نہ مرے گا اس کے سامنے بہت سے ادھیڑ والے مر گئے) ان کے ہمراہ ان کا بیٹا یزید بھی آیا تھا اور اسلام لایا تھا مگر پھر مرتد ہوگیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بحیر والے دن قتل کیا گیا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
لیثی۔ بعض لوگ ان کو زہری بھی لکتھتے ہیں ان کا تذکرہ حافظ ابو موسی نے لکھا ہے ہمیں ابو موسی نے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو طاہر محمد بن ابی نصر تاجر نے خبر دی میں نے ان کے سامنے عبدالرحمن بن محمد حافظ کی کتاب سے دیکھ کر یہ روایت پڑھی تھی اس میں لکھا تھا ہمیں ابوبکر احمد بن موسی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن احمد ابن ابراہیم نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں عبدان مروزی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں محمد بن مصعب مروزی نے خبر دی وہ کہتیتھے ہمیں عمر بن ابراہیم ہاشمی نے خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے محمد بن اسحاق بن سلیمان بن اکیمہ نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہیک ہ انھوں نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم آپ سے حدیث سنت ہیں مگر اس کے بالفاظ ادا کرنے پر ہمیں قدرت نہیں ہوتی حضرت نے فرمایا کچھ حرج نہیں اگر الفاظ کی کمی بیشی ہو جائے بشرطیکہ کسی حرام چیز کی حلت اور کسی۔۔۔
مزید
ابن صیفی۔ یہ ابن مندہ کا قول ہے اور ان کا ذکر ہوچکا۔ عبدالملک بن عمیر نے اپنے والد سے رویات کی ہے کہ انھوں نے کہا اکثم بن ابی الجون رسول خدا ﷺ کے نبوت کی خبر پہنچی تو انھوں نے ارادہ کیا کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں مگر ان کی قوم نے انھیں نہ آنے دیا تب انھوںنے کہا کہ کوئی شخص ان کے پاس جائے جو ان کی خبر مجھے پہنچائے ور میری خبر ان کو پہنچائے لہذا دو آدمیوں کو انھوںنے بھیجا وہ دونوں نبی ﷺ کے حضور یں گئے اور دونوں نے کہا کہ ہم اکثم کے قصد ہیں یہ ایک بہت طویل حدیث ہے۔ ان کا تزکرہ صرف ابن مندہ نے لکھا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اکثم کے تین تذکرے ابن مندہ نے لکھے ہیں ور ابو نعیم نے صرف پہلے دو تذکرے لکھے ہیں تیسرا تذکرہ نہیںلکھا اور ان دونوں تذکروں میں نسب ویسا ہی لکھا ہے جیسا ہم نے بیان کیا۔ یہ ایک عجیب بات ہے اس لئے کہ ابن مندہ اور ابو نعیم دونوں نے پلے اور دوسرے تذکروں میں نسب ایک ہی بیان کیا ہ۔۔۔
مزید
بن صیفی۔ بن عبدالعزی بن سعد بن ربیعہ بن اصرم بن کعت بن عمر کی اولاد میں ہیں۔ ان کا شمار اہل حجاز میں ہے یہ نسب ابن منذر اور ابو نعیم نے بیان کیا ہے۔ جب اکثم کو رسول خدا ﷺ کے نبوت کی خبر ملی تو انھوں نے دو آدمی رسول خدا ﷺ کی خدمت میں بھیجے تاکہ وہ آپ کا نسب اور آپ کے احکام دریافت کریں حضرت نے ان دونوںکو اپنا نسب بتا دیا اور یہ آیت ان کے سامنے پرھ دی ان اللہ یامر بالعدل والاحسان و ایتاء ذی القربی و نہی عن الفحشاء والمنکر و البغی یعظکم لعلکم تذکرون (٭ترجمہ۔ بے شک اللہ حکم دیتا ہے انصاف کرنے اور نیکی کرنے کا اور عزیزوں کو دینے کا اور منع کرتا ہے بے حیائی سے اور بری باتوں سے اور سرکشی سے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کرو) پس وہ دونوں اکثم کے پاس لوٹ کے آئے اور اکثمس ے بیان کیا یہ آیت بھی اکثم کو سنا دی جب اکثم نے اس آیت کو سن تو کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں میں اس شخص کو دیکھت ہو۔۔۔
مزید
ابن جون۔ اور بعض لوگ ان کو ابن ابی الجون کہتے ہیں نام ان کا عبدالعزی ابن منقد بن ربیعہ بن اصرم بن ضبیس بن حرام بن حبشیہ بن کعب بن عمرو بن ربیعہ۔ ربیعہ کا ام محی بن عمو مزیقیا اور عمو بن ابی ربیعہ جو قبیلہ خزاعہ کے والد ہیں انھیں کی طرف سب لوگ منسوب ہیں۔ ہشامنے ان کا نسب ایس طرح بیانکیا ہے بعض لوگوںکا بیان ہے کہ یہ بو معبد خزاعی ہیں ام معبد کے شوہر اور یہی ہیں جن کی نسبت رسول خدا ﷺ نے فرمایا تھا کہ میں نے دجال کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ سبس ے زیدہ اس کے مشابہ اکثم بن عبدالعزی ہیں تو اکثم کھڑے ہوگئے اور انھوں نے عرض کیا کہ اس کی مشابہت مجھے کچھ مضر ہے حضرت نے فرمایا نہینتم مومن ہو وہ کافر ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے ان سے فرمایا تھاکہ اے اکثم بن جون میں نے عمرو بن لحی کو دیکھا کہ وہ اپنی اتریان آگ میں گھسیٹ رہا تھا میں نے تم سے زیادہ اس سے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا اکثم نے عر۔۔۔
مزید
) ابن شماخ بن یزید بن شداد بن ضحر بن مالک بن لابی بن ثعلب بن سد بن کنانہ بن حارث بن عوف بن وائل بن قیس بن عوف بن عبد مناۃ بن اوبن طانحہ عکلی۔ ہشام کلبی نے ان کا نسب اسی طرح بیانکیا ہے ور کہا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب جب اکثل کو دیکھتے تھے تو فرماتے تھے کہ جو شخص صبیح فصیح کو دیکھنا چاہے تو وہ اکثل کو دیکھے ابو عمر نے کہاہے کہ یہ اکثل جنگ حرمیں شریک تھے اور یہ مختار کے والد ابو عبید کے ہمرہا قس ناطف جانیکا ارادہ رکھتے تھے۔ فرخان شاہکو انھوںنے قید کیا اور اس کی گردن ماری۔ جنگ قادسیہ میں بھی شریک ہوئے جنگ قادسیہ میں انھوںنے بڑے بڑے کار نمایاں کیے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
حارثی۔ ان کا نام اکبر تھا مگر رسول خدا ﷺ نے ان ک نام بشیر رکھا یہ ابن ماکول کا قول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابو علی ور ابو کلثوم۔ وداع کوفی۔ ابن شاہیں نے کہا ہے کہ ان کا نام عمرو بن حارث بن معاویہ بن عمرو بن ربیعہ ابن عبداللہ بن وداعہ۔ وداعہ ایک شاخ قبیلہ ہمدان کی ہے۔ ابن شاہیں نے کہا ہے کہ اگر یہ سلسلہ صحیح ہے تو فبہا ورنہ ان کی حدیث مرسل ہوگی۔ ہمیں ابو موسی محمد بن ابی بکر بن ابی عیسی اصفہانی حافظ نے کتابۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیںابو حفص عمر بن احمد بن عثمان نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ہشامبن احمد بن ہشام قاری نے دمشق میں خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو مسلمہ یعنی عبدالرحمن بن محمد الہانی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہین عبدالعظیم بن حبیب بن زغبان نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو حنیفہ نے علی بن اقمر سے انھوں نے اپنے والد سے نقل کر کے خبر دی کہ وہ کہتے تھے رسول خداﷺ نے فرمایا ہے جو شخص طاعون سے مرے وہ شہید ہے اور جو عورت نفاس میں مرے وہ شہید ہے اور جو شخص بحالت سفر مرے وہ شہید ہے اور جو شخص۔۔۔
مزید