جمعہ , 22 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 10 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا) اضبط (رضی اللہ عنہ)

  سلمی ان کی کنیت ابو حارثہ ہے ان ی حدیث عبدالرحمن بن حارثہ بن اضبط نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا اضبط سلی سے رویت کی ہے یہ نبی ﷺ کے صحابی تھے کہتے تے ین نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سناکہ میں نے دوزخ کو دیکھا تو وہاں زیادہ تر عورتوں کو پایا۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

شیخ محمود موئینہ دوز

آپ قاضی حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مرید اور خواجہ قطب الدین کے عقیدت مندوں اور دوستوں میں سے تھے، خواجہ صاحب کی اکثر و بیشتر مجالس میں آپ شریک رہتے تھے، خواجہ صاحب کے ملفوظات میں آپ کا کثرت سے ذکر کیا گیا ہے، آپ کا مزار بھی خواجہ صاحب کے مزار کے نزدیک اس دروازے کے باہر ہے جو حوض شمسی کی جانب ہے، حاجت مند لوگ آپ کے مزار پر آکر ایک پتھر اٹھاکر ایک جانب رکھ دیتے ہیں، اور جب مراد پوری ہوجاتی ہے تو اس پتھر کے وزن کے برابر شکر بانٹتے ہیں۔ اخبار الاخیار حضرت خواجہ محمودموئینہ دوز(رحمتہ اللہ علیہ) حضرت خواجہ محمودموئینہ دوزکوحضرت خواجہ قطب الدین بختیارکاکی (رحمتہ اللہ علیہ)سے بے حد عقیدت تھی۔ بیعت وخلافت: آپ حضرت قاضی حمیدالدین ناگوری(رحمتہ اللہ علیہ )کے مرید ہیں۔ وفات: آپ کی وفات ۶۵۵ھ میں ہوئی،مزاردہلی میں واقع ہے۔ کرامات: جب کسی کاغلام بھاگ جاتا،وہ آپ کے پاس آتا،دعاکراتااورغلا۔۔۔

مزید

سیدنا) اضبط (رضی اللہ عنہ)

  ابن حیی بن زعل اکبر۔ ان کی حدیث عبدالمہیمن بن اضبط بن زعل اکبر نے اپنے والد اضبط سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ نے فرمایا جو شخص ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوںکی تعظیم نہ کرے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔ ان کا تذکرہ ابو نعیم اور ابو موسی نے کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اصیل (رضی اللہ عنہ)

  ابن عبداللہ قبیلہ ہذیلہ کے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ قبیلہ غفر کے ہیں۔ ابن شہاب زہری نے کہا ہے کہ اصیل غفاری جب آئے ہیں اس وقت تک نبیﷺ کی ازواج پر پردہ فرض نہ ہوا تھا لہذا یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے حضرت عائشہ نے ان سے پوچھا کہ اے اصیل تم نے مکہ کو کس حال میں چھوڑا انھوں نے کہا کہ میں نے مکہ کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ خدا کی قسم اس کے اطراف و جوانب تر و تازہ ہیں اور س کے سکستان سپید ہو رہے ہیں حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ٹھہرو تاکہ نبی ﷺ تشریف لے ائیں چنانچہ تھوڑی ہی دیر کے بعد نبی ﷺ تشریف لائے اور آپ نے وچھا کہ اے اسیل تم نے مکہ کو کس حال میں (٭مکہ میں اس زمنے میں حضرت کی دعا اق قحط عظیم پڑ گیا تھا لوگ تباہ حال ہوگئے تھے بعد اس کے آپ نے س قحط کے دور ہونے کی دعا فرمائی اسی کے متعلق آپ نے اصیل سے دریافت فرمایا تو انھوں نے کہا کہ اس کے اطراف و جوانب تر و تازہ ہیں یعنی پانی خو۔۔۔

مزید

سیدنا) اصید (رضی اللہ عنہ)

  ابن سلمہ سلمی۔ ہمیں ابو موسی نے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو زکریا یعنی ابن مندہ نے کتابتہ خبر دی وہ کہتے تھے مجھے میرے چچا اور باپ نے خبر دی یہ دونوں کہتے تھے ہمیں ابو طاہر یعنی عبدالواحد بن احمد شیرازی نے خبر دی وہ کہتے تھے میں ابو الحسین احمد بن محمد بن محمود بزاز نے تستر میں خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں حسن بن احمد بن مبارک نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں احمد بن علی خزار کوفی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں محمد بن عمران بن ابی لیلی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں سعید بن عبید اللہ بن ولید رصافی نے اپنے والد سے انھوں نے بو جعفر محمد بن علی سے انھوں نے اپنے والد حسین سے انھوںنے اپنے والد علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہس ے نقل کر کے خبر دی وہ کہتے تھے کہ رسول خدا ﷺ نے ایک لشکر بھیجا تھا اس لشکر کے لوگ قبیلہ بنی سلیم کے ایک شخص اصید بن سلمہ کو گرفتار کر لائے جب انھیں رسول خدا ﷺ نے دیکھا تو حضرت کو۔۔۔

مزید

سیدنا) اصرم (رضی اللہ عنہ)

  ان کو لوگ اصیرم بھی کہتے ہیں ان کا نام عمرو بن ثابت بن وقش بن زغیہ بن زعور ابن عبدالاشہل بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس ہے انصری ہیں اوسی ہیں اشہلی ہیں۔ جنگ اح میں شہید ہوئے اور نبی ﷺ نے ان کے جنتی ہونے کی گواہی دی۔ ان کا تذکرہ انشاء اللہ عمرو کے بیان میں اس سے زیادہ ہوگا ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اصرم (رضی اللہ عنہ)

  شقری۔ قبیلہ شقرہ سے ہیں جو بنی تمیم کی ایک شاخ ہے۔ شقرہ کا نام معویہ بن حارث بن قمیم بن مر ان کا نام شقرہ صرف ایک بیت کی وجہ سے رکھا گیا و انھوںنے موزوں کیا تھا۔ وقد احمل الرمح الاصم کعو بہ بہ من دماء الحی کالشقرات (٭ترجمہ۔ تیز نیزے نے اپنی نوکیں اس حالت میں اٹھائیں کہ قبیلہ کا خون اس پر مثل گل لالہ کے لگا ہوات ھا) نبی ﷺ کی خدمت میں گئے تھے حضرت نے ان کے لئے دعا فرمائی اور ان کا نام زرعہ رکھا۔ بشر بن مفضل نے بشیر ابن میمون نے انھوں نے اپنے چچا اسامہ بن اخدری سے انھوں نے اصرم سے رویت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نبی ﷺ کے حضور میں اسود نامی ایک غلام کے ساتھ گیا تھا حضرت نے مجھ سے پوچھا کہ تہار اکیا نام ہے میں نے عرض کیا کہ اصرم حضرت نے فرمایا نہیں بلکہ تمہارا نام زرعہ ہے حضرت نے فرمایا کہ اس غلام سے تم کیا کام لیتنا چاہتے ہو میں نے عرض کیا کہ میں اس کو چرواہا بنانا چاہتا ہوں حضرت نے فرما۔۔۔

مزید

سیدنا) اصحمہ (رضی اللہ عنہ)

  (جن کا لقب) نجاشی (ہے) بادشاہ حبش۔ نبی ﷺ کے زمانے میں اسلام لائے اور جو مسلمان ان کے ملک میں ہجرت کر کے گئے تھے ان کے ساتھ اچھا برتائو کیا۔ نجاشی کے واقعات مسلمانوںکے ستھ اور نیز کفار قریش کے ستھ جنھوں نے نجاشی سے یہ درخواست کی تھی کہ مسلمانوں کو ان کے حوالہ کر دے مشہور ہیں۔ نجاشی سنے فتح مکہس ے پہلے اپنے ہی ملک میں وفات پائی۔ اور مدینہ میں نبی ﷺ نے ان کے جنازے کی نماز پڑھی اس نماز میں چار تکبیریں آپ نے کہیں۔ اصحمہ ان کا نام ہے اور نجاشی ان کا ور تمام باداہان حبش کا لقب ہے جس طرح کسی بادشاہان فارس کا ور قیصر بادشاہان روم کا۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ اور ان کے مثل اور وہ لوگ جنھوں نے نبی ﷺ کو نہیں دیکھا صحابہ میں ان کا ذکر لکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے مگر ہم نے متقدمیں کی پیروی کر کے لکھ دیا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ محمد ترک نار نولی

آپ ترکستان کے رہنے والے تھے۔ وہاں سے ہندوستان تشریف لائے اور بمقام نارنول قیام فرما ہوئے آپ کو سلطان ترک اور بر ترک کے نام سے پکارا جاتا تھا اور حضرت شیخ عثمان ہارونی کے مرید خاص اور خلیفہ تھے، آپ کو حضرت خواجہ معین الدین اجمیری قدس سرہ نے بھی خرقۂ خلافت عطا کیا تھا وہ ایک عرصہ تک نارنول میں رہے اور خلق کو ہدایت کی راہ دکھاتے رہے، ابتدائے کار میں نارنول میں ہندوؤں کی اکثریت تھی، اور آپ کے ہمراہ ہی مسلمان تھوڑے تھے، ہندوؤں نے پروگرام بنایا کہ مسلمانوں کو قتل کردیا جائے وہ مناسب موقع کا انتظار کرنے لگے۔ عیدالفطر پر مسلمان نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے شہر سے باہر جمع ہوئے جب تمام نماز مین کھڑے ہوئے تو ہندوؤں نے مل کر اچانک حملہ کردیا اور بہت سے مسلمانوں کو سجدہ میں ہی شہید کردیا، حضرت شیخ بھی اسی موقع پر جام شہادت نوش کرگئے اور اپنے حجرے میں دفن کردیے گئے اس مقام پر شہیدوں کا مشہد بنایا گیا مگ۔۔۔

مزید

شیخ محمد ترک نارنولی

آپ کا اصل وطن ترکستان تھا وہاں سے آکر نارنول میں سکونت پذیر ہوئے۔ لوگوں کا بیان ہے کہ آپ خواجہ عثمانی ہارونی کے مرید تھے، ملفوظات مشائخین میں ذکر دیکھنے میں نہیں آیا، نارنول کے رہنے والے لوگ آپ کو پیر ترک اور ترک سلطان کہا کرتے تھے، آپ کا مزار عام و خاص لوگوں کا مرجع ہے، نارنول میں ایک حوض کے کنارے آپ کا مزار تھا، وہ حوض ٹوٹ پھوٹ گیا اور اب اس جگہ شہری آبادی ہے۔ جب آپ نارنول پہنچے تو اس وقت مجرد، متوکل اور عورتوں کی مجلس سے دور رہتے تھے، آپ کے کوئی بال بچہ بھی نہ تھا، آپ بیعت نہیں کرتے تھے اسی لیے آپ کا کوئی شخص مُرید نہیں۔ قبر سے قُرآن پڑھنے کی آواز اسلام کے ابتدائی دور میں نارنول میں کافروں کی بڑی قوت تھی، مسلمان بہت تھوڑی مقدار میں تھے اور ہندو موقع کی تاک میں رہتے، عید کے روز جب تمام مسلمان عید کی نماز پڑھ رہے تھے ہندوؤں نے یکدم اور اچانک حملہ کردیا اور مسلمانوں پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑے،۔۔۔

مزید