جمعرات , 21 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 09 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت بی بی زلیخہ رحمتہ اللہ علیہا

شیخ نظام الدین اولیاء کی والدہ ماجدہ تھیں شیخ فرمایا کرتے تھے کہ میری والدہ کو اللہ سے خاص تعلق تھا، جب ان کو کوئی ضرورت درپیش ہوتی تو وہ پہلے ہی اس کام کے متعلق خواب دیکھ لیا کرتیں تھیں اور اس کام کو انجام دینے میں انہیں اختیار حاصل ہوجاتا تھا میری خود یہ حالت ہے کہ جب کوئی ضرورت پڑتی ہے تو میں والدہ ماجدہ کے مزار پر جا کر عرض کرتا ہوں اور میرا وہ کام تقریباً ایک ہفتہ کے اندر ہی ہو جاتا ہے اور ایسا بہت کم اتفاق ہوتا ہے کہ اس کے پورا ہونے مین ایک مہینہ لگے۔ میری والدہ ماجدہ کو ان کی زندگی میں جب کوئی ضرورت ہوتی تو وہ پانچ سو مرتبہ درود شریف پڑھ کر اپنا دامن پھیلا کر دعا مانگتی تھیں اور جو چاہتی تھیں مل جاتا تھا۔ میری والدہ ماجدہ اتنی مقبول بارگاہ تھیں کہ جب ہمارے گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہوتا تو فرماتیں آج ہم اللہ کے مہمان ہیں۔ ان کی اس بات سے مجھے ایک خاص ذوق حاصل ہوا ہی تھا کہ اچانک کوئی ۔۔۔

مزید

بی بی قُرسُم خاتون

آپ بہت ہی بزرگ اور بڑی مستجاب الدعوات تھیں۔ شیخ فرید الدین نے جب اجودھن میں سکونت اختیار کرلی تو شیخ نجیب الدین متوکل سے کہا جاؤ ہماری والدہ محترمہ کو دہلی سے لے آؤ شیخ نجیب الدین دہلی روانہ ہوگئے چنانچہ شیخ گنج شکر کی والدہ کو لارہے تھے کہ راستہ میں پیاس لگی، آپ ان کو کسی درخت کے سایہ میں بٹھا کر خود پانی کی جستجومیں نکلے، واپس جب آئے تو دیکھا والدہ موجود نہیں ہیں، پریشان ہوگئے اور تمام واقعہ شیخ فرید الدین سے جاکر بیان کردیا۔ شیخ فرید الدین نے ایصال ثواب کے لیے کھانا پکوانے کا حکم دے دیا کچھ عرصہ بعد شیخ نجیب الدین کا اس راستہ سے گزر ہوا جب اس درخت کے پاس آئے تو خیال آیا کہ شاید والدہ کا کچھ پتہ ملے لیکن اس درخت کے نیچے ان کو کچھ ہڈیاں ملیں جو آدمی کی معلوم ہوتی تھیں انہوں نے ان ہڈیوں کو اٹھا کر اپنے تھیلہ میں ڈال لیا اور دل میں کہا والدہ ماجدہ کو شاید کسی شیر نے مار ڈالا غرض کہ وہ ہڈیوں۔۔۔

مزید

حضرت بی بی فاطمہ سام

اپنے زمانہ کی صالحہ، عابِدہ اور صبر و شکر کرنے والی بی بی تھیں، بی بی فاطمہ کا تذکرہ شیخ نظام الدین اولیا اور آپکے خلفاء کے ملفوظات میں بکثرث موجود ہے۔ شیخ نظام الدین اکثر بی بی فاطمہ کے مقبرہ میں مشغول عبادت رہتے تھے۔ شیخ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ بی بی فاطمہ سام ایک مرد تھے جن کو اللہ نے عورتوں کی شکل میں بھیجا تھا۔ شیخ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ شیر جب اپنے کچھار سے نکلتا ہے تو کوئی یہ نہیں پُوچھتا کہ نر ہے یا مادہ انسانوں کو ان سے خوفزدہ ہونا ضروری ہے خواہ وہ نر ہو یا مادہ، پھر اس کے بعد بی بی فاطمہ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا وہ نہایت بوڑھی اور صالح بی بی تھیں، میں نے خود ان کو دیکھا ہے۔ بڑی پیاری بی بی تھیں، شیخ فرید الدین گنج شکر اور شیخ نجیب الدین متوکل اور بی بی فاطمہ، منہ بولے بھائی بہن تھے، ہر چیز کے متعلق حسب حال شعر کہا کرتی تھ۔۔۔

مزید

بی بی سارہ رحمتہ اللہ علیہا

شیخ نظام الدین ابوالموید کی والدہ تھیں اور متقدمین میں بڑی بزرگ بی بی تھیں۔ ایک مرتبہ خشک سالی ہوئی، سب لوگوں نے دعا کی مگر بارِش نہیں ہوئی، شیخ نظام الدین ابوالموید نے اپنی والدہ کے دامن کا دھاگہ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا، اے اللہ یہ بزرگ خاتون کے دامن کا دھاگہ ہے جس پر کبھی کسی نا محرم کی نظر نہیں پڑی، اس کے طفیل میں پانی برسادے، آپ نے یہ جملہ کہا ہی تھا کہ پانی برسنا شروع ہوا، بی بی سارہ کا مزار پُرانی عیدگاہ کے کنارے پر ہے جس کے سرہانے کی جانب خواجہ قطب الدین کا مزار ہے۔ اللہ آپ پر رحمتیں نازل کرے۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

حضرت سوبھن مجذوب

صاحب حال و تصرف ایک مستانہ تھے۔ قوم کے کوری تھے اور مسلمان ہونے کے بعد مجذوب ہو گئے تھے۔ شیخ علاؤالدین اجودھنی کی خدمت میں رہے اور عرصہ تک قطب صاحب میں عادت کرتے رہے، کبھی عرصہ دراز تک فاقہ کشی کرتے تھے اور کبھی منوں کھاکر پوری مشک پانی پی لیتے، کبھی دیکھا گیا کہ چونے کی بھٹی میں پڑے ہوئے چونا کھا رہے ہیں لوگوں نے کہا، آپ یہ کیا کھا رہے ہیں یہ کھانا نہیں ہے تو جواب دیا کیا کروں اس بدقسمت کو کھانے کی بے انتہا حرص ہے اور خاک کے سوائے کسی چیز سے سیر نہیں ہوتا، اللہ آپ پر رحمت کرے۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

حضرت شیخ یوسف

لاہور کے ایک مجذوب تھے۔ بلند قامت، فربہ جسامت، باہیبت اور صاحب عظمت پابند اوقات تھے۔ سر پر بڑا صافہ باندھتے اور سر منڈاتے تھے۔ صاحب کشف اور کشادہ باطن تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک دن میں نے شیخ یوسف کو دیکھا جو لاہور کے نخاس میں کھڑے اونچی باتیں اور عجیب اَسرار ورموز بیان کر رہے ہیں، میری بہت سی پوشیدہ باتیں بیان کیں جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرا نہیں جانتا دوسرے دن پھر میں نے ان کے پاس جانے کا اِرادہ کیا تاکہ اپنے سفر کے لیے نیک فال لے لوں، تلاش کرنے پر اپنی جگہ نہ ملے چنانچہ میں لوٹ آیا اور میں اپنا پورا ماجرا اپنے ساتھیوں سے بیان ہی کر رہا تھا کہ اچانک وہ وہاں آگئے اور میری طرف رُخ کرکے کہا ہر گز سفر نہ کرنا، مبارک نہیں ہے۔ وہاں کے آدمیوں نے کہا بارہ سال کے بعد آج یہاں شیخ یوسف آئے ہیں، اس سے پہلے وہ کبھی اس جگہ سے نہیں گزرے، اللہ عزوجل کی آپ پر رحمتیں ہوں۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

سیدنا) اسود (رضی اللہ عنہ)

  ابن سلمہ بن حجر بن وہب بن ربیعہ بن معاویہ کندی۔ نبی ﷺ کی خدمت میں اپنی قوم کی طرف سے حاضر ہوئے تھے اور ان کے ہمراہ ان کے بیٹِ بھی تھے حضرت نے انھیں دعا دی تھی۔ ابن کلبی نے ان کا تذکرہ ان لوگوں میں کیا ہے جو نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے آئے تھے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اسود (رضی اللہ عنہ)

  ابن سفیان بن عبدالاسد بن بلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم قرشی مخزومی۔ ہبار بن سفیان بن عبدالاسد کے بھائی ہیں اور ابو سلمہ کے بھتیجے ہیں ان کے صحابی ہونے میں کلام ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر اور ابو موسی نے کیا ہے مگر ابو موسی نے ان کو اسود بن عبدالاسد لکھا ہے سفیان کا تذکرہ نہیں کیا اور کہا ہے کہ عبدان نے کہا ہے کہ ان کی کوئی روایت مشہور نہیں ہے صرف ابن عباس نے ان کا نام ذکر یا ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے ابن کلبی نے ور زبیر بن بکار نے کہا ہے کہ اسود بن عبدالاسد جنگ بدر میں بحالت کفر مقتول ہوگئے تھے اور زبیرنے سفیان بن عبدالاسد کا اور ان کے بیٹے اسود دونوں کا ذکر ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

حضرت شاہ منصور

مندو کے کشف ظاہر اور مکمل تصرف رکھنے والے مجذوب تھے۔ محمد ہمایوں بادشاہ نے جب گجرات کا رُخ کرنا چاہا تو فال لینے شاہ منصور کے پاس بھیجا، جب شاہی آدمی شاہ منصور کے پاس آیا تو آپ نے اس کے ترکش سے ایک تیر نکال کر اس کے پر توڑے اور پھر وہ تیر واپس ترکش میں رکھ دیا، چنانچہ اس نے واپس ہو کر بادشاہ سے ماجرا بیان کیا۔ جس پر بادشاہ نے کہا یہ اس چیز کی علامت ہے کہ ہم کو گجرات پر فتح نہ ہوگی۔ اور ہماری فوج پریشان ہو جائے گی نیز اس میں اس چیز کی طرف بھی اِشارہ ہے کہ ہماری فوج اگرچہ پریشان اور تتر بتر ہو جائے گی ہماری ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور ہم سلامتی سے اپنے مقام پر واپس آجائیں گے۔ حضرت شیخ عبدالوہاب بیان فرماتے تھے کہ برہان پور کے صاحب ولایت شاہ بھکاری کے وضو کا پانی شاہ منصور نے پی لیا تھا تب سے ان کی یہ حالت ہو گئی، میں نے ابتداً جب راہ سلوک میں قدم رکھا تو فال نصیحتیں لینے کے لیے شاہ م۔۔۔

مزید

سیدنا) اسود (رضی اللہ عنہ)

  ابن سریع بن حمیر بن عبادہ بن نزال بن مرہ بن عبیدہ بن مقاعس۔ مقاعس کا نام حارث بن عمرو بن کعب ابن سعد بن زید مناۃ بن تمیم تمیمی سعدی۔ اسود کی کنیت ابو عبداللہ ہے انھوں نے نبی ﷺ کے ہمراہ جہاد کیا ہے۔ اور مرہ بن عبید منقر بن عبید کے بھائی ہیں۔ اسود بن سریع اور احنف بن قیس دونوں عبادہ میں جاکے مل جاتے ہیں۔ یہ سب سے پہلے شخص ہیں جنھوں نے بصرہ کی جامع مسجد میں وعظ بیان کیا انس ے حسن بصری اور عبدالرحمن بن ابی بکرہ نے روایت کی ہے ابن مندہ نے کہا ہے کہ حسن بصری اور عبدالرحمن کا سننا ان سے ثابت نہیں ہے۔ احنف بن قیس نے بھی ان سے رویت کی ہے ہمیں ابو یاسر بن ابی حبہ نے اپنی اسناد کے ساتھ عبداللہ بن احمد بن حنبل تک خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے علی بن زید نے عبدالرحمن بن ابی بکر سے انھوںنے اسود بن سریع سے نقل کر کے بیان کیا کہ وہ کہتے تھے میں رسول خدا ﷺ کے اس گیا اور میں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ میں ن۔۔۔

مزید