منگل , 19 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 07 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت مولانا احمد

آپ تھانیسر کے رہنے والے اور شیخ نصیرالدین محمود دہلوی کے مریدوں میں سے تھے، علوم ظاہری کے علاوہ بڑے فضل و کمال کے مالک تھے، اگرچہ مولانا خواجگی کے ساتھ آپ کے برادرانہ تعلقات تھے مگر جب انہوں نے دہلی کو ترک کیا تو آپ نے ان کا ساتھ نہیں دیا، نتیجہ یہ ہوا کہ امیر تیمور گورگانی کی بڑی  عظیم الشان فوج نے دہلی پر حملہ کرکے لوٹ مار کا بازار خوب گرم کیا، اس کس مپرسی کے عالم میں مولانا احمد کے متعلقین کو امیر تیمور گورگانی کے لشکریوں نے گرفتار کیا بعد میں جب فتنہ فساد ختم ہوا تو آپ گورگانی کے درباری مقرر ہوگئے، امیر تیمور کے دربار میں مولانا برہان الدین مرغینانی صاحب ہدایہ کے پوتے شیخ الاسلام  اور آپ کے درمیان میں ادھر اُدھر کی گفتگو ہوا کرتی تھی، ایک دن امیر تیمور نے شیخ الاسلام کی جانب اِشارہ کرتے ہوئے مولانا احمد سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ مولانا برہان الدین مرغینانی صاحب ہدایہ کے ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا معین الدین

آپ بہت بڑے  عالم دین اور شہر بھر کے استاد تھے، آپ کی مشہور تصانیف حاشیہ کنزالدقائق، حسامی اور مفتاح ہیں، لوگوں میں مشہور ہے کہ سلطان محمد تغلق نے جب عضد کو اس غرض سے ہندوستان بلانا چاہا کہ وہ شرح مواقف لکھ کر سلطان کے نام سے موسوم کردیں تو مولانا معین الدین کو ایک قاصد اور فرستادہ کی حیثیت سے روانہ کیا کہ وہ قاضی عضد کو بلا لائیں، مولانا عمرانی جب قاضی صاحب کے گھر اور شہر میں پہنچے تو آپ سے بلا قصد و ارادہ کچھ کمالات ظاہر ہوگئے ان چیزوں کو دیکھ کر قاضی عضد نے ہندوستان آنے کا ارادہ ترک کردیا (اس غرض سے کہ جب ہندوستان میں ایسے ایسے باکمال بزرگ موجود ہیں تو مجھے وہاں کیا سمجھا جائے گا) جب بادشاہ کو اس کا علم ہوا تو اس نے اپنے تمام کاروبار چھوڑ دیے اور فوراً قاضی عضد کے پاس گیا اور کہا کہ آپ تختِ سلطنت پر تشریف رکھیں میں آپ کی ہر ممکن خدمت کروں گا، اور میری بیوی کے علاوہ  جو کچھ بھی ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا خواجگی

آپ شیخ نصیرالدین محمود دہلوی کے خلیفہ اور مولانا معین الدین عمرانی کے تلمیذ رشید اور قاضی شہاب الدین کے استاد محترم تھے، منقول ہے کہ جس زمانے میں مولانا خواجگی دہلی میں پڑھا کرتے تھے۔ اس وقت اپنے استاد سے سبق پڑھنے کے بعد شیخ نصیرالدین کی خدمت میں حاضری دیا کرتے تھے۔ مولانا معین الدین کا بھی شیخ نصیرالدین کے بارے میں وہی نظریہ تھا جو عام علماء کو فقروں سے ہوتا ہے اس لیے کبھی ان سے ملاقات نہ کی تھی۔ ایک مرتبہ مولانا معین الدین کو اتنی سخت کھانسی ہوئی کہ طبیبوں سے علاج کرانے کے باوجود بھی افاقہ نہ ہوا اور اس میں اتنی شدت ہوگئی کہ مولانا اپنی زندگی سے مایوس ہوگئے۔ مولانا خواجگی نے اپنے استاد سے بصد ادب و احترام عرض کیا کہ حضرت اگر اس میں کوئی مضائقہ نہ سمجھیں تو شیخ نصیرالدین کے پاس چلیں اور ان سے صحت کی دعا کروائیں۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ صحت عطا فرمادے یہ مشورہ ابتداء تو مولانا معین الدین نے ق۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ابراہیم رامپوری

  آپ کے دوسرے خلیفہ حضرت شیخ ابراہم رام پوری ہیں۔ جو غایت فقر و فنا سے متصف  تھے۔ اور بڑے عبادت گذار اور  مجامد تھے۔ آپکا ذات بے کیف کا شغل ہوا[1] کے ذریعے حاصل ہوا تھا۔ چنانچہ آپ ہمیشہ فنائے احدیت میں مستغرق رہتے تھے۔ اس فقیر کو م علوم ہوا ہے کہ حضرت شیخ ابراہیم  لاہوری اہل بیت کی محبت  میں بے اختیار تھے۔ چنانچہ  جن ایام میں آپ سیدہپورہ میں رہتے تھے۔ جو کرنال کے نواح میں ہے تو آپ ہمیشہ زمین پر سوتے تھے۔ آپ کہتے تھے کہ کتنے  سادات  ہیں کہ جنکو چارپائی  میسر نہیں ہے۔  آداب کے خلاف ہے کہ میں چار پائی  پر سوجاؤں اور سادات  زمین پر سوئیں اس سے ظاہر ہے کہ آپکو فنافی الرسول بدرجۂ کمال حاصل تھا۔ سیدپورہ میں آپ دن کے وقت ایک باغ میںجامن کے درخ کےنیچے شغل باطن میں مشغول رہتے تھے۔ اور رات کےوقت اپنے گھرمیں مشغول بحق رہتے تھے۔ جب درختوں کو پ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ فتحی موصلی

  چودہویں خلیفہ حضرت شیخ فتحی تھے اور شیخ اسمٰعیل اکبر آبادی حضرت شیخ فتحی کے خلفا اعاظم میں سے تھے۔ حضرت شیخ نظام الدین بلخی قدس سرہٗ کے خلفا کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ اس مختصر کتاب میں گنجائش نہیں کہ انکا ذکر کیا جائے۔ غرضیکہ  ہندوستان کا کوئی شہر اور قصبہ ایسا نہ ہوگا جہاں آپکے  خلفاء یا خلفاء آسودہ اور متصرف نہ ہوں۔ یہاں تک کہ عربسان اور توران میں آپکے خلفاء پہنچ چکے تھے۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔ اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّد ٍوَالہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن۔ ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود   ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد   نور دوئیم در ذکر مجمل از   احوال قطب الاقطاب  حضرت  شیخ ابو سعید گنگوہی الحنفی  محبوب حق  حضرت شیخ محمد صادق بن شیخ فتح اللہ گنگوہی، وقطب دائرۂ وجود حضرت شیخ داؤد بن حضرت ش۔۔۔

مزید

حضرت شیخ محمد صادق

  آپکے تیرہویں خلیفہ  حضرت شیخ محمد صادق  برہانپوری تھے۔ (قتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت قاضی عبدالحی 

  آپکے بارہویں خلیفہ حضرت قاضی عبدالحی ابن قاضی  سالم کیرانوری تھے۔ (قتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ سید قاسم برہان پوری

  حضرت شیخ نظام الدین کے گیارہویں خلیفہ حضرت سید قاسم برہان پوری ہیں۔ (قتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبدالرحمٰن کشمیری

   حضرت اقدس کے دسویں خلیفہ حضرت شیخ عبدالرحمٰن کشمیری جنکا مسن لاہور تھا۔ (قتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ مصطفیٰ

  آپ کے آٹھویں خلیفہ حضرت شیخ مصطفیٰ ہیں۔ جن کا مسکن و مدفن معلوم نہیں ہوسکا۔ (قتباس الانوار)۔۔۔

مزید