پیر , 18 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 06 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت خواجہ احمد

آپ شیخ ابویزید بن شیخ قیام الدین کے لڑکے  تھے۔ فوادالفواد میں شیخ نظام الدین اولیاء سے منقول ہے کہ شیخ احمد حضرت معین الدین چشتی کے پوتے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے کہ میرے ایک دوست ایمان کی سلامتی کے لیے مغرب کی نماز کے بعد دواماً دو رکعت نفل اس طریقہ سے پڑھا کرتے تھے کہ پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سات بار سورۂ اخلاص اور ایک بار سورۂ فلق اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سات مرتبہ سورۂ اخلاص اور ایک بار سورۂ الناس، جب دو رکعت نفل سے فارغ ہوتے تو سجدہ میں جاکر تین مرتبہ یہ پڑھے۔ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ ثَبِّتْنِیْ عَلَی الْاِیْمَانِ ترجمہ: اے حی و قیوم مجھے میرے ایمان پر ثابت رکھنا۔ ہمیں  اجمیر کے علاقہ میں ایک روز شام ہوگئی، ہمارے سامنے چور نمودار ہوئے۔ ہم سب لوگ فرض و سنت کو چھوڑ کر شہر کی طرف روانہ ہوگئے (تاکہ یہ چور نقصان نہ پہنچائیں) مگر ہمارا وہ دوست نماز مکمل کرکے ہمارے۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ معین الدین خرد

آپ شیخ معین الدین چشتی کے پوتے، یعنی حسام الدین سوختہ کے فرزند تھے، چونکہ آپ کا نام بھی معین تھا اس لیے بڑے اور بزرگ بہ نسبت آپ کو خورد (یعنی چھوٹا) کہا کرتے تھے اور یہی تعریف آپ کے لیے بہت کافی ہے کہ آپ کامل درویش تھے۔ مرید ہونے سے قبل ہی ا تنی ریاضت اور مجاہدہ کیا تھا کہ بغیر کسی واسطہ کے خواجہ معین الدین چشتی سے فیض یاب ہوا کرتے تھے۔ آخر کار خواجہ صاحب کے ارشاد سے شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے مرید ہوئے اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔ شیخ حسام الدین سوختہ کے چھوٹے بیٹے شیخ قیام بابریال بڑے خوبصورت بہادر، شجاع اور پُرعظمت تھے۔ خواجہ معین الدین خرد اور شیخ قیام الدین کی کثرت سے اولاد ہوئی۔ مندو میں جو خاندان چشتیہ ہے وہ بھی انہی کی اولاد میں سے ہیں، اگرچہ ان کا نام شیخ قطب الدین تھا، لیکن محمود خلجی نے انہیں چشتیہ خاندان کا لقب دیگر دو ہزار سواروں کا سردار مقرر کردیا  تھا۔ سلطان محمود ن۔۔۔

مزید

حضرت شیخ حسام الدین سوختہ

آپ شیخ فخرالدین ابن شیخ الاسلام معین الدین چشتی سنجری کے صاحبزادے تھے۔ محبت کی آگ میں جلے ہوئے اور الفت کے قیدی تھی، آپ خواجہ نظام الدین اولیاء کی صحبت سے فیض یافتہ تھے، آپ کا مزار سانبھر میں مغرب کی طرف اجمیر کی سمت میں ہے۔ آپ کے والد بزرگوار نے آپ کا نام اپنے گمشدہ بیٹے کے نام پر رکھا۔ خواجہ معین الدین کی دو بیویاں  تھیں، ایک سید وجیہُ الدین مشہدی کی صاحبزادی، جو سید حسین خنگ سوار کے چچا تھے، جن کا مزار اجمیر کے قلعہ کے بالائی حصہ پر ہے۔ اس بیوی کا نام بی بی عصمت تھا اور دوسری کنیز تھیں، جن کا نام امۃ اللہ تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ خواجہ صاحب نے بوڑھے ہونے تک کوئی شادی نہ کی  تھی۔ ایک رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معین الدین! تو میرے دین کا معین و مددگار ہے، مگر میری سنت چھوڑ رکھی ہے۔ اتفاق سے اسی رات قلعہ نبیلی کا حاکم، جس ک۔۔۔

مزید

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ  عنہ

  نام ونسب مظہر انوار الجود الاحسان، معدن اسرار ذوق دو جدان، قتیل سیف محبت وعشق رحمٰن ملقب ملقب ذوی النورین، جامع القرآن مقتدائے دین امیر المومنین عثمان ابن عفان سید عالمﷺ کے خلیفہ سوم اور حضرت عمر کے بعد بہترین خلائق ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں آپ کی کنیت ابو عمر تھی جب اسلام میں حضرت بیبی رقیہ بنت رسول اللہﷺ کے بطن مبارک سے آپ کے ہاں فرزند عبداللہ متولد ہوئے تو آپ کی کنیت ابو عبداللہ ہوگئی۔ آپ کا نسب کواجہ کائناتﷺ کے نسب سے عبد مناف پر جا ملتا ہے آپ کی والدہ ماجدہ بھی اہل قریش میں سے تھیں اور مشرف باسلام بھی ہوئیں تھیں حضرت عثمان بہترین قریش اور مقتدائے نبی امیہ سمجھے جاتے ہیں۔آپ بنی امیۃ کے محبوب ترین بزرگ تھے۔ آپ بڑے مالدار اور صاحب جاہ وحشمت تھے۔ اور آپ اقارب واغیار کے ساتھ لطف وکرم، حلم و حیا، تقویٰ وعبادت، اور جو دو سخا میں ضرب المثل تھے۔ آپ کا سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ آنحضرتﷺ سے ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا حمید

آپ شاعر قلندر اور جامع خیرالمجالس اور شیخ نظام الدین اولیاء کے مرید تھے اور کبھی کبھی اپنے والد صاحب کی معیت میں شیخ نظام الدین اولیاء کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے۔ شیخ نظام الدین اولیاء کے بعض خلفاء سے اپنی استعداد اور قابلیت کے مطابق استفادہ کیا، اگرچہ آپ کے اشعار ایسے نہیں کہ جن کی وجہ سے آپ کو شاعر کہا جائے، تاہم لوگوں میں شاعر ہی مشہور تھے۔ لیکن زیادہ تر حمید قلندر سے مشہور تھے۔ ابتداً مولانا برہان الدین  غریب کے ملفوظات جمع کیے۔ پھر شیخ نصیرالدین  محمود چراغ دہلوی  کی خدمت میں آئے اور ان کے ملفوظات جمع کرکے ان کا نام خیرالمجالس رکھا۔ اسی کتاب میں آپ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ایک دن شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ ہم آپ کو قلندر کہا کریں یا صوفی؟ قلندر تو اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ ابھی آپ طالب ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ ایک دفعہ شیخ  نظام الدین اولیاء کا د۔۔۔

مزید

ذکر حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ

  امام اہل برو بجر، متبغِ احکام بہ رے ڈھر، محدث اسرار ذات،مفصح  رموز صفات محرم اشارات حضرت رب الارباب، ممتاز بعدالت، امیر المؤمنین حضرت عمر ابن الخطاب حضور سرور کونینﷺ کے دوسرے خلیفہ اور حضرت ابو بکر صدیق کے بعد افضل خلق ہیں۔ آپ کی کنیت ابو حفص ہے۔ آپ کو ابو حفصہ بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کا نسب حضرت سید البشر کے نسب اطہر کے ساتھ آٹھ واسطوں کے بعد حضرت کعب سے جا ملتا ہے۔ آپ کی والدہ ماجدہ بھی اہل قریش سے تھیں۔ خلافت  آپ حضرت ابو بکر صدیق کے استصواب سے آپ کے بد مسند خلافت پر متمکن ہوئے کتب معتبرہ میں آپ کی خلافت کا واقعہ یوں ہے کہ حضڑت ابو بکر صدیق نے اپنی آخری مرض کے دوران فرمایا کہ آج رات میں نے خلافت کی تفویض کے متعلق کئی بار استخارہ کیا اور حق تعالیٰ سے درخواست کی کہ مجھے اپنی رضا سے آگاہی فرمائی  جاوے تم لوگوں کے جاننا چاہئے کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ اور دنیا میں کون۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ شمس الدین دھاری

ابتدا عمر میں آپ کا پیشہ ملازمت تھا، بعد اس سے توبہ کرکے شیخ نظام الدین اولیاء کے حلقہ ارادت میں داخل ہوگئے اور شیخ کے ملفوظات پر ایک کتاب لکھی۔ ایک دن شیخ سے عرض کیا کہ حضرت اگر اجازت ہو تو آنے جانے والوں کے لیے ایک حجرہ تیار کرادوں۔  شیخ نے فرمایا کہ یہ کام اس سے کچھ کم نہیں، جس کو تم ترک کرکے آئے ہو، آپ کا مزار ظفرآباد میں ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ مویدالدین کری

آپ شروع عمر میں دنیاوی دھندوں میں مشغول رہے۔ بادشاہ اور شہزادہ سے یاری تھی، جس زمانہ میں سلطان علاؤ الدین خلجی جاگیردار اور امیر تھے تو آپ نے ان کے ہاں کار ہائے نمایاں انجام دیے، آخر کار شیخ نظام الدین اولیاء سے بیعت ہوئے اور اپنی خوشی سے دنیاوی کاروبار کو خیر باد کہہ دیا۔ جب سلطان علاؤالدین خلجی سلطنت کی مسند پر متمکن ہوئے تو خواجہ مؤیدالدین کری کو یاد کیا، لیکن جب سلطان علاؤالدین کو معلوم ہوا کہ خواجہ مؤید الدین کری شیخ نظام الدین اولیاء کے مرید ہوکر دنیاوی کاروبار ترک فرماچکے ہیں تو انہوں نے شیخ کی خدمت میں پیغام بھیجا، کہ آپ خواجہ مؤیدالدین  کو اجازت دےدیں تاکہ وہ ہمارے کاموں  میں ہمارے معین و مددگار ہوں، تو شیخ نظام الدین اولیاء نے جواب دیا کہ خواجہ کو اب ایک دوسرا کام درپیش ہے، جس کی وہ تیاری کر رہے ہیں۔  یہ جواب اس کو ناگوار گزرا اور اس نے کہا کہ شیخ نظام الدین! آپ سب۔۔۔

مزید

حضرت مولانا جلال الدین اودھی

آپ نے زہد، ورع، ترک دنیا، تجرد اور عزلت (جیسے اوصاف حمیدہ) سے موصوف تھے اور اپنے زمانے کے تمام لوگوں کی نظروں میں مکرم و معظم تھے۔ ایک مرتبہ شیخ نظام الدین کے ان دوستوں کو، جن کی زندگی کتب بینی اور بحث مباحثہ میں گذری تھی،  شوق ہوا کہ وہ مولانا جلال الدین اودھی سے کچھ علم حاصل کریں اور باہمی صلاح مشورے سے یہ طے پایا کہ مولانا ہی شیخ  نظام الدین سے اس کی اجازت حاصل کریں۔ مولانا نے جب شیخ کی خدمت میں یہ بات پیش کی تو شیخ نظام الدین سمجھ گئے کہ دراصل یہ انہی لوگوں کی خواہش ہے تو آپ نے مولانا سے فرمایا کہ میں کیا کروں۔ میں نے تو ان سے کچھ اور ہی کام لینا ہے اور یہ لوگ پیاز کی مانند پوست در پوست ہیں۔ اخبار الاخیار بہت بڑے دانشمند اور بے حد مشغول بحق تھے اور سماع کے عاشق و شیدا  آپ کا  ظاہر و باطن اہل تصوف کے اوصاف کے ساتھ موصوف تھا رحمۃ اللہ علیہ۔ کاتب حروف نے اپنے والد چچا۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ ضیاءالدین برنی

آپ تاریخ فیروز شاہی کے مصنف اور خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرید اور خواجہ صاحب کی کرم فرمائیوں کی وجہ سے ممتاز اور مجسمہ لطائف و ظرائف تھے، آپ کو ہر قسم کے اقوال اور حکایات یاد تھیں۔ علماء، مشائخ اور شعراء کی محفلوں اور مجلسوں سے اکثر لطف  اٹھاتے تھے، امیرخسرو اور میر حسن سے بے انتہا محبت کرتے تھے، ان دونوں کی صحبت سے بھی مستفیض ہوئے۔ ابتداً شیخ نظام الدین سے بیعت ہوکر غیاث پور میں رہنے لگے، آخر عمر میں طبعی لطافتوں اور فن مصاحبت کی وجہ سے سلطان محمد تغلق بادشاہ کے خاص مصاحب ہوگئے، سلطان محمد تغلق کے فوت ہوجانے کے بعد فیروز شاہ کی حکومت کے زمانہ میں ضروریات زندگی پر قناعت کرکے گوشہ نشین ہوگئے اور وفات کے وقت دنیا سے تہی دست اور پاک و صاف عالم پائیدار میں تشریف لے گئے، کہتے ہیں کہ خواجہ کے  جنارے پر صرف ایک بوریا تھا، شیخ نظام الدین اولیاء کے مقبرے میں اپنی والدہ کے پائیں دفن کیے ۔۔۔

مزید