آپ کا اس گرامی عبداللہ بن حارث طائی تھا جیلان کے مشائخ میں سے تھے، حضرت ابوبکر شبلی آپ کے احباب میں سے تھے، یوسف بن حسین رحمۃ اللہ علیہ مجلس میں بیٹھا کرتے تھے صاحب نفحات الانس نے آپ کی تاریخ وفات ۳۳۰ھ لکھی ہے۔ چوزیں دارفنا عزم سفر کرو بگو بوبکر اہل دین وصالش ۳۳۰ھ شیر دین عابد مسعود طاہر رقم کن زاہد محمود طاہر ۳۳۰ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ کا پورا نام ابو علی بن محمد بن سہیل ہے، دینوری کے اکابر مشائخ میں سے تھے۔ مصر میں سکونت پذیر رہے، شیخ ابوجعفر صیدلانی کے مرید تھے، شیخ ابوالحسن فرقانی اور عثمان مغربی رحمۃ اللہ علیہما آپ کے ہی مرید تھے، حضرت سے ممشاد دینوری فرمایا کرتے تھے، میں نے دینور میں ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا آفتاب کی دھوپ تھی ایک کرگس اپنے بازو پھیلائے آپ کے سر پر سایہ کر رہی تھی، میں نے غور کیا تو وہ ابوالحسن صانع تھے، میں نے کہا کہا س قسم کے جانور بھی آپ کی غلامی میں پڑے ہیں۔ شیخ عالم ابوالحسن دینور سالِ تاریخ رحلتش سرور یافت چوں از جہاں بخلد مکان بوالحسن بو علی مجیب بدان مسعود طالب حق (۳۳۰ھ)۔ زیدہ حق ولی محسن(۳۳۰ھ)۔ محب دینوری(۳۳۰ھ) بھی تاریخ وفات ہیں۔ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ کا اسم گرامی اسحاق تھا، آپ کے والد کا نام محمد تھا، آپ علماء و مشائخ میں مقبول تھے سیّد الطائفہ حضرت جنید بغدادی اور عمرو بن عثمان مکی کے ہم صحبت تھے، کئی سال مکہ مکرمہ میں مجاوری کرتے رہے، ابو یعقوب صرفی کے مرید خاص تھے۔ آپ ۳۲۹ھ میں فوت ہوئے، بعض تذکروں میں ۳۳۰ھ درج ہے۔ شد چو یعقوب از جہاں در خلد گفت مطلوب دین ابو اسحاق ۳۲۹ھ سالِ وصلش شد از خرد مطلوب ہم امام ولی ابی یعقوب ۳۳۰ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
اسم گرامی محمد بن عبدالوہاب تھا، آپ حضرت ابوالحفص حداد اور حمدوں قصار کے اصحاب میں سے تھے اپنے زمانہ کے امام تھے، ظاہر و باطن علوم میں یگانۂ روزگار تھے، تفسیر و حدیث اور فقہ میں یکتائے روزگار تھے، نیشاپور مین آپ کی شہرت کے جھنڈے بلند ہوئے۔ آپ کے ہمسایہ میں ایک ایسا شخص تھا جسے کبوتر بازی کا شوق تھا، اس نے ایک دن کبوتر اڑانے کے لیے پتھر مارا جو حضرت ابو علی قدس سرہ کی پیشانی پر آلگا خون کے فوارے چھوٹ پڑے آپ کے عقیدت مند کبوتر باز کو پکڑنے کے لیے دوڑے مگر آپ نے انہیں منع کردیا، اور کہا فلاں درخت سے ایک لمبی سی شاخ کاٹ کر اسے دے دیں اور اسے کہیں کہ اس سے کبوتروں کو اڑایا کرو اور پتھر نہ مارا کرو جب کبوتر باز نے آپ کا یہ حسن سلوک دیکھا کبوتر بازی ترک کردی۔ ایک دن آپ نے ایک جنازہ دیکھا، جسے تین مرد اور ایک عورت اٹھاکر لے جا رہی ہے، آپ نے اس عورت کو فارغ کردیا آپ نے مردے کے بارے میں۔۔۔
مزید
آپ کا نام علی تھا، بغداد کے قدیم مشائخ میں سے تھے، سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی، حضرت سہیل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہما سے مجالس کرتے تھے، ایک عرصہ تک مکہ مکرمہ میں مجاور رہے یاور رہے، اولیاء کرام میں دو ایسے بزرگ ہوئے ہیں جن کا نام مزین تھا ایک مزین صغیر اور دوسرے مزین کبیر تھے دونوں بغداد سے تعلق رکھتے ہیں، مزین صغیر کا مزار مکہ مکرمہ میں ہے دونوں مزین خالہ زاد بھائی تھے۔ ایک دن حضرت شیخ مزین ایک وادی سے گزر رہے تھے ایک شیر کو دیکھا جو آپ کو غصے سے دیکھ رہا تھا آپ نے فرمایا: ثم اماتہ فاقبرہ،(پھر تمہیں مارے گا اور قبر میں ڈالے گا) اسی وقت شیر زمین پر بیٹھ گیا اور آپ نےدیکھا کہ وہ مرا پڑا تھا حضرت شیخ پہاڑی پر پہنچے تو آپ نے شیر کا حشر دیکھ کر فرمایا: ثم اذا شاء انشرہ (پھر جب چائے گا اسے اٹھائے گا ) شیر اسی وقت زندہ ہوگیا اور جنگل میں چلا گیا۔ آپ کی وفات ۳۲۸ھ میں ہوئی۔۔۔۔
مزید
کنیت ابواسحاق تھی، مشائخ شام میں سے تھے، حضرت ذوالنون مصری، حضرت جنید ابو عبداللہ جلا سے صحبت رکھتے تھے، عمر بہت لمبی پائی تھی، آپ کا ایک مرید ایک وادی سے گزر رہا تھا اس نے دیکھا کہ ایک غضب ناک شیر اس پر حملہ کرنا چاہتا ہے آپ کی گدڑی میں حضرت شیخ ابراہیم کی گدڑی کا ایک ٹکڑا چسپاں تھا شیر کی غضب ناک نگاہیں اس ٹکڑے پر پڑیں تو سر زمین پر رکھ دیا اور جنگل کی طرف بھاگ نکلا آپ کے خرقہ کی حرمت شیروں کے ہاں بھی پائی جاتی تھی۔ آپ کی وفات ۳۲۶ھ ہے۔ چو ابراہیم بن داود ورقی بگو داود ورقی سال تاریخ ۲۲ سفر و رزید در جنت ز دینا بسال رحلت آں شاہ والا (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
اسم گرامی محمد بن علی جعفر تھا بغداد کے رہنے والے تھے اور حضرت جنید بغدادی کے مریدوں میں سے تھے ہمہ صفت موصوف تھے زہد و تقویٰ میں معروف یگانہ تھے، مشائخ کبار میں مانے جاتے تھے سالہا سال حرم محترم میں رہے، آپ نے چراغ حرم کا خطاب پایا، ساری رات عبادت الٰہی میں مشغول رہتے، طواف کعبہ کے دوران بارہ ہزار بار قرآن پاک ختم کیا کعبۃ اللہ کے ناؤداں کے نیچے بیٹھ کر تیس سال عبادت کی ان تیس سالوں میں ایک بار بھی زمین پر پشت لگاکر نہ سوئے۔ شیخ ابوالحسن مزین فرماے ہیں میں ایک بار سفر حجاز پر تھا زاد راہ کے بغیر ہی ایک صحرا میں فروکش ہوا میرے پاس نہ پانی تھا نہ سواری چلتے چلتے ایک چشمہ پر رکا، بیٹھے بیٹھے سوچنے لگا یہ سارا سفر بغیر زادراہ اور سواری کے گزرا ہے حوض کے کنارے سے مجھے ایک گرجدار آواز آئی ابوالحسن ان بیہودہ خیالوں سے نفس کو خوش نہ کرو، میں نے دیکھا حضرت ابوبکر کتانی تھے میں اسی وقت اللہ ۔۔۔
مزید
اسم گرامی محمد بن موسیٰ تھا، ابن فرغانی کے نام سے شہرت حاصل کی حضرت جنید بغدادی اور حضرت نوری رحمۃ اللہ علیہما کے مشہور خلفاء میں شمار ہوتے تھے علوم ظاہر و باطن اسرار و توحید میں جامع تھے علم اشارات میں آپ کی قابل قدر تصانیف یادگار زمانہ رہے حضرت شیخ عبداللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سارے خراساں میں توحید کی تبلیغ جس قدر شیخ ابوبکر واسطی رحمۃ اللہ علیہ نے کی کسی دوسرے بزرگ نے نہیں کی۔ طبقات سلمی کے مؤلف نے آپ کا سن وفات ۳۲۱ھ لکھا ہے مگر صاحب نفحات الانس نے ۳۱۶ھ تحریر کیا ہے، دوسری طرف محاسن الاخبار کے مصنف نے ۳۰۸ھ لکھا ہے۔ ابوبکر بود صادق صدیق مقتدا گفتم بسال رحلت او قول مختلف پیر زمانہ عابدِ حق شیخ متقی بوبکر واسطی و ابی بکر واسطی ۳۱۶ھ ۳۲۱ھ عابد ابوبکر محاسن الاخبار نے تاریخ وفات لکھی ہے۔ (۳۰۸ھ) (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
کنیت ابوالحسن، اسم گرامی محمد بن اسماعیل تھا، سامرہ سے تعلق رکھتے تھے بغداد میں مجالس قائم کیں، حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے، حضرت جنید بغدادی کے احباب میں سے تھے، شیخ نوری اور ابن عطاء کے استاد تھے حضرت ابراہیم خواص اور شبلی رحمۃ اللہ علیہما نے آپ ہی کے ہاتھ پر توبہ کی، آپ نے ہی حضرت شبلی کو حضرت جنید بغدادی کی مجالس میں جانے کا حکم دیا تھا۔ حضرت جامی رحمۃ اللہ علیہ نفحات الانس میں لکھتے ہیں کہ اگرچہ آپ نساج کے نام سے مشہور لیکن حقیقت میں آپ نساج (جولائے) نہیں تھے، نساج نام رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ ابتدائی زمانہ زندگی میں آپ نے اللہ سے یہ وعدہ کیا کہ میں کھجوریں ہرگز نہیں کھاؤں گا حالانکہ یہ میوہ مجھے بڑا دل پسند ہے، ایک دفعہ سفر میں تھے کہ نفس کی خواہش نے آپ کو مغلوب کرلیا کہ وہ کھجور کھائیں کچھ کھجوریں اٹھائیں اور ان میں سے ایک دانہ کھالیا، ایک ش۔۔۔
مزید