آپ بابا اسحاق مغربی کے خلیفہ نامدار تھے۔ گجرات کے مشہور مشائخ میں سے تھے۔ صاحب معارج الولایٔت فرماتے ہیں کہ شیخ احمد کتھو کے پیر و مرشد بابا اسحاق میرٹھ کی طرف آئے دریائے جون (جمنا) کے کنارے ایک قوت کے درخت کے نیچے چند روز یاد خدا وندی میں گزارے ایک دن میرٹھ کا ایک دولت مند ہندو مہش نامی جس نے زنّار پہنا ہوا تھا۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ چونکہ وہ بے اولاد تھا۔ اولاد کے لیے دعا کی درخواست کی۔ آپ نے فرمایا تمہیں یاحی یاقیوم کے نام کی برکات سے پانچ بیٹے نسیب ہوسکتے ہیں مگر تمہیں پہلا بیٹا مجھے دینا ہوگا۔ اسحاق قدس سرہٗ ہندوستان سے خراسان چلے گئے اور وہاں کئی سال رہے ایک عرصہ کے بعد دہلی واپس آئے اور آپ کی کرامت و ولایٔت نے بڑی شہرت حاصل کی کچھ دنوں بعد آپ میرٹھ گئے اور توت کے اسی درخت کے نیچے جو اب تک خشک ہوچکا تھا قیام فرما ہوئے درخت آن واحد میں سر سبز ہوگیا جس سے ہر دیکھنے والے متحیر۔۔۔
مزید
آپ کشمیر کے برگزیدہ بزرگان دین میں سے تھے جامع علوم ظاہری باطنی مظہر تجلیات صوری و معنوی تھے۔ زہدو ورع تقویٰ و عبادت میں یگانہ و طاق تھے۔ ریاضت و مجاہدہ اور خلق خدا کی خدمت میں شہرۂ آفاق ہوئے ہیں۔ تیس سال کی عمر میں توبہ نصیب ہوئی اور زہدو ریاضت کی وجہ سے متقدمیں اور متاخریں کے لیے باعث صد افتخار ہے۔ جب پہلے پہل آپ کو اللہ کی محبت کے جذبہ نے اپنی طرف کھینچا تو آپ بارہ سال تک بلا کھائے پیئے اور بلا سوئے صحراء و بیابان میں ریاضت میں مشغول رہتے تھے جب بھوک ستاتی کاسنی کے پتے پانی میں جوش دے کر پی لیتے تاکہ جان کا سلسلہ قائم رہ سکے پھر اتنا کھانا پینا بھی چھوڑ دیا۔ اور صرف دودھ کا ایک گلاس غذا بنائی نفس کی خواہشات کے برعکس کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے دودھ کو نفس کی خواہش جانتے ہوئے چھوڑ دیا۔ اور اڑھائی سال تک آب جوہر اکتفا کیا چھبیس سال تک غلّہ چکھا تک نہیں جب حضرت میر محمد بن سید می۔۔۔
مزید
آپ کی کنیت ابو بکر تھی۔ ظاہری اور باطنی علوم میں جامع تھے اوّل سے آخر تک اللہ کی توفیق حاصل ہوئی اور جادہ شریعت اور راۂِ سُنت پر گامزن رہے۔ طریقت میں شیخ نورالدین عبدالرحمان قریشی مصری قدس سرہٗ کے مرید ہوئے وہ شیخ سیف نورانی کے مرید تھے اور وہ شیخ تاج الدین حسن شمشیری اور وہ شیخ محمود اصفہانی اور وہ شیخ عبدالصمد نظیری اور وہ شیخ علی برغش اور وہ شیخ شہاب الدین سہروردی کے مرید تھے رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کیتے ہیں آپ کو آخرین عمر میں ایسا جذب حاصل ہوا کہ رات بھر اپنے آپ سے بھی غائب رہتے اور خاموش پڑے ہوتے آپ ہفتہ کی رات ۸۳۸ھ میں واصل بحق ہوئے۔ پہلے آپ کو قصبہ بالین میں امانتاً دفن کیا گیا۔ پھر آپ کی نعش کو درویش آباد میں لے جاکر دفن کیا گیا۔ پھر وہاں سے بھی ہرات کی عیدگاہ کے پاس سپرد خاک کیاگیا آپ کے مزار گوہر بار پر ایک عالی شان عمارت بنائی گئی تھی۔ جناب پیر زین الدین شیردین۔۔۔
مزید
فرد زمانہ اور فاضل یگاننہ تھے۔ دکن کے علاقہ مہایٔم میں سکونت پذیر تھے تفسیر مہایٔم آپ کی تالیف ہے جو اہل علم میں مقبول ہوئی۔ آپ کی وفات ۸۳۵ھ میں ہوئی۔ شد ز دنیا چو در بہشت بریں گود صالش علی عدیم المثل ۸۳۵ھ والی ملک دین علی ولی ہم بخواں زبدۂ بہشت علی ۸۳۵ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ موّحد صوفیہ میں سے تھے اور گجرات میں قیام پذیر تھے۔ علوم ظاہر و باطن کے عالم تھے اور صاحب تصانیف و تالیفات تھے۔ تفسیر رحمانی آپ ہی کی تالیف ہے اور اِوّلۃ التوحید کے نام سے ایک رسالہ بھی لکھا تھا جو بڑا مشہور ہوا۔ آپ ۸۳۵ھ میں فوت ہوئے۔ شیخ دین نبی و پیر و علی سال وصلش چو از خر وجستم بود عالی وَلی گجراتی گفت کامل علی گجراتی ۸۳۵ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
صاحب ورع و تقوی بزرگ تھے علوم حدیث تفسیر میں یگانہ روزگار تھے۔ بیس سال میں ہی مختلف اقسام کے علوم مروّجہ پر دسترس حاصل کرلی تھی۔ اور سلسلۂ تدریس جاری کردیا تھا۔ آپ کی تصانیف میں سے شرح قطبی سراجی بہت مشہور کتابیں ہیں۔ آج تک درسیات میں پڑھائی جاتی ہیں۔ تفسیر کشفاف پر (اسرارالتنزیل)حاشیہ لکھا۔ آپ کی ولادت ۷۴۰ھ میں ہوئی مگر وفات ۸۱۸ھ میں ہوئی۔ اشرف و اکرم شریف دوجہاں ہست تولیدش خلیل اہل دل ۷۴۰ھ زینت اسلام پیر دین حنیف رحلتش سید ولی حق شریف (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ حضرت امیر کبیر ہمدانی کے فرزند ارجمند اور خلیفہ اعظم تھے آپ اپنے والد کی وفات کے بائیس (۲۲) سال بعد خطہ کشمیر میں وارد ہوئے اور بارہ سال تک ہدایت خلق میں مشغول رہے اور اسلام کی اشاعت و ترویج میں مصروف رہے سلطان قطب الدین اور سلطان سکندر بت شکن آپ کے حلقۂ اطاعت میں رہتے تھے سیّدہ صالحہ بی بی تاج خاتون جو حضرت حسن بہادر کی بیٹی تھیں آپ کے نکاح میں آئیں آپ کی رفافت صرف پانچ سال رہی تو وفات پاگئیں سلطان قطب الدین کے وزیر مملکت ملک سبہہ (جو آپ کے دستِ حق پرست پر ایمان لایا تھا) کی بیٹی آپ کے عقدثانی میں آئی آپ نے بادشاہ کے لیے ایک رسالہ لکھا تھا جو علم تصوّف پر مشتمل تھا۔ منطق کی ایک کتاب سلطان کے لیے لکھی یہ کتاب رات بھر میں لکھی گئی تھی آپ کی کوششوں سے اسلامی تہذیب نے اس قدر ترقی کی تھی کہ سارے کشمیر میں مزامیر اور لعو و لعب کی محفلیں بند ہوگئیں تھیں۔ دربار سلطانی کے علاوہ ڈھول کی ص۔۔۔
مزید
آپ شیخ اسماعیل قدس سرہٗ کے مرید تھے حضرت شیخ اسماعیل شیخ نورالدین غزالی کے احباب میں سے تھے جو شیخ کمال خخبدی کے مصاحب تھے مولانا شرین بڑے صاحب تقوی اور ورع بزرگ تھے آپ کے اشعار حقایٔق و دقائق سے پُر تھے مغربی تخلص تھا۔ یہ ان کا ایک مشہور شعر درج کیا جاتا ہے۔ چشم گراین ست ابروئے این نازو آن وعثوہ این الوداع اے زہدو تقویٰ الفراق اے عقل و دین آپ کا وصال ۸۰۹ھ میں ہوا۔ ایک قول میں ۸۰۸ھ میں ہوا جبکہ آپ کی عمر ساٹھ سال تھی۔ چو شرین رخت از دنیائے دوں بست وصالش ہست شرین قطب واصل ۸۰۸ھ دو بارہ ہادی حق قطب شرین ۸۰۹ھ بحنت یافت از درگاۂِ حق بار دگر از دل ندا شد ناج ابرار ۸۰۸ھ رقم شد رحلت آن شیخ حق یار ۸۰۹ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ بڑے عالی ہمت بزرگ تھے آداب شریعت اور مقامات طریقت کی حفاظت کرتے تھے علوم ظاہری اور باطنی میں طاق تھے۔ ترک و تجرید میں معروف تھے صرف و نحو فقہ و حدیث اور تفسیر کے علاوہ منطق معقولات و معانی میں یدطویٰ رکھتے تھے مختصر معانی اور مطوّل آپ کی مشہور تصانیف ہیں آپ ۸۰۸ھ میں فوت ہوئے تھے۔ جناب شیخ سعدالدین اسعد جو جستم سالِ ترحیلش ز ہاتف کہ بود او عالم و عامل بہشتی ندا آمد بگو کامل بہشتی ۸۰۸ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ بہت بڑے بزرگ اور صاحب حال تھے ظاہری طور پر لباس شعراء میں گزارا۔ مگر حقیقت میں صاحب عرفان تھے۔ ایک دفعہ دریا میں سخت طغیانی آئی آپ جس گاؤں میں سکونت پذیر تھے موجوں کی زد میں آگیا لوگوں کو خطرہ لاحق ہوگیا کہ دریا گاؤں کو بہا لے جائے گا آپ کے پاس صورت حال بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا۔ میرا خیمہ دریا کے کنارے لگایا جائے ان شاء اللہ دریا ہٹ جائے گا ایسا ہی کیا۔ پانی اپنی جگہ سے ذرہ بھر آگے نہ بڑھا سفینۃ الاولیاء کے مولّف نے آپ کا سن وفات ۸۰۳ھ لکھا ہے مگر تذکرۃ العاشقین نے ۸۰۲ھ لکھا ہے آپ کا مزار پر انوار تبریز میں واقع ہے۔ شیخ کامل کمال دین نبی گفت دل بہر سال ترحیلش ہم قبول دگر رقم کردم بود اہل جمال و جاہ و جلال گوز ہے آفتاب بدر کمال ۸۰۳ھ منغ حسن ماہتاب جمال ۸۰۲ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید