کنیت ابو محمد تھی، حضرت شبلی کے مرید تھے، سیّد الطائفہ حضرت جنید بغدادی اور حضرت شبلی آپ کا بڑا احترام کرتے تھے۔ اور برسر مجلس آپ کے کمالات کی تعریف فرماتے، جعفر خدّا قربت کی وجہ سے ہماری نسبت اللہ کے قریب ہے، شیخ بندر ابن فرمایا کرتے تھے کہ شیخ جعفر خدّا سے بڑھ کر میں نے صاحبِ حال کوئی نہیں دیکھا، حقیقت یہ ہے کہ وہ حضرت شبلی سے بھی زیادہ بزرگ تھے۔ شیخ جعفر قطب دین مرد خدا ناصر آمد سال ترحیلش بدال ۳۴۱ھ رفت مثل گنج چوں در زید گل نیز کامل طالب حق ندہ دل ۳۴۱ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ کا نام حسن ابن علی بن موسیٰ تھا، آپ شیخ ابو علی کاتب اور ابویعقوب موسیٰ رحمۃ اللہ علیہما کے مرید تھے مصر سے دس میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں مستوفی ہے آپ اس میں رہتے، آپ فرماتے ہیں میں نے ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ نے فرمایا: علی تم درویشوں سے محبت رکھتے ہو، انہی کی صحبت کی دولت پاتے ہو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ایسا ہی ہے آپ نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں درویشوں کا وکیل بنادوں تاکہ تم ان کی مشکلات اور مہمات میں امداد کرسکو، میں نے عرض کی یارسول اللہ، مجھے عصمت، کفایت اور دیانت کے اوصاف سے متصف فرماکر یہ ذمہ داری دین مباوا میں کوئی غلطی کرجاؤں، اور مجھے سزا ملے، چنانچہ آپ نے مجھے یہ کام تفویض کردیا، تمام درویش مییر طرف متوجہ ہوئے، اور اپنے معاملات میرے سامنے لانے لگے، آپ کی وفات ۳۴۰ھ میں ہوئی تھی۔ بو علی چوں رفت زیں دارِ ف۔۔۔
مزید
آپ خواجہ نازک کے خلف الصدق تھے، ظاہری اور باطنی کمالات سے مرصع تھے، اپنے والد بزرگوار کی وفات کے بعد مسند ارشاد پر جلوہ فرما ہوئے، کچھ عرصہ تک مخلوق خدا کی ہدایت میں مصروف رہے، جذب و استغراق اور مدہوشی ہر وقت غالب رہتی، ایک وقت آیا کہ مکمل طور پر مجذوب حق ہوگئے آپ نہم ماہ محرم الحرام ۱۰۲۷ھ میں فوت ہوئے۔ چوں محمدعلی ولی عالیسالِ تاریخ رحلتش سرور شد بجنت بفضل ربانیشد ندا تاج شاہ نورانی۱۰۲۷ھ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔
مزید
سید یوسف بن جمال حسینی: عالمِ فاضل،جامع منقول و معقول،فقیہ، اصولی اور مولانا جلال الدین رومی کے شاگردوں میں سے تھے۔آپ کے آباء واجداد مشہد سے آکر ملتان میں متوطن ہوئے تھے اور آپ ہذات خود سلطان فیروز کے عہد میں سپا ہیانہ لباس میں ملتان سے دہلی میں آئے۔سلطان نے آپ کی فضیلت و علمیت کو مشاہدہ کر کے آپ کو اس مدرسہ میں مدرس مقرر کیا جو حوض خاص پر تعمیر کرایا اور نیز اپنا مقبرہ وہاں بنوایا تھا،جہاں آپ کئی سال تک مسند درس و افادت پر متمکن رہ کر عوام و خواص کو اپنے چشمۂ علوم سے سیراب کرتے رہے۔ صاحبِ اخبار الاخیار لکھتے ہیں کہ آپ کو ہر ایک جمعہ کی رات کو آنحضرتﷺ کی زیارت ہوا کرتی تھی۔آپ نے قاضی ناصر الدین بیجاوی کی کتاب لُبّ الالباب فی علم الاعراب پر جو ایک متن متین اور اس ولایت میں مشہور و معروف ہے،ایک بسیط شرح نہایت تنقیح و ایجاز و ۔۔۔
مزید
علی سیرافی: علاء الدین لقب تھا۔عالمِ فاضل،فقیہ کامل تھے۔علم جلال الدین کرلانی صاھبِ کفایہ حاشیہ ہدایہ تلمیذ حسن بن علی سغناقی صاحبِ نہایہ اور عبدالعزیز بخاری صاحب کشف سے حاصل کیا اور آپ سے سراج الدین عمر قاری الہدایہ استاد بن ہمام نے ہدایہ پڑھا اور ۷۹۰ھ میں وفات پائی۔سیرافی سیراف کی طرف منسوب ہے جو بلادِفارس میں ایک شہر حد کرمان سے ملا ہوا ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
ابراہیم بن محمد بن عمر بن احمد بن ہبۃ اللہ عقیلی حلبی المعورف بہ ابنِ عدیم: ماہ ذی الحجہ۱ ۷۱ھ میں پیدا ہوئے،بڑے دیندار عالم فاضل تھے۔نماز ہمیشہ جماعت کے ساتھ پڑھا کرتے اور حلب کے قاضی تھے۔وفات آپ کی ماہ ذی الحجہ۷۸۷ھ میں ہوئی۔’’معدنِ برکات‘‘ تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
احمد بن علی بن منصور دمشقی: ابو العباس کنیت اور شرف الدین لقب تھا۔ اپنے وقت کے امامِ فاضل اور فقیہ محدث تھے۔ولایت مصر کی قضاء آپ کو تفویض کی گئی۔آپ نے کتاب مختار کو جو فقہ میں ہے،مختصر کر کے اس کا تحریر نام رکھا اور نیز اس پر شرح لکھی مگر ابھی کامل ہوئے نہیں پائی تھی کہ آپ نے ۷۸۲ھ میں دمشق میں وفات پائی۔’’نور کشور‘‘تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمود بن احمد بن مسعود بن عبدالرحمٰن قونوی: کنیت آپ کی ابو الثناء اور لقب جمال الدین تھا عالم فاضل،جامع علوم عقیلہ و نقلیہ تھے۔علم اپنے باپ ابی العباس احمد شاگرد جلال الدین خبازی تلمیذ عبد العزیزی بخاری شاگرد فخر الدین محمد ما یمر غی سے اخذ کیا اور تدریس و افتاء کا کام دیا اور دمشق کے قاضی ہوئے۔کتاب منتہیٰ شرح مغنی فی الاصول،قلائد شرح عقائد،زہدۃ شرح عمدہ،خلاصۃ النہایہ حاشیۃ الہدایہ،تقریری شرح تحریر القدوری،تہذیب احکام القرآن،جمع بین و قفی ہلال والخصاف،اعجاز فی الاعتراض علی الادلۃ الشرعیہ،معتمدہ مختصر مسند ابی حنفیہ،معقتد شرح معتمد وغیرہ تسنیف کیں،علاوہ ان کے ایک مقدمہ رفع الیدین فی الصلوٰۃ تصنیف کیا اور اس میں اس بات کو ثابت کیا کہ رفعِ بدین مفس صلوٰۃ نہیں۔وفات آپ کی دمشق میں ۷۷۷ھ[1]یا ۷۸۱ھ میں ہوئی۔’’امیر کشورُ‘‘اور ’’روشن گہر‘‘۔۔۔
مزید
منصور بن احمد بن یزید خوارزمی: ابو محمد کنیت تھی،بڑے عالم فاضل، جامع علوم و فنون تھے۔کتاب معنی خبازی کی شرح نہایت مفید تصنیف کی اور ۷۷۵ھ میں وفات پائی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید