جمعرات , 21 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 09 April,2026

پسنديدہ شخصيات

ملا عبد الرزاق بانڈی  

              ملا عبد الرزاق بانڈی: بڑے عالم فاضل اور معقولات میں بے نظیر تھے، شرح تجرید کا حاشیہ لکھا اور فرماتے تھے کہ  میری تالیف کو سمجھنا تو کجا بڑے بڑے عالم صرف پڑھ بھی نہیں سکتے۔بعد تحصیل کمالات کے سفر اختیار کیا اور شاہجہان باشاہ نے آپ کو مدرسہ کابل کا مدرس مقرر فرمایا،کئی راتیں کتاب محاکمات پر لکھتے رہے جس سے آپ کے دماغ میں خلل ہوگیا اور چھری اپنے خلق پر مارلی مگر شاگردوں نے اسی وقت زخم کو باندھ دیا اور کابل کی مدرسی سے استعفاء دےکر کاشمیر میں آئے اور یہیں وفات پائی،آپ کے ماموں ملّا فاضل بھی عالم مدقق اور بحشی مشہور تھے جنہوں نے اکثر حواشی مولوی عبد الحکیم سیالکوٹی کا رد لکھا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ملا محمد صادق حکیم دانا

            ملا محمد صادق معروف بہ حکیم دانا ابن مولانا کمال الدین سیالکوٹی: جامع علوم عقلیہ و نقلیہ اور درجۂ تدقیق و تحقیق پر فائز تھے۔جہانگیر شاہ نے آپ کی کمالیت کا شہرہ سن کر آپ کو اپنی  مجلس میں  باریاب کیا۔جب علمائے اہل تسنن و تشیع کا مباحثہ اور معارضہ ہوا تو اہلِ تسنن کی طرف سے آپ ہی مناظر تھے یہاں تک کہ ملا حبیب اللہ شیعہ کو آپ نے ساکت کردیا اور اپنے گھر محلہ جمالیہ میں مدفون ہوئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمود بن محمد مکحولی نسفی

میمون بن محمد[1]بن محمد بن معتمد بن محمد بن مکحول بن فضل مکحولی نسفی: ابو المعین کنیت تھی،امام فاضل،جامع فروع واصول تھے۔کتاب تبصرۃ الدولہ و تمہید قواعد التوحید اور کتاب المناہج اور شرح جامع کبیر وغیرہ تصنیف کیں اور علاء الدین ابو بکر محمد سمر قندی صاحبِ تحفۃ الفقہاء نے آپ سے تفقہ کیا۔   1۔ ولادت ۴۱۸؁ھ،وفات ۵۰۸؁ھ،حدیقہ پنجم میں ان کے حالات ملاحظہ کیے جائیں۔(مرتب)  حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

  مولا محمد حنفی  

            مولیٰ محمد حنفی: ولایت شام کے رہنے والے تھے،اکثر علوم نقلیہ کے حفظ تھے خصوصاً تفسیر و حدیث و فقہ اور تصوف میں بڑے ماہر تھے،شمائل ترمذی کی شرح تصنیف کی،اکثر اوقات فتوحاتِ مکیہ کو اپنے مطالعہ میں رکھتے تھے اور بسا اوقات مجرووں کی وضع اختیار کرلیتے تھے۔بعض دفوہ آپ کا یہ حال ہوتا تھا کہ بہت سا مال آپ کے پاس جمع ہوجاتا تھا اور تھوڑیدیر میں اس کو خرچ کر دیتے تھے اور جس کو چاہتے  دیدیتے تھے،کئی سال تک مکہ معظمہ میں رہتے رہے اور شیخ علی متقی کی صحبت میں حاضر ہوتے اور ان کا بڑا ادب و اعتقاد کرتے تھے۔جب شیخ موصوف وفات پاگئے تو ان کے خلیفہ شیخ عبد الوہاب کی خدمت میں آتے جاتے  اور ان کی بھی بڑی تعظیم و تکریم کرتے۔           کہتے ہیں کہ آپ کئی دفعہ فوت ہوئے اور پھر زندہ ہوئے۔شیخ عبد الھق۔۔۔

مزید

شیخ علی بن جار اللہ قرشی

                شیخ علی بن جار اللہ قرشی خالدی مخزومی مکی خالد بن ولید کی اولاد میں سے مکہ معظمہ میں رہتے تھے۔اپنے وقت کے فقیہ فاضل،محدث کامل،مفتی و خطیب مکہ تھے۔آپ ہی تھے جو اس وقت صحیح بخاری کا جیسا کہ چاہئے درس علی الاطلاق دے سکتے تھے،فصاحت و بلاغت اور سلامت طبع و لطافت تقریرو تحریر اور حسن خلق میں دستگاہ کامل رکھتے تھے،علاوہ اس کے محبت درویشوں اور اعتقادمشائخ اور قلت طعام اور ریاضت نفس میں بھی آپ کو بہرہ وافرحاصل تھا،تمام روز حصائے حرم شریف پر بیٹھ کر امور دینیہ اور مقاصد علمیہ کو انجام دیتے اور افتاء و تدریس میں مصروف رہتے تھے،اکابر و شرفاء کی تزویج و تخطیب میں بھی آپ ہی سے لوگ تبرک چاہتے تھے،صرف آپ اور آپ کے والد بزرگوار ہی حنفی المذہب تھے اور سب قوم آپ کی شافعی تھی،آپ کو فتوےٰ کے وقت کتاب دیکھنے کی کچھ احتیاج نہ ہوتی تھی۔ ش۔۔۔

مزید

ابو القاسم تنوخی

ابو القاسم تنوخی: اپنے زمانہ کے امام فقیہ،ادیب،محدث،مفسر تھے۔ علم حمید الدین ضریر متوفی ۶۶۷؁ھ تلمیذ شمس الائمہ کردری شاگرد صاحب ہدایہ سے پڑھا اور آپ سے شیخ وجیہ الدین دہلوی اور ملک العلماء سراج الدین سقفی دہلوی اور شمس الدین خطیب وغیر ہم نے فقہ پڑھی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

خواجہ زین علی پتورانیورای 

            خواجہ زین علی پتوراینورای: عالم فاضل،محدث کامل تھے،شیخ یعقوب صرفی اور ملا شمس الدین پال سے علوم اخذ کر کے حضرت مخدوم شیخ حمزہ کے مرید ہوئے اور با وصف رتبۂ فضیلت کے معارف و دقائق تصوف سے حصہ تام حاصل کیا اور اواسط عمر میں فقر اختیار کر کے زیارت حرمین شریفین کو تشریف لے گئے اور وہان شیخ ابن حجر مکی سے حدیث کی اجازت لے کر کاشمیر میں واپس آئے اور افادہ نشر علوم میں مصروف ہوئے۔جب وفات پائی تو محلہ راینوری میں اپنے مسکن کے متصل مدفون ہوئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

اخوند ملّا جمال الدین

                اخوند ملا محمد جمال الدین: اپنے وقت کے عالم فاضل  متجر روزگار، واقف اسرار تھے،باوجود کمال شغل علوم ظاہری کے بابا فتح اللہ حقانی کی خدمت میں حاضر ہوکر استفاضہ امور باطنی کا کیا اور رات دن تدریس علوم ظاہری و باطنی میں مشغول ہوئے۔شیخ نصیر الدین ابو الفقراء نے آپ سے پڑھا اور حدیث کی سند حاصل کی، علاوہ اس کے اکثر اکابر وقت نے مچل بابا نصیب و شیخ اسمٰعیل چشتی وغیرہ کے آپ سے استفادہ کیا۔آپ اکثر شیخ نور الدین ولی کی تربت پر زیارت کے لیے جایا کرتے تھے،ایک دن شیخ نصیر الدین نے کہا کہ حسب ارشاد نبوی فضل العالم علی العابد کفضلی علیٰ ادناکم کے آپ کی فضیلت شیخ نور الدین سے زیادہ ہے۔آپ نے فرمایا کہ ایک روز ہم آنحضرتﷺکو خواب میں دیکھا کہ شیخ نور الدین آپ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں،آپ نے فرمایا کہ اے جمال! یہ شیخ نور الدین ہے،جو کا۔۔۔

مزید

صاحب اصول الشاشی

نظام الدین شاشی مصند مختصر اصول الشاشی: فقہ واصول میں فرید العصر وحید الدہر تھے۔اصول فقہ میں مختصر اصول الشاشی تصنیف کی اور اس کا نام خمسین رکھا اور اس نام رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی عمر اس وقت پچاس سال کی تھی اور آپ نے یادگار کے طور پر اس کا نام رکھ دیا۔یہ کتاب آپ کی ایسی مقبول خاص و عام ہوئی کہ تدریس کی کتب میں داخل ہو گئی۔اس کی شرح ۷۸۱؁ھ میں مولیٰ محمد بن حسن خوارزمی[1]الشہیریہ بہ شمس الدین شاشی نے تصنیف کی۔   1۔خمسین فی اصول الدین،امام فخر الدین رازی کی تصنیف ہے جس کی شرح محمد بن حسن خوارزمی نے لکھی ہے،اصول اسحٰق بن ابراہیم شاشی،متوفی ۳۲۵؁ھ کی تصنیف ہے۔  حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

ملّا شنگرف گنائی

                ملا شنگرف گنائی از احفاد حضرت  باب عثمان[1]اوچپ گنائی: کاشمیر کے علمائے کبار و فضلائے نامدار سے تھے،محدث،فقیہ،جامع علوم عقلیہ و نقلیہ اور ملا فیروز مفتی کے چچا تھے،اپنے شہر کے علماء سے علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کر کے حرمین محترمین کو تشریف لے گئے اور وہاں زبدۃ المتأخرین خاتم المحدثین ابن حجر مکی سے حدیث کی اجازت حاصل کی اور کاشمیر میں واپس آکر تدریس و تعلیم میں مشغول رہے اور محلہ قلاش پرہ میں متصل قبر مولانا لولی گنائی کے مدفون ہوئے۔صاحب تاریخ اعظمی لکھتے ہیں کہ کتاب شمائل نبوی خاص آپ کے ہاتھ کی خط شنگرف سے لکھی ہوئی اور نیز وہ اجازت نامہ جو شیخ ابن حجر نے پشت اسماء الرجال پر اپنے ہاتھ سے لکھ کر آپ کو دیا تھا،ہمارے پاس موجود ہے۔   1۔ حبان علی ’’جواہر المفیہ ‘‘ (مرتب)  (حدائق ال۔۔۔

مزید