ہفتہ , 23 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 11 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سید ابی شجاع

           محمد بن احمد بن حمزہ ب ن حسین بن علی بن عبداللہ بن حسن بن علی المعروف بہ سید ابی شجاع،عالم فاجل فقیہ کامل[1]تھے۔سمر قند میں رکن الاسلام علی بن حسین سغدی اور امام حسن ما تریدی کے معاصر تھے اور آپ کے زمانہ میں جس فتاویٰ پر ان تینوں کے دستخط ہوتے تھے وہ بڑا معتبر خیال کیا جاتا تھا۔   1۔ آپ حضرت عباس بن علی﷜کی اولاد میں سے تھے آپ کے بیٹے ابو الوضاع محمد (ولادت ۴۳۷ھ وفات سوال ۴۹۲ھ)نے آپ سے فقہ تعلیم حاصل کیا’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بن جعفر نسفی

           محمد جعفر بن محمد بن معتزبن محمد بن مستغفر نسفی: فقیہ کامل محدث فاضل صاحب خیرو صلاح تھے۔ابو ذرکنیت تھی،آپ کے والد جعفر بن محمد نےھ آپکو ایک جماعت شیوخ سے حدیث سماعت کرائی۔جب آپ کے والد فوت ہوئے تو آپ بجائے ان کے،نسف کے خطیب مقرر ہوئے،ابو محمد عبد العزیز بن محمد نخشبی نے اپنی معجم شیوخ میں آپ کا ذکر کیا اور لکھا کہ آپ نے ابا الفضل یعقوب بن اسحٰق اسلامی اور ابا محمد عبد الملک بن مروان بن ابراہیم بن رافع وغیرہ سے حدیث کو سنا اور روایت کیا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

احمد ترمذی

           احمد بن علی ترمذی: آپ کی کنیت ابو بکر وراق تھی اور وراق اس شخص کو کہتے ہیں جو قرآن و حدیث وغیرہ لکھا کرے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اکثر کتابت کیا کرتے تھے۔آپ نے مختصر طحطاوی کی شرح بڑے بسط کے ساتھ چار جلدوں میں تصنیف کی اور اس میں پہلے تین کے مسئلہ کو بیان کر کے اس کی شرح یون شروع کی کہ احمد ن ےکہا الخ قنیہ میں لکھ اہے کہ ایک دفعہ آپ حج کے لیے مکہ معظمہ  کو روانہ ہوئے۔جب پہلی ہی منزل پر پہنچے تو اپنے اصحاب کو فرمایا کہ مجھ کو واپس پھر لیجاؤ کیونکہ میں نے صرف ایک ہی منزل میں ساتھ سوگناہ کبیرہ کیا ہے، پس وہ آپ کو پھیرلے گئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

یحییٰ ناصحی

          یحییٰ بن عبداللہ حسین ناصحی: ابو صالح کنیت اور قاضی القضاۃ خطاب تھا، اپنے زمانہ کے عالم فاضل فقیہ متجر عارف مذہب تھے،فقہ اپنے باپ سے اخذ کی اور تدریس و افتاء میں مشغول رہے،وفات آپ کی ۴۹۵؁ھ [1] میں ہوئی،سال وفات آپ کا لفظ ’’فہیم عصر‘‘ ہے۔   1۔ ولادت ۴۱۵؁ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ)   ۔۔۔

مزید

خواہر زادہ

          محمد بن عبد الحمید بن عبد الرحیم بن احمد بن عبد اللہ بن عبد الوہاب المعروف بخواہر زادہ بڑے عالم فاضل فقیہ محدث تھے اور مرو میں آپ کے وقت میں امام ابو حنیفہ کے اصحاب سے آپ سے زیادہ کوئی متوغل فی الحدیث اور کتابت فی الحدیث میں نہ تھا اور اہل حدیث کے بڑے محب تھے،آپ نے حدیث کو بکثرت سنا اور اپنے ہاتھ سے لکھا،چونکہ آپ قاضی ابی الحسن علی بن حسین دہقان کے بھانجے تھے اس لیے خواہر زادہ کے لقب سے ملقب ہوئے اور ابو سعید کنیت تھی،مرو میں ماہ جمادی الاولیٰ ۴۹۴؁ھ میں وفات پائی۔بزرگ دارین‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بزدوی

          محمد بن محمد بن حسین بن عبد الکریم بن موسیٰ بن مجاہد بزدوی: ابو الیسر کنیت،صدر الاسلام لقب تھا،اپنے وقت کے امام ائمہ علی الا طلاق جامع فروع و اصول صاحب تصنیفات تھے،ماوراء النہر میں ریاست مذہب حنفیہ کی آپ پر منتہیٰ ہوئی۔فقہ وغیرہ اسمٰعیل بن عبد الصادق سے،انہوں نے ابی الیسر عبد الکریم، انہوں نے امام محمد سے حاصل کی اور نیزابی یعقوب یوسف سیاری سے اخذ کیا اور آپ سے نجم الدین نسفی اور علاؤالدین محمد بن احمد سمر قندی صاحب تحفۃ الفقہاء اور ابن ابی الیسر ابو المعالی احمد اور ان کے بھائی کے بیٹے حسن بن علی نے اخذ کیا اور بخارا میں ۴۹۳؁ھ میں وفات پائی،بحر بے کنار‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

قاضی احمد ریغد مونی

          قاضی احمد بن عبد الرحمٰن بن اسحٰق ریغد مونی: جمال الدین لقب ابور ابو نصر کنیت تھی،بخارا کے علاقہ میں ریغد مون ایک قریہ ہے،وہاں شوال کے مہینے  ۴۱۴؁ھ میں پیدا ہوئے۔بڑے عقیل اور اپنے وقت کے امام فاضل تھے۔علم اپنے باپ اور قاضی ابی زید دبوسی اور ابی نصر احمد بن عبد اللہ خیز اخزی سے حاصل کیا۔ آپ سے آپ کے بیٹے اور پوتے محمد بن احمد اور حامد بن محمد نے فقہ پڑھی،بخارا کی قضا آپ کے سپرد ہوئی اور لوگوں نے آپ سے امالی کو لکھا۔رمضان کےت مہینے میں فوت  [1]ہوئے۔   1۔ غرما شروط آپ کی نسچ ہے جواہر المضیۃ  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

شمس الائمہ سرخسی

           محمد بن احمد بن ابی سہل[1] سرخسی: ابو بکر کنیت اور شمس الائمہ سرخسی سے ملقب تھے۔۴۰۰؁ھ میں پیدا ہوئے،اپنے زمانہ کے امام،علامہ،حجت،متکلم،مناظر، اصولی،فقیہ،محدث،مجتہد تھے،ابن کمال پاشا نے آپ کو طبقہ مجتہدین فی المسائل میں سے شمار کیا ہے۔پہلے اپنے باپ کے ساتھ واسطے تجارت کے بغداد میں آئے پھر شمس الائمہ حلوائی کی صحبت اختیار کی اور ان سےعلوم پڑھے اور یہاں تک ان سے اخراج کیا کہ یگانۂ زمانہ ہوئے۔آپ سے برہان الائمہ عبد العزیزی بن عمرو ب مازہ و محمود بن عبد العزیزی اور جندی اور رکن الدین مسعود بن حسن اور عثمان بن علی بن محمد بیکندی نے تفقہ کیا،چونکہ آپ بڑے حق گو تھے اس لیے آپ نے ایک کلمہ حق کا بادشاہ کو کہا جس سے وہ ناراض ہو گیا اور آپ کو شہرا وزجند میں ایک کنوئیں کے اندر قید کردیا جس میں آپ مدت تک قید رہے اور آپ کے شاگرد کنوئیں پر بیٹ کر۔۔۔

مزید

محمد سمر قندی اسمندی  

          محمد بن عبد الحمید یا عبد الرشید بن حسن بن حسین سمر قندی اسمندی: ابو حامد کنیت،علاؤلدین لقب تھا،شہر اسمند کےت،جو سمر قند کے علاقہ میں واقع ہے،رہنے والے تھے اور علاء عالم سے مشہور و معروف تھے فقیہ فاضل اور عالم فاضل اور عالم مناظر تھے،فقہ اشرف علوی سے پڑھی اور علم خلاف و تفسیر میں تصنیفات کیں،ابو المظفر جمال الاسلام سعد کرابیسی مصنف فروق اور شیخ الاسلام نظام الدین عمر بن صاحب ہدایہ نے آپ سے اخذ کیا،کئی ایک مجلد میں ایک تعلیق لکھی اور تفسیر کو املاء کیا۔اصول فقہ میں بذل النظر اور اصول اعتقاد میں ہدایہ نام کتاب تصنیف کی۔اخیر کو مناظرے اور مباحثے ترک کر کے عبادت میں مشغول ہو گئے اور ۴۸۸؁ھ میں وفات پائی۔[1]   1۔ ولادت ۴۸۸؁ھ وفات ۵۵۲؁ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

صاحب تفسیر نیشا پوری  

           علی بن حسین [1] بن علی نیشا پوری: ابو الحسن کنیت تھی،اپنے زمانہ کے امام عالم تھے،ملابس میں سنت نبویہ کا بڑا لحاظ رکھتے تھے اور جمعہ کی نماز کے لیے دوڑتے جایا کرتے تھے اور جو شخص راستہ میں ملتا تھا اس کو سلا کرتے تھے۔علم آپ نے حسین بن علی صمیری سے،انہوں نے امام محمد سے ابی بکر محمد خوارزمی،انہوں نے جصاص،انہوں نے بروعی،انہوں نے موسیٰ بن نصر،انہوں نے امام محمد سے حاصل کیا،آپ کی کلام کو معتزلہ کے مذہب پر بڑا غلبہ تھا اور اہل خروسان کی بولی میں وعظ کیا کرتے تھے۔بغداد میں سلطان طغربل کے ہمراہ آئے۔جب نیشاپور میں واپس گئے تو زہد اختیار کرلیا اور سلاطین کے پاس آمد و رفت چھوڑدی۔ایک دن سلطان ملک شاہ نے جامع نیشا پورمیں کہا کہ اب آپ ہمارے پاس کیوں نہیں آیا کرتے، آپ نے فرمایا اس لیے کہ میں نے ارادہ کیا ہےکہ تو بسبب زیارت علماء کے بادشاہوں سے بہر ہو اور میں بباعث۔۔۔

مزید