اتوار , 24 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 12 April,2026

پسنديدہ شخصيات

عمر و بن میمون

    عمر و بن میمون بن بحر بن سعد رباح بلخی : ابو علی کنیت تھی ۔محدث تھی ۔محدث ،ثقہ،فقیہ عالم،صاحب علم و افہم اور اصلاح تھے۔ بغداد میں آکر امام ابو حنیفہ کی صحبت میں داخل ہو کر ان سے فقہ اخذ کی ۔ مدت تک قاضی رہے اور قضا کی حالت میں آپ کا رویہ قابل تحسین رہا ۔اخیر عمر میں نابینا ہو کر ۱۷۱ھ؁ میں وفا ت پائی ۔ ترمذی نے آپ سے تخریج کی ۔ ’’کوہ علم ‘‘آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

مندل بن علی

    مندل بن علی غزی کوفی : کنیت آپ کی ابو عبد اللہ تھی بقول بعض آپ کا نام عمر و اور مندل لقب تھا ۔ آپ امام ابو حنیفہ کے اصحاب میں سے فقیہ فاضل ، محدث صدوق طبقہ کبار تبع تابعین میں سےتھے۔معاونے کہا ہے کہ میں نے کوفہ میں داخل ہو کر کسی کو آپ سے زیادہ اور رع نہیں دیکھا ۔ آپ ۱۰۳ھ؁ یا ۱۶۸ھ؁ میں فوت ہوئے ۔ ابو داؤد اور ابن ماجہ نے آپ سے تخریج کی،آپ کے بھائی ابو علی جہان بن[1]علی بھی فقیہ فاضل اور صاحب حدیث تھے جو ساٹھ سال کی عمر میں ۱۶۱ھ؁ میں فوت ہوئے اور ابن ماجہ نے ان سے تخریج کی ۔ ’’ امام پاک باطن ‘‘اور ’’امام ہمام ‘‘آپ کی تاریخ وفات ہے۔   1۔ حبان علی ’’جواہر المفیہ ‘‘ (مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

اسرائیل بن یونس

                      اسرائیل بن یونس بن اسحٰق کوفی : کنیت آپ کی ابو یوسف تھی اور عالم ،فاضل ،محدث ، ثقہ، فقیہ کامل تھے، ۱۰۰ھ؁ میں شہر کوفے میں پید ہوئے ، امام اعظم و امام ابو یوسف سے حدیث کو سنا اور فقہ حاصل کی اور آپ سے وکیع اور ابن مہدی نے روایت کی ۔ امام احمد بن حنبل اور یحٰی بن معین نے آپ کی ثقابت کی شہادت دی ۔ امام بخاری و مسلم نے آپ سے تخریج کی اور ۱۶۰ھ؁ میں آپ فوت ہوئے ،سال وفات آپ کا لفظ ’’حمید زمان ‘‘ ہے ۔  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

امام ز فربن ہذیل بن قیس بن سلیم الغبری البصری

              آپ کا والد ماجد اصفہان کا رہنے ولا تھا ،آپ ۱۱۰ھ؁ میں۱ند   پیدا ہوئے،امام ابو حنیفہ کے ان دس اصحاب میں سے تھے جنہوں نے امام کو کتب فقہ کی تدوین میں مدددی ۔ امام ابو حنیفہ آپ کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمارے اصحاب میں سے یہ اقیس ہیں ۔حسن بن زیادہ کہتے ہیں کہ آپ امام کی مجلس میں سے سے مقدم بیٹھا کرتے تھے۔ سلیمان عطار سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے نکاح کی تقریب پر امام ابو حنفیہ کو بلایا اور امام کو خطبہ پڑھنے کے لئے کہا ، امام نے خطبہ میں فرمایا: ہٰذی از فرامان ائمۃ المسلمین وعلم من اعلا مہم فی شرفہ وحسبہ نسبہ حماد بن امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کے اصحاب میں بعد امام ابو یوسف کے ان جیسا اور کوئی فقیہ نہ تھا ۔ داؤد طائی سے روایت ہے کہ ابو یوسف اور زفر اکثر فقہ میں مناظرہ کیا کرتے تھے مگر ز ف۔۔۔

مزید

امام ز فربن ہذیل بن قیس بن سلیم الغبری البصری

آپ کا والد ماجد اصفہان کا رہنے ولا تھا ،آپ ۱۱۰ھ؁ میں۱ند پیدا ہوئے،امام ابو حنیفہ کے ان دس اصحاب میں سے تھے جنہوں نے امام کو کتب فقہ کی تدوین میں مدددی ۔ امام ابو حنیفہ آپ کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمارے اصحاب میں سے یہ اقیس ہیں ۔حسن بن زیادہ کہتے ہیں کہ آپ امام کی مجلس میں سے سے مقدم بیٹھا کرتے تھے۔ سلیمان عطار سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے نکاح کی تقریب پر امام ابو حنفیہ کو بلایا اور امام کو خطبہ پڑھنے کے لئے کہا ، امام نے خطبہ میں فرمایا: ہٰذی از فرامان ائمۃ المسلمین وعلم من اعلا مہم فی شرفہ وحسبہ نسبہ حماد بن امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کے اصحاب میں بعد امام ابو یوسف کے ان جیسا اور کوئی فقیہ نہ تھا ۔ داؤد طائی سے روایت ہے کہ ابو یوسف اور زفر اکثر فقہ میں مناظرہ کیا کرتے تھے مگر ز فر جید اللسان تھے اس لئے ابو یوسف بسا اوقات مناظرہ میں مضطرب ہو جاتے تھے جس سے ز ۔۔۔

مزید

حمزہ بن حبیب زیارت قاری کوفی

            ابو عمارہ آپ کی کنیت تھی،محدث ، صدوق ، زاہد پر ہیز گار، قراء سبعہ میں سے ایک قاری تھے، ۸۰ھ؁ میں پیداہوئے ، امام ابو حنفیہ سے بہت سی روایات رکھتے تھے ،جامع القراءۃ میں لکھا ہے کہ آپ سے دن کو آدمی اور رات کو جن پڑھا کرتے تھے ۔ وفات آپ کی ۱۵۶ھ؁ یا ۱۵۸ھ؁ میں ہوئی ، امام مسلم وغیرہ نے آپ سے تخریج کی ۔’’محبوب زماں ‘‘آپ کی تاریخ وفات ہے ۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

مسعربن کدام

              مسعر بن کدام ہلالی کوفی ۔ ابو سلمہ کنیت تھی، طبقہ کبار تبع تا بعین سے حافظ احادیث،ثقہ،فاضل،معتمدتھے۔ امام ابو حنیفہ و عطاء اور قتادہ سے روایت کرتےتھے اور آپ سے سفیان ثوری نے روایت کی ، آپ کہتے ہیں کہ جس شخص نے اپنے اور خدا کے درمیان امام ابو حنیفہ کو گردان لیا میں امید رکھتا ہوں کہ وہ بے خوف ہو گیا اور اس کو اپنے لئے احتیاط میں نقصان نہ ہوگا ، کہتے ہیں کہ جب سفیان ثوری اور شعبہ کسی بات میں اختلاف کرتے تھے تو کہتے تھے کہ آؤ ہم مسعر بن کدام کی طرف چلیں جو ہمارے فیصلہ کے لئے ترازو ہیں ۔نووی نے شرح صحیح مسلم میں لکھاہے کہ آپ سفیان ثوری اور سفیان بن عیینہ کے جو مجتہد اور استاد المحدثین ہیں،استاد ہیں آپ کی جلالت اور حفظ و اتقان متفق علیہ ہے ۔اصحاب صحاح ستہ نے آپ سے تخریج کی ۔وفات آپ کی ۱۵۳ھ؁یا ۱۵۵ھ؁میں ہوئی ۔’’نجم ج۔۔۔

مزید

ابراہیم صائغ

        ابراہیم بن میمون صائغ مروزی ۔فقیہ فاض محدث صدوق تھے، امام ابو حنیفہ اور عطاء سے روایت کرتے تھے اور آپ سے حسان بن ابراہیم نے روایت کی ۔ شہر مرد میں ۱۳۱ھ؁ میں ابو م سلم خراسانی نے آپ کو شہید کیا ۔ ابن مبارک کہتے ہیں کہ جب آپ کے مقتول ہونے کی خبر امام،ابو حنفیہ کو پہنچی تو وہ اس قدر روئے کہ ہم نے گمان کیا کہ روتے روتے مرجائیں گے ، آپ کے مقتول ہونے کا سبب ہوا کہ ابو مسلم خراسانی سے آپ نے کچھ سخت کلامی کی تھی جس پر اس نے آپ کو پکڑلیا۔یہ خبر سنتے ہی خراسان کے تمام فقہاء وعابد جمع ہوئے اور آپ کو چھڑالے گئے لیکن آپ نے مکرر،سہ حاکم مذکور کو بُری باتوں سے سر زنش کی،اس پر اس نے آپ کو قتل کرادیا ، امام بخاری نے معلق اور ابو دؤد نے اپنی صحیح میں آپ سے تخریج کی ۔ صائغ زر گر کو کہتے ہیں ، شاید آپ زرگری کا کام کرتے ہوں گے جس سے صائغ کہلاتے تھے ’’ولی پ۔۔۔

مزید

قاری انوار الحق مصطفوی بریلوی

مفتی دار العلوم عطائے رسول مکرانہ راجستھان ولادت حضرت مولانا قاری انوار الحق مصطفوی رضوی۷؍محرم الحرام ۱۹۵۵ء بروز دوشنبہ بوقت صحبح صادق ونکا بریلی شریف میں پیدا ہوئے، حسنِ اتفاق یہ کہ آپ کی والدہ ماجدہ کا حسب معمول روزہ تھا۔ عرصہ دراز سےاہل خاندان کی تمنا برآنے پر محلے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ حضرت شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ (جو شیشی گڑھ بریلی میں رہتے تھے اور غالباً یہیں ان کا مزار بھی ہے) اپنے علاقے کےمشہور بزرگ تھے، انہوں نے آکر قاری انوار الحق کے والد مبارک باد پیش کی۔ تسمیہ خوانی مولاقاری انوارالحق رضوی کی عمر جب چار سال، چار ماہ کی ہوئی تو والد بزرگوار نے اپنے محلے کی مسجد المعروف رضا مسجد محلہ ٹانڈہ ونکا میں حافظ عبدالباری ونکوی سےرسمِ بسم اللہ خوانی کرائی۔ تعلیم وتربیت مولانا عبدالکریم عرف بابوجیدنکوی سے گھر پر قاری انوار الحق نےقرآن پاک، اور اُردو پانچویں درجے تک مع حساب۔۔۔

مزید