بن انیس فہری۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھااورمصرمیں بعد اس کے فتح ہونے کے گئےتھے ان کی اولاد بھی مصرہی میں ہے۔ابوالحارث یعنی احمد بن سعید فہری کے داداتھے۔ یہ ابوسعید بن یونس کاقول تھا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
سیّد نور علی شاہ غازی (نوری بابا) رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ(تین ہٹّی، کراچی) (متوفّٰی:۹۳ھ/۷۱۳ء) سیّد نور علی شاہ غا زی المعروف نور نشاہ ابنِ سیّد عبد اللہ علیھماالرحمۃ: آپ بڑےپائے کے ولیِ کا مل اور صاحبِ تصرّف ہیں۔ آپ کے متعلّق کوئی دستاویزی ثبو ت تو میسر نہیں آسکا ہے، لیکن آپ کے مزار پر جو کتبہ آویزاں ہے اس سے یہ معلومات حا صل ہوئی ہیں کہ آپ بہ حکمِ خلیفہ ولید بن مروان، حضرت محمد بن قا سم فا تحِ سند ھ کے لشکر کے سا تھ دمشق سے ۹۲ ھ/۷۱۲ء میں سندھ تشر یف لائے اور راجہ داہر سے جنگ کی اور ایک سال جنگِ دیبل کے بعد ۹۳ ھ/۷۱۳ء میں بہت سے کفّا ر کو فی النّار کر کے ۵محرم الحرام بروز جمعہ شہید ہو ئے۔ آپ کے مزار پر صد ہا آسیب زدہ آدمی آتے ہیں اور اللہ اُنھیں شفا عطا فرماتا ہے۔آپ کا مزار تین ہٹّی کراچی میں مرجعِ خلائق ہے۔ (تذکرہ اولیا ءِ سندھ، ص۳۶۶)۔۔۔
مزید
خواجہ معین الدین نقشبندی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اسمِ گرامی: خواجہ معین الدین بن خواجہ محمود نقشبندی(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما) تحصیلِ علم: مختلف علوم وفنون اصول ِفقہ، اصول ِحدیث وغیرہ میں حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے شاگرد تھے۔ بیعت وخلافت: آپ علیہ الرحمہ نے اپنے والد کے دستِ حق پرست بیعت کرکے باطنی علوم کی تحصیل کی اور طریقت کے تمام رموز و اسرار والد محترم کی خدمت اقدس میں رہ کر سیکھے۔اور اپنے والدِ ماجد سےخرقہ خلافت حاصل کیا۔ سیرت وخصائص:حضرت خواجہ معین الدین نقشبندی علیہ الرحمہ کشمیر کے علمائے کبار اورمشائخِ نامدار میں سے تھے۔اتباعِ شریعت وترویجِ سنت وترفیعِ بدعت اور زہدوورع وتقویٰ میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے۔تمام علماء وصلحاءِ وقت آپ کی تحریر وتقریر کو قبول کرتے اوراپنے مسائل کے حل کیلئے آپ کی طرف رجوع کرتے ،آپ کے خطِ فرمان پر سر رکھتےاوراحکام رو۔۔۔
مزید