پیر , 25 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 13 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدناعطیہ ابن نویرہ رضی اللہ عنہ

  بن عامر بن عطیہ بن عامربن بیاضہ بن عامر بن زریق بن عبدحادثہ انصاری بیاضی ہیں یہ غزوۂ بدرمیں شریک تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے اسی طرح لکھاہے ابن کلبی نے بھی یوں ہی ان کا نسب بیان کیاہے اورکہاہے کہ غزوۂ بدرمیں شریک تھے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطیہ رضی اللہ عنہ

قرطی ہیں انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھا اورآپ سے حدیث بھی سنی تھی یہ کوفہ میں فروکش تھے ان کا نسب مشہورنہیں ہے ان سے مجاہد اورعبدالملک بن عمیر نےروایت کی ہے ہم کوعبدالوہاب بن ابی منصور نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوغالب ماوردی نے اپنی سند کوسلیمان بن اشعث تک منادلتہً پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سفیان نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبدالملک بن عمیر نےبیان کیا وہ کہتےتھے مجھ سے عطیہ قرظی نے بیان کیا وہ کہتے تھے کہ قیدیان قریظہ میں سے میں بھی تھاپس لوگ دیکھے جاتےتھےجس کے زیر ناف بال نکل آئےتھے وہ قتل کردیاجاتاتھا۔اورجس کے نہ نکلے تھے وہ قتل نہیں کیاجاتاتھااور میں ان میں سے تھاجن کے بال نہیں تھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطیہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ

یہ حکم بن عمروغفاری کے بھائی تھے۔اس کوابن شاہین نے کہاہے احمد بن سیارمروزی نے کہاہے کہ ابن شاہین نے کہاہے کہ حکم بن عمروکے ایک بھائی تھےلوگ ان کو عطیہ بن عمروکہتےتھے وہ مروہ میں مرےتھےاوررسول خدا کے صحابی تھے اوران دونوں کے ایک بھائی رافع بن عمروتھے علی بن مجاہد نےکہاہے حکم بن عمرومروہ میں مرے تھے ان کی اور ان کے بھائی عطیہ بن عمرو کی قبر وہیں ہے اوروہ صحابی تھے۔نیزان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطبہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ

بن حشم جعفرنے کہاہے کہ یہ مدینہ میں رہتےتھے میں خیال کرتاہوں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی ہے اس کو ابن منیع نے کہاہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطیہ ابن عفیف رضی اللہ عنہ

 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی(روایت کردہ)حدیث میں ان کا ذکرہے۔اس کو ابوزکریا بن مندہ نے کہاہے اوریہ بھی کہاہے کہ ان کو بعض محدثین نےذکرکیاہے اوراس کو حسن بن سفیان پر حوالہ کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے میں کہتاہوں کہ وہ عطیہ بن عازب بن عفیف وہ شخص ہیں جن کوہم نے ذکرکیاہےاوروہاں پر ان کے داداتک ان کا نسب بیان کیاہے واللہ اعلم۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سید حمید لاہوری

حضرت سید حمید لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سادات کرام اور مشائخ عظام سے تعلق رکھتے تھے۔ جامع شرافت و نجابت تھے۔ ظاہری علوم میں ممتاز عالم دین ساری زندگی ارشاد و ہدایت میں گذاری۔ چہارم محرم الحرام ۱۰۹۰ھ واصل بحق ہوئے۔ اور اپنے آبائی قبرستان میں آسودۂِ خاک ہوئے آپ کے بیٹے آپ کی جگہ مسند ارشاد پر بیٹھے مگر وہ بھی ۱۰۷۷ھ میں انتقال فرما گئے۔وفات سیّد حمید: چوں جناب حمید حامدِ حقاعظم اولیا ست تاریخش۱۰۹۰ھزین جہاں فنا بخلد رسیدہم نجوان صدر دین سخی حمید۱۰۹۰ھتاریخ وفات سید عبدلقادر گیلانی:چوں جناب عبدالقادر شیخ پیروارث عشق ست تاریخ دگر۱۰۷۷ھگشت راہی ازجہاں سوئے جنانعبد قادر متقی معصوم خواں۱۰۷۷ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

سیّدناعلاء ابن وہب بن محمد

 بن وہبان بن خباب بن حجیربن عبدبن مغیص بن عامربن لوی فتح قادسیہ میں شریک تھے حضرت عثمان نے حضرت معاویہ کولکھاتھاکہ ان کوجزیرہ کاعامل بنادو چنانچہ انھوں نے بنادیاتھا۔انھوں نے زمینب بنت عقبہ بن ابی معیط سے نکاح کیاتھا۔فتح مکہ کے نومسلموں میں سے تھےمقام رقہ میں کچھ دنوں حاکم رہےتھے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔مگران کو ابوعروبہ اورابوعلی بن سعید نے جزریوں کی تاریخ میں ذکرنہیں کیاحالانکہ وہ دونوں فن حدیث میں جزریوں کے امام ہیں۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعلاء ابن مسروح

  حجازی۔عمروبن تمیم بن عویم نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ میری بہن ملیکہ اوردوسرے قبیلہ کی ایک عورت جس کانام ام عفیف بنت مسروح تھاہمارے قبیلہ کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں اس شخص کانام حمل بن مالک بن نابغہ تھااس کے بعدپوری حدیث ذکرکی جس میں یہ مضمون بھی تھا کہ علاء بن مسروح نے عرض کیاکہ یارسول اللہ کیاہم اس بچہ کی دیت بھی دیں جس نے نہ کچھ پیاہونہ بولاہونہ رویاہوکیاایسے بچہ کی دیت بھی آئے گی تورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےکہاکہ تم توایسی مقفیٰ عبارت بولتے ہو جیسی زمانہ جاہلیت میں بولی جاتی تھی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید