پیر , 25 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 13 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدناعقبہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ

بن ثعلبہ بن اسیرہ اوربعض نے کہاہے کہ ثعلبہ بن عسیرہ اوربعض نے کہاہے ثعلبہ بن اسیرہ بن عسیرہ بن عطیہ بن خدارہ بن عوف بن حارث بن خزرج اوربعض نے کہاہے عقبہ بن عمروبن ثعلبہ بن اسیرہ بن عسیرہ بن عطیہ بدرسی ہیں ان کی کنیت ابومسعود تھی یہ اپنی کنیت ہی سے مشہور تھے۔غزوۂ بدرمیں شریک نہ تھے بلکہ بدر۱؎ میں رہتے تھے۔ہاں عقبہ ثانیہ میں شریک تھے جو لوگ عقبہ ثانیہ میں شریک تھے ان سب سے یہ کم سن تھے۔اس کو ابن اسحق نے بیان کیاہے غزوۂ احد اور اس کے مابعد کے غزوات میں شریک تھے(امام)بخاری وغیرہ نے کہاہے کہ یہ غزوۂ بدرمیں شریک تھےمگرصحیح نہیں ہے۔کوفہ میں رہتے تھےاورحضرت علی کے شاگردتھےحضرت علی نے جب صفین کی طرف کوچ کیاتو ان کو کوچہ میں نائب کردیاتھا۔ان سے عبداللہ بن یزیدخطمی اورابووائل اورعلقمہ اورمسروق اورعمروبن میمون اورربعی ابن خراش وغیرہ نے روایت کی ہے ان کوہم انشاء اللہ تعالیٰ باب الکنیت میں بیان کریں ۔۔۔

مزید

سیّدناعقبہ ابن عثمان بن خلدہ رضی اللہ عنہ

 بن مخلد بن عامر بن زریق انصاری زرقی ہیں یہ اوران کے بھائی سعد بن عثمان غزوۂ بدرمیں شریک تھے ہم کوابوجعفربن سمین نے اپنی سند کویونس بن بکیرتک پہنچاکرانھوں نے ابن اسحاق سے نقل کرکے ان لوگوں کے نام کی خبردی جوغزوۂ بدرمیں موجودتھے خبردے کرکہا کہ بنی زریق بن عامرسے پھربنی مخلد بن عامربن زریق سے اورابوعبادہ اوروہ سعد بن عثمان بن خلدہ بن مخلد اوران کے بھائی عقبہ بن عثمان تھےابن اسحاق نے کہاغزوۂ احد کے واقعہ میں سےعقبہ بن عثمان اورسعدبن عثمان یہ انصارسے دوشخص بھاگےاوراعوض کے مقابل ایک پہاڑپرپہنچے اوروہاں تین روز تک ٹھہرے رہے۔پھروہاں سے واپس ہوکر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئےپھرانھوں نے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تم لوگ اس لڑائی سے چلے گئے وسعت پاکر۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعثمان ابن معاذ رضی اللہ عنہ

  ؎قریشی تیمی ہیں یا(ان کانام)معاذبن عثمان ہے۔ان کی (روایت کردہ)حدیث ابن عینیہ نے اسی طرح حمید بن قیس سے انھوں نےمحمدبن ابراہیم بن حارث تیمی سے انھوں نے اپنی قوم بنی تیم کے ایک شخص سےجوعثمان بن معاذیامعاذ ابن عثمان کہے جاتےتھےنقل کرکے روایت کی ہے کہ انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتےہوئے سنا کہ تم لوگ رمی جمارکیاکرو چھوٹی کنکریوں سے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنےلکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعثمان ابن مظعون بن حبیب رضی اللہ عنہ

بن وہب بن حذافہ بن جمح بن عمروبن ہصیص بن کعب بن لوی بن غالب قریشی جمحی ہیں ۔ان کی کنیت ابوسائب تھی۔سخیلہ بنت عنبس بن اہیان بن حذافہ بن جمح ان کی والدہ تھیں اوریہی سائب بن مظعون اورعبداللہ بن مظعون کی والدہ تھیں یہ عثمان اول(زمانہ) اسلام (میں)اسلام لائے تھے ابن اسحاق نے کہاہے کہ عثمان بن مظعون تیرہ آدمیوں کے بعد اسلام لائے تھے انھوں نے اوران کےبیٹے سائب نے مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ حبش کی طرف ہجرت کی تھی یہ پہلی ہجرت تھی۔عثمان حبش ہی میں تھے کہ ان کوخبرپہنچی کہ قریش اسلام لے آئے پس یہ واپس چلے آئے۔ہم کوابوجعفر بن سمین نے اپنی سندکویونس بن بکیرتک پہنچاکر ابن اسحاق سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے جب ان لوگوں کوجوکہ حبش میں تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اہل مکہ۱؎کے سجدہ کرنے کی خبرپہنچی تووہ لوگ وہاں سے چل نکلے اوران کے ساتھ اورلوگ بھی تھےاورخیال یہ کرتے تھےکہ نبی صلی اللہ علیہ و۔۔۔

مزید

سیّدناعثمان ابی قیس بن ابی العاص رضی اللہ عنہ

 بن قیس بن عدی سہمی ہیں یہ اپنے والدکے ساتھ فتح مصر میں شریک تھے اس کوابوسعیدبن یونس نے کہاہے۔لیث بن سعد نے یزیدبن ابی حبیب سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ حضرت عمربن خطاب  رضی اللہ عنہ نے (ایک مرتبہ)عمروبن عاص کے پاس لکھاکہ جن لوگوں نے تحت الشجرہ بیعت کی ہے جوتمھارے سامنے موجودہیں ہرایک کودوسو(درہم مشاہرہ)وظیفہ دیا کرو۔اوروہی اپنےاور اپنےعزیزوں کے واسطے مقررکرو اورخارجہ بن حذافہ کوان کے شجاعت کے سبب سے(وہی)مقررکرو۔اورعثمان بن قیس کوشرف مہمان نوازی کے سبب سے(وہی)مقرر کرو۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعثمان ابن عمرو رضی اللہ عنہ

۔(حضرت)انس کی (روایت کردہ)حدیث میں ذکرہے(اور)اس (حدیث)کوکثیر بن سلیم نے انس بن مالک سے روایت کیاہے۔حضرت انس کہتےتھے کہ عثمان بن عمرو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے۔یہ اپنی قوم کے امام تھے اوربدری تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تم اپنی قوم کے ساتھ نمازپڑھاکرو توبہت طول نہ دیاکرو کیوں کہ اس میں بوڑھے اورکمزوراورحاجتمند لوگ(ہوتے)ہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے اوران دونوں نےکہاہے کہ اسی طرح یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔اورکہاگیاہے کہ یہ عثمان بن عمروہیں اوربدری تھے۔اوریہ حدیث عثمان بن ابی العاص ثقفی (کی روایت)سے مشہورہے۔یہ بدری نہ تھے ثقیف کے وفد کے ساتھ اسلام لائے تھے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعثمان ابن عمروانصاری رضی اللہ عنہ

یّدناعثمان رضی اللہ عنہ ابن عمروانصاری ان کوابوالقاسم طبرانی نے معجم میں بیان کیاہے۔ابونعیم نے کہاہے کہ یہ میرے نزدیک نعمان بن عمروبن رفاعہ ہیں اورانھوں نے وہ حدیث روایت کی ہے جوہم سے ابوموسیٰ نے کتابتہً بیان کی وہ کہتےتھے ہمیں ابوعلی نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابونعیم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے سلیمان بن احمد نے بیان کیاوہ کہتےتھے محمد بن عمرو بن خالد حرانی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ہمارے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابن لہیعہ نے ابوالاسود سے انھوں نے عروہ سے ان انصار کے نام میں جوغزوۂ بدرمیں شریک تھے عثمان بن عمرو بن رفاعہ بن حارث بن سواد(کےنام ) کو (بھی)نقل کیاہے۔ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعثمان رضی اللہ عنہ

  امیرالمومنین صاحبُ الِحلم والحَیا ذوالنورین ابن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف قریشی اموی ہیں ان کانسب اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب عبدمناف میں مل جاتاہے ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی اور بعض لوگوں نے ابوعمروبیان کی ہے یہ بھی بیان کیاگیاہے کہ پہلے ان کی کنیت ان کےبیٹے عبداللہ کے نام پررکھی گئی تھی جن کی والدہ رقیہ بنت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم تھیں پھران کی کنیت ابوعمروہوگئی حضرت عثمان کی والدہ اروی بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبدشمس عبداللہ بن عامرکی پھوپھی زاد بہن تھیں اور اروی کی والدہ بیضابنت عبدالمطلب تھیں جورسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی تھیں ذوالنورین انھیں کالقب ہے امیرالمومنین تھے یہ اول(زمانہ)اسلام میں اسلام لائے تھے ان  کوحضرت ابوبکر نے اسلام کی طرف بلایاتھا پس اسلام لے آئےیہ اسلام لانے والوں میں چوتھے شخص ہیں ہم کو ابوجعفرنے اپنی سندکو۔۔۔

مزید

سیّدناعثمان ابن عثمان رضی اللہ عنہ

 ثقفی ہیں ان کا شمار اہل حمص میں ہے ان سے عبدالرحمن بن ابی عوف نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ ایک سال ہونے کے پیشتر قبول کرتاہے (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید

سیّدناعطیہ ابن عروہ رضی اللہ عنہ

سعدی ہیں سعدبن بکرکے خاندان سے تھے ان کی حدیث ان کی اولادسے مروی ہے۔ عروہ بن محمد بن عطیہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ ان کے والد نے بیان کیاکہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی سعد بن بکرکے لوگوں کے ساتھ آیا۔اورمیں ان سب میں بہت چھوٹا تھاچنانچہ ان لوگوں نے مجھ کو اپنے قافلہ میں چھوڑدیااورخود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئےاوراپنی حاجتیں بیان کیں آپ نے فرمایاکیاتم میں اورکوئی بھی باقی ہے ان سب نے کہاکہ ہاں ایک لڑکاہمارے قافلہ میں ہے توآپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ لوگ مجھ کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس بھیج دیں پس ان لوگوں نے مجھ سے کہاکہ تم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤچنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضرہواکہ دینے والے کا ہاتھ بہت بلندہے اورسوال کرنے والے کاہاتھ بہت نیچاہے۔اسمعیل بن عبیداللہ نے عطیہ بن عمروسے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روا۔۔۔

مزید