اتوار , 02 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 19 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدناعبید ابن نضیلہ رضی اللہ عنہ

 خزاعی ہیں کوفے میں رہتےتھے ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے۔اوزاعی نے ابوعبیہ سے جوسلیمان بن عبدالملک کے دربان تھےانھوں نے قاسم بن مخیمرہ سے انھوں نے عبیدبن نضلہ سے روایت کی ہے کہ ایک سال قحط کے زمانہ میں صحابہ نے عرض کیاکہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ غلہ کانرخ مقررکردیجیے(بقال روزبروزگراں کرتے جاتے ہیں)حضرت نے فرمایانہیں (میں ایسانہیں کروں گا)اللہ تعالیٰ مجھ سے اس سال کی بابت سوال کرے گاجس میں تمھارے لیے کوئی ایسی بات کروں جس کاخدانے مجھےحکم نہیں دیابلکہ تم لوگ اللہ سے اس کے فضل کی دعامانگو۔ اورشعبہ نےمنصورسے انھوں نے ابراہیم بن عبیدبن نضیلہ سے انھوں نے مغیرہ بن شعبہ سے ان دونوں عورتوں کا قصہ روایت کیاہے کہ ایک عورت نے دوسری عورت کوخیمہ کاستون ماردیاتھا اور اس عورت کو مع اس کے پیٹ کے بچے کے قتل کرڈالاتھاپس اس روایت کی بناپریہ عبیدتابعی ہوں گےواللہ اعلم۔ان کا تذکرہ ابونعیم اوراب۔۔۔

مزید

سیّدناعبید ابن معیہ رضی اللہ عنہ

   بعض نے ان کوعبیداللہ بن معیہ بیان کیاہے۔ان کاحال پہلے گذرچکاہے ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبید رضی اللہ عنہ

ابن عبد۔ان کو مستغفری نے بیان کیاہے کہ ان سے عتبہ بن عبدنے روایت کی ہے یہ صحابی تھے۔ اسی طرح(عتبہ بن عبید نے)یہ بھی کہاہے کہ میں نے عبیدبن عبدکو(یہ بیان کرتے)سناکہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم  کوفرماتے ہوئے سنا ہے کہ گھوڑوں کی پیشانی کے بال اور ان کے یالوں ۱؎ اور دموں کے بالوں کونہ کتراکرو کیوں کہ دمیں ان کے لیے پنکھے ہیں (جس سے وہ اپنے اوپر بیٹھے ہوئے چھوٹے جانوروں کو ہٹادیتے ہیں)اور یالین ان کے لیے سردی دورکرنے کے لیے پوشش ہیں اوران کی پیشانی کے بالوں میں خیروابستہ ہے اوریہ حدیث عتبہ بن عبد سے بھی روایت کی گئی وہ انشاءاللہ تعالیٰ اپنے موقع پربیان کی جائے گی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ ۱؎ یال  گھوڑے کی گردن کے بالوں کوکہتے ہیں۱۲۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبید ابن عبدالغفار رضی اللہ عنہ

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے حمادبن سلمہ نے ثابت بنانی سے انھوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے غلام عبدالغفار سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے جب میرےصحابہ کا ذکرکیاجائے توتم ان کی برائی کرنے سے بازرہوان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبید عبدالرحمن رضی اللہ عنہ

  یہ عبدالرحمن کے والد تھے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کی ہے منہال بن بحر نے حمادبن سائمہ سے انھوں نےابوسنان یعنی عیسیٰ بن سنان سے انھوں نے مغیرہ بن عبدالرحمن بن عبیدسے اورعبیدصحابی تھے انھوں نے اپنے والدسے انھوں نے اپنےداداسے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے ایمان کی تین سو تینتیس (۳۳۳)شاخیں ہیں جس نے ایک شاخ کوبھی پوراکیاوہ جنت میں داخل ہوا۔لیکن ابوعمرنے ان کی نسبت بیان کیاہے کہ عبید صحابہ میں سے ہی جو ایک شخص تھے وہ یہی ہیں۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبید ابن عازب رضی اللہ عنہ

 انصاری ہیں براء بن عازب کے بھائی تھے۔ان کا نسب ان کے بھائی(براء) کے تذکرے میں پہلے گزرچکاہے ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔قیس بن ربیع نے ابن ابی لیلیٰ سے انھوں نے حفصہ  بنت براءبن عازب سے انھوں نے اپنے چچاعبیدبن عازب سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ میرانام اورمیری کنیت کوجمع نہ کرویعنی کسی شخص کانام رکھا جائے اوروہ نام میراہی نام ہواورمیری کنیت کے موافق اس کی کنیت بھی تویہ اس کو نہیں لازم ہے کیوں کہ اس میں لشابہ پیداہوتاہےاس حدیث کو ابن مندہ نے روایت توکیاہے مگرسند اس طرح بیان کی ہے کہ حفصہ بنت عازب نے اپنے چچاسے روایت کی ہے(اس سندکواس طرح سے بیان کرنا) یہ ان کی صریح غلطی ہے ہاں درست یہ ہے کہ حفصہ بنت براء بن عازب نے روایت کی ہے کیوں کہ ابن مندہ کا یہ کہناکہ حفصہ نے اپنے چچاسے روایت کی ہے انھیں کے قول کارد ہے ابوعمر نے کہاہے کہ عبیداوربراء ح۔۔۔

مزید

سیّدناعبید رضی اللہ عنہ

  ابن صخر بن لوذان انصاری ہیں ۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کے ساتھ جن لوگوں کویمن بھیجاتھاان میں یہ بھی تھے۔سیف بن عمرتیمی نے سہل بن یوسف بن سہل انصاری سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے عبیدبن صخر بن لوذان انصاری سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے تمام عاملوں کوحکم دیا کہ تم لوگ قرآن کادورباہم کرتے رہو اور نیک نصیحت کی پیروی کرو کیوں کہ نیک نصیحت لوگوں کو نیک کام کرنے کی رغبت دلاتی ہے اور تم اللہ کی راہ میں ملامت کرنےوالے کی ملامت سے نہ ڈرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم لوٹوگے اورعبیدسے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے یمن کے عاملوں سے یہ عہد لیاتھاکہ (جب زکوٰۃ لیناتو)بیس گائے میں ایک سال کی گائے اورچالیس میں دوبرس کی گائےاورتیس اورچالیس کے درمیان جوکچھ مال زیادہ ہواس میں سے کچھ نہ لینا۔ ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبید رضی اللہ عنہ

  ابن صخر بن لوذان انصاری ہیں ۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کے ساتھ جن لوگوں کویمن بھیجاتھاان میں یہ بھی تھے۔سیف بن عمرتیمی نے سہل بن یوسف بن سہل انصاری سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے عبیدبن صخر بن لوذان انصاری سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے تمام عاملوں کوحکم دیا کہ تم لوگ قرآن کادورباہم کرتے رہو اور نیک نصیحت کی پیروی کرو کیوں کہ نیک نصیحت لوگوں کو نیک کام کرنے کی رغبت دلاتی ہے اور تم اللہ کی راہ میں ملامت کرنےوالے کی ملامت سے نہ ڈرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم لوٹوگے اورعبیدسے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے یمن کے عاملوں سے یہ عہد لیاتھاکہ (جب زکوٰۃ لیناتو)بیس گائے میں ایک سال کی گائے اورچالیس میں دوبرس کی گائےاورتیس اورچالیس کے درمیان جوکچھ مال زیادہ ہواس میں سے کچھ نہ لینا۔ ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبید ابن شربہ رضی اللہ عنہ

 بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ عمیربن شبرمہ ہیں ہشام بن محمد کلبی نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیاہے کہ یہ عبیدبن شربہ جرہمی دوسوچالیس برس زندہ رہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تین سوبرس تک زندہ رہے انھوں نے اسلام کازمانہ پایاتھااوراسلام لائے تھے(ایک مرتبہ)یہ عبید حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے پاس ان کے خلافت کے زمانے میں گئے حضرت معاویہ نے ان سے کہا(کہ تم نے اپنی عمرمیں)جوچیزسب سے زیادہ تعجب خیز دیکھی ہومجھ سے بیان کروانھوں نے کہا کہ میں ایک مرتبہ کچھ لوگوں کے پاس پہنچاکہ وہ لوگ اپنے مردےکودفن کررہے تھے جب میں نے اس میت کو(دفن کرتے ہوئے)دیکھا میری  آنکھوں میں آنسوڈبڈباآئے اور میں نے یہ مثالیہ اشعار پڑھے  ؎ ۱؎               استرزق اللہ خیراوارضین            &nb۔۔۔

مزید

سیّدناعبید ابن سلیم رضی اللہ عنہ

 بن ضبع بن عامربن مجدعہ بن جشم بن حارثہ انصاری حارثی ہیں اوس کے خاندان سے تھے غزوۂ احد میں شریک تھے یہ عبیدالسہام کے نام سے مشہورتھے واقدی نے کہاہے کہ ابن ابی حبیبہ سے لوگوں نے دریافت کیاکہ ان کانام عبیدالسہام کیوں ہوا انھوں نے کہاکہ مجھ کو داؤد بن حصین نے خبردی کہ خیبرکے حصوں میں  سے انھوں نے اٹھارہ حصے مول لیےتھے(اسی وجہ سے) ان کا نام عبیدالسہام پڑگیا۔بعض لوگوں نےکہاہے کہ نہیں بلکہ ان کا نام عبیدالسہام (پڑجانے کی یہ وجہ تھی) کہ یہ عبیدخیبرمیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے تھے۔جب رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیاکہ خیبرکے حصہ کردیے جائیں توآپ نے لوگوں سے فرمایاکہ قوم کے چھو ٹے لوگوں کوبلاؤ(حسب الحکم حضرت کے)یہ عبیدبلائے گئے(جب حاضرہوئے) تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کئی حصے دے دیےاسی وجہ سے ان کا نام عبیدالسہام پڑگیا۔ان کی کنیت ان کے بیٹے ثابت ۔۔۔

مزید