انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاہےاوراہل مدینہ میں ان کاشمارہےان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے ان سے عروہ بن زبراورمحمدبن سیرین نے روایت کی ہےمگر ان کی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے یہ سب ابن مندہ کابیان تھااورابونعیم نے (ان کے تذکرے میں) یہ بات زیادہ بیان کی ہے کہ یہ مدینہ میں رہتے تھے اورانھوں نے اپنی سندکے ساتھ ہشام ابن عروہ انھوں نے اپنے والدسےانھوں نے عبیداللہ بن معمرسےروایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن لوگوں کو(خداکی طرف سے)نرمی عطاہوتی ہے وہ ان کو فائدہ دیتی ہےاورجن لوگوں کو نرمی نہیں عطاہوتی وہ نقصان میں رہتےہیں۔ابوعمرنے ان کاتذکرہ اچھالکھاہےاوروہ انھوں نے اس طرح لکھاہے کہ عبیداللہ بن معمربن عثمان بن عمروبن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی قریشی تیمی ہیں انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہے اوریہ آپ کے صحابہ میں بہت کم سن ۔۔۔
مزید
ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاورکہاہے کہ یہ وہ شخص نہیں ہیں جن کی نسبت بیان کیا گیاہےکہ ان کے بیٹے نے ان سے روایت کی ہے ان کوعلی عسکری نے ذکرکیاہےجیساکہ ابوبکربن ابی علی نے بیان کیاہے اورانھوں نے اپنی سندکے ساتھ جہاد بن عوام سے انھوں نے حصین بن عبدالرحمن سے نقل کرکےروایت کی ہے وہ کہتے تھے میں نے عبیداللہ بن مسلم صحابی کو کہتے ہوئے سناکہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجوغلام اللہ تعالیٰ کی بھی اطاعت کرتاہےاوراپنےآقا کی بھی تابعداری کرتاہے اس کو دوناثواب ملتاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ میں کہتاہوں کہ یہ تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے مگرانھوں نے عبیداللہ بن مسلم کو عبید بن مسلم لکھ کرغلام والی حدیث ان سے روایت کی ہے۔۔۔۔
مزید
مسلم کے والدتھے۔بعض لوگوں نے ان کومسلم بن عبیداللہ بیان کیاہے۔ ابوعمر نے کہاہے کہ یہ عبیداللہ بن مسلم قریشی ہیں بیان کیاجاتاہے کہ حضرمی ہیں اورصحابہ میں ان کا ذکرکیا گیا ہےاورکہاہےکہ میں ان کے قریشی ہونے سے واقف نہیں ہوں اوراس میں کلام ہےاور کہا ہے کہ بعض لوگوں نےبیان کیاہےکہ یہ عبیدبن مسلم ایسے شخص ہیں جن سے روایت کی گئی ہے۔اگر یہ وہی شخص ہیں تواسدی ہیں اوراسد قریش کا ایک بطن ہے۔ابن مندہ اورابونعیم نے اپنی سندوں کے ساتھ ابونعیم یعنی فضل بن دکین اورقاسم بن حکم عرفی سےان دونوں نےہارون بن سلمان فراء ابوموسیٰ سے جوعمرو بن حریث کے غلام تھےانھوں نے مسلم بن عبیداللہ قریشی سے انھوں نے اپنے والدسے روایت کی ہے کہ انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاکہ یارسول اللہ میں ہمیشہ روزہ رکھاکروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جواب سے)سکوت کیاانھوں نےاس کو دوبارہ پوچھاپھرآپ نے (جواب سے)سکوت کیاانھ۔۔۔
مزید
انصاری ہیں انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہے ہم کوابراہیم بن محمدبن مہران فقیہ وغیرہ نے اپنی سندوں کو محمدبن عیسیٰ بن سورہ تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے ہم سے عمروبن مالک اور محمود بن خداش بغدادی نے بیان کیاوہ دونوں کہتے تھےہم سےمروان بن معاویہ نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے عبدالرحمن بن ابی شمیبلہ انصاری نے سلمہ بن عبیداللہ بن محمد بن انصاری حطمی سے انھوں نے اپنے والدسے جوصحابی تھے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرکےبیان کیاکہ آپ فرماتے تھےجس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ اس کو اپنی جان کاخوف نہ ہواوربدن صحت و عافیت کے ساتھ ہواوراس دن کھانے پینے کوبھی اس کے پاس ہوتواس کوگویاتمام دنیا کی نعمت مل گئی ان سے ان کے بیٹے سلمہ نے بھی (ماہ)رمضان کی فضیلت میں ایک حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت کی ہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہےاورابوعمرنے کہاہے کہ بعض لوگوں نے عبیداللہ ۔۔۔
مزید
بن نعمان بن یعمربن ابی اسیداسلمی ہیں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے ان کو غسانی نے ابن کلبی سے روایت کرکے بیان کیاہے۔۔۔۔
مزید
ابن کثیرمحمدکےوالدتھے۔ان کے صحابی ہونےمیں اختلاف ہےسلیمان بن بلال نے سہیل بن ابی صالح سے انھوں نے محمد بن عبیداللہ سےانھوں نے اپنے والدسےروایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاجوشخص اللہ تعالیٰ کے پاس اس حال میں جائےگا کہ (وہ زندگی میں)شراب خورتھاتواللہ کے سامنےاس کی وہی حالت ہوگی جوبت پرست کی ہوتی ہے۔اس حدیث کومحمد بن سلیمان اصفہانی نے سہیل سے انھوں اپنے والدسےانھوں نےابوہریرہ سےروایت کیاہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہےلیکن ابوعمرنے ان کوعبیداللہ بن کثیربیان کرکے محمدکاوالدکہاہےاور ابن مندہ نے ان کوعبیداللہ ابومحمدبیان کیاہے۔اورابونعیم نےکہاہے کہ یہ عبیداللہ ہیں اوران کانسب نہیں بیان کیاگیاہے(ان تینوں قولوں سے)یہ گمان ہوتاہے یہ تین شخص(علیحدہ علیحدہ)ہیں حالاں کہ (یہ تینوں شخص جوعلیحدہ علیحدہ عنوان سے بیان ہوئے ہیں)ایک ہی شخص ہیں واللہ اعلم۔ ابوعمر نے کہاہے کہ محمداوران کے والدعب۔۔۔
مزید
لیثی ہیں۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ ان کوابن مندہ نے عبداللہ کے نام میں بیان کیاہے اور ان کا نسب نہیں اورابن شاہین نے ان کوعبیداللہ کے نام میں بیان کیاہےاورااپنی سندکے ساتھ عدی بن فضل سے انھوں نے داؤدبن ابی ہندسے انھوں نے ابوحرب بن ابی اسودویلی سے انھوں نے عبیداللہ بن فضالہ سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس(ایک سفرسے)آیاتوآپ نے فرمایاجس کو کوئی شناسا ہو وہ اپنے شناساکے یہاں اترے اورجس کا کوئی شناسانہ ہو وہ اہل صفہ کے پاس اترے (حسب الحکم)میں اہل صفہ کے پاس اتراجمعہ کے دن رسول خدا صلی اللہ وسلم منبرپرتشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص نے بھوک کی شکایت کی آپ نے فرمایاعنقریب بڑے بڑے ظروف جولوگ تم سے زندہ رہیں گےان کے سامنے صبح وشام (دونوں وقت)کھانے کے لگائے جائیں گےاورکھان کھائیں گے کپڑے(ایسے پرتکلف)جیسے کعبہ کے پردے اس حدیث کو بہت سے لوگوں نے داؤدبن۔۔۔
مزید
بن نفیل قریشی عدوی ہیں ابوعیسیٰ ان کی کنیت تھی ان کانسب ان کے بھائی کے بیان میں گذرچکاہے یہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئےتھےقریش کے شہسواروں اوربہادروں میں سے تھے انھوں نے اپنے والداورحضرت عثمان بن عفان اورابوموسیٰ وغیرہم سے حدیث کی سماعت کی ہے زید بن اسلم نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے اپنے بیٹے عبیداللہ کودرے لگائے اورکہاتم نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی ہے(تویہ بتاؤ)حضرت عیسیٰ کاکوئی باپ تھایہ عبیداللہ جنگ صفین میں حضرت معاویہ کے ساتھ شریک تھے اوراسی جنگ میں ان کی شہادت ہوئی ان کاجنگ صفین میں (معاویہ کی طرف سے)شریک ہونے کاسبب یہ تھا کہ جب ابولؤلؤنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوشہید کرڈالااوران کے کفن دفن سے فراغت ہوئی تو کسی نے عبیداللہ سے کہاہم دیکھتے ہیں کہ ابولؤلؤ اورہرمزان دونوں بچ گئے حالاں کہ ہرمزان وہ خنجرجس سے حضرت عمرکوشہیدکیاتھااپنے ہاتھ م۔۔۔
مزید
بن خیاربن عدی بن نوفل بن عبدمناف قریشی نوفلی ہیں ان کی والدہ ام قتال بنت البدبن ابی العیص عتاب بن اسید کی بہن تھیں یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئے تھے اورولیدبن عبدالملک کے زمانے میں وفات پائی مدینہ میں حضرت علی کے مکان کے پاس ان کا مکان تھاانھوں نے حضرت عمراورعثمان رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ہم کو مکی بن وہاب بن شبہ نحوی نے اپنی سند کویحییٰ بن یحییٰ تک پہنچاکرامام مالک سے انھوں نے ابن شہاب سے انھوں نے عطاء بن یزید لیثی سے انھوں نے عبیداللہ بن عدی ابن خبارسے نقل کرکےخبردی وہ کہتےتھےایک روز رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان میں تشریف رکھتے تھے یکایک ایک شخص آیا اور اس نے آپ سے کچھ چپکے سے کہاہم لوگ نہ سمجھ سکے کہ چپکے سے اس نے کیاکہایہاں تک کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلندآوازسے جواب دیااس جواب سے معلوم ہوا کہ وہ ایک ۔۔۔
مزید
بن تیہان بعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ عبیداللہ عتیک کے بیٹے تھے کیوں کہ عبیدکے بیان میں عتیک کو بھی بیان کیاہے ان کا نسب عبیداللہ بن تیہان کے نام میں گذرچکاہے اورابوہثیم کے بھتیجے تھےواقعہ یمامہ میں شہیدہوئے تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔۔۔۔
مزید