ان کا ذکرصلوۃ الاعمی (یعنی نابیناکی نماز پڑھنے کے بیان )میں کیاگیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے اورکہاہے کہ ہم نے کتاب وصائف میں ان کو ذکرکیاہے۔۔۔۔
مزید
ہیں ان کا صحابی ہوناصحیح نہیں ہے۔ان سے محمد بن ابراہیم نے روایت کی ہے ان کو بخاری نے وحدان میں ذکرکیاہے۔محمد بن ابراہیم انصاری نے عبدالرحمن بن معمرسے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم لوگ (رمضان میں)سحری کھایاکرو بے شک اللہ تعالیٰ سحری کھانے والوں پر رحمت نازل کرتاہے اگرچہ تھوڑے ہے چھوہارے سے (سحری)ہو یا روٹی کے ایک ٹکڑے سے ہو۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
سلمی ہیں دثینہ کے حاکم تھے۔حسن بن جعفرنے ابومحمد سے انھوں نے عبدالرحمن بن معقل حاکم دثینہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیاکہ آپ کفتارکی نسبت کیافرماتے ہیں آپ نے فرمایامیں نہ اس کوکھاتاہوں اور نہ اس سے منع کرتاہوں میں نے عرض کیاجب تک آپ منع نہ کریں گے بے شک میں اس کوکھایاکروں گا پھرمیں نےعرض کیاکہ خرگوش کی نسبت آپ کیافرماتے ہیں آپ نے فرمایا نہ میں اس کو کھاتاہوں اور نہ حرام سمجھتاہوں میں نے عرض کیا جب تک آپ حرام نہ کریں گے میں اس کو کھایاکروں گاپھر میں نے عرض کیا کہ لومڑی کی نسبت کیاحکم ہے آپ نے فرمایا(کیا)کوئی اس کو کھاتاہے یعنی وہ کھانے کی چیزنہیں ہے پھرمیں نے عرض کیا بھیڑیے کی نسبت کیاحکم ہے ۔آپ نے فرمایا(کیا)اس کو کوئی شخص کھاتاہے(یعنی وہ بھی کھانے کی چیزنہیں ہے)ان کا تذکرہ تینوں نےلکھاہے۔۔۔۔
مزید
۔ان کو (کچھ لوگوں نے)صحابہ میں ذکرکیاہے مگرصحیح نہیں ہے۔انھوں نے مصر میں سکونت اختیارکی تھی۔یزید ابن ابی حبیب نے سوید بن قیس سے انھوں نے عبدالرحمن معاویہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ کون سی چیزحلال ہے اور کون سی مجھ پر حرام ہے(راوی نےکہا)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کے)سکوت فرمایاپھر(اس شخص نے) رسول خداسے یہی سوال تین بارکیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہربارسکوت کیا۔تھوڑی دیر کے بعد آپ نے فرمایاکہ دریافت کرنےوالاکہاں ہے (اس شخص نے عرض کیایارسول اللہ میں ہوں آپ نے فرمایاجس چیزسے تیراقلب انکار کرے اس کو تو چھوڑ دے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ ۱؎سبابہ انگوٹھے کے برابروالی انگلی کوکہتے ہیں یہ سب سے ماخوذ ہے جس کے معنی برابھلا کہنااورگالی دینا ہے ایام جاہلیت میں اہل عرب کاقاعدہ تھا کہ جب کسی کوبرابھلاکہتے یاگا۔۔۔
مزید
بن عمروبن کعب بن سعدبن تیم بن مرہ قریشی تیمی طلحہ بن عبیداللہ کے چچازاد بھائی اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے ان سے محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی نے روایت کی ہے مگران کو دیکھا نہیں ہے۔ہمیں عبدالوہاب بن علی بن سکینہ نے اپنی سند کوسلیمان بن اشعث تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے ہم سے مسدد نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے عبدالوارث نے حمید اعرج سے انھوں نے محمد بن ابراہیم سے انھوں نے عبدالرحمن بن معاذ سے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے خطبہ پڑھااورہم لوگ (مقام) منٰی میں تھے پس ہم لوگوں کی سماعت ایسی کشادہ(یعنی بہت تیز)ہوگئی کہ آپ جوکچھ فرماتے تھے اس کوہم لوگ سن رہےتھے اور ہم لوگ اپنی اپنی فرودگاہوں میں تھے آپ نے مناسک(حج)تعلیم فرماناشروع کیے یہاں تک کہ کنکریاں پھینکنے کے احکام تک پہنچے ۔توآپنے دونوں سبابہ۱؎انگلیوں کو (برابر)رکھ کرفرمایا(۔۔۔
مزید
بن معاویہ انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ جس شخص کی نمازعصر فوت ہوجائےالخ مگرایک نام میں دوسرے نام کا داخل کردینا صحیح نہیں ہے اسی طرح ابن طہمان نے عباد بن اسحاق سے انھوں نے زہری سے انھوں نے ابوبکربن عبدالرحمن سے انھوں نے عبدالرحمن سے انھوں نے عبدالرحمن بن مطیع بن نوفل سے روایت کی ہے اورابن ابی ذئب نے زہری سے انھوں نے ابوبکرسے انھوں نے نوفل سے مرسل روایت کی ہے ابونعیم نے کہاہے کہ عبدالرحمن ابن مطیع کا تابعین میں شمارہےاورانھوں نے نوفل بن معاویہ سے روایت کی ہے پس بعض متاخرین نے جوکہاہے کہ عبدالرحمن بن مطیع بن نوفل بن معاویہ تویہ بیان(نسب) میں غلطی کی ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
بن غطریف بن عبدالعزی بن جثامہ بن مالک بن لادم بن مالک بن رہم بن یشکر بن مبشربن غوث بن تمیم بن مرکے بھائی ہیں بعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ یہ عبدالرحمن کندہ (کے خاندان)سے ہیں اورشرحبیل بن حسنہ کے بھائی تھےاعمش نے زیدبن وہب سے انھوں نے عبدالرحمن بن حسنہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (مکان سے) نکل کر تشریف لائےاورآپ کے پاس سپرکی مانندکوئی چیزتھی۔اسی کوسامنے (پردہ کے لیے ) رکھ کر آپ نے پیشاب کیابعض لوگوں نے (یہ حالت دیکھ کر )کہادیکھو(رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم )پیشاب کرتے ہیں جس طرح عورتیں پیشاب کرتی ہیں یہ سن کر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیاتم کومعلوم نہیں ہے کہ (اس بارے میں )یعنی اسرائیل پر کیاآفت آئی ان کے یہاں یہ دستور تھا کہ جس چیز میں پیشاب لگ جاتااس کوقینچی سے کاٹ ڈالتے پس ان کے ایک حاکم نے ان کو اس فعل سے منع کیااس کو قبرمیں عذاب ہوت۔۔۔
مزید
ابن مسعود خزاعی ہیں انھوں نے شام میں سکونت اختیارکی تھی محمد بن عثمان بن ابی شیبہ نے ان کا تذکرہ لکھاہے اسمعیل ابن عیاش نے سعید بن عبداللہ خزاعی سے انھوں نے ہثیم بن مالک طائی سے انھوں نے عبدالرحمن بن مسعودخزاعی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے اے لوگوں خوشی اور ناخوشی (غرض ہر حال)میں حاکم کی بات کاسننا اور ماننا اپنے اوپرلازم کرلو(تم لوگ)آگاہ رہو بے شک جو شخص سنے اور مانے اس پرکوئی الزام نہیں ہے جوسنے اور اس کا کوعذر(مقبول)نہیں اورتم لوگ اللہ عزوجل کی طرف نیک گمان رکھنااپنے اوپر لازم سمجھو کیوں کہ اللہ ہربندے کو اس کے نیک گمان کے موافق دیتاہے بلکہ اس سے زیادہ دیتاہے۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابوموسیٰ نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
عمرو کے والد ہیں انھوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔یحییٰ بن شہل نے عمروبن عبدالرحمن سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراف والوں کی کیفیت پوچھی گئی پھرپوری حدیث بیان کی ۔ان کا تذکرہ یہاں پر ابونعیم اور ابوعمر نے لکھاہےاور لوگوں نے عبدالرحمن بن ابی عبدالرحمن کے بیان میں ذکرکیاہے اور ہم نے یہاں پر اس وجہ سے ان کاتذکرہ لکھاہے کہ کوئی شخص ان کا تذکرہ (یہاں پر)نہ دیکھ کریہ خیال کرے کہ میں نے ان کا بیان چھوڑدیاہے۔۔۔۔
مزید
سلمی ہیں ان کا شماراہل مدینہ میں ہے ان سے ابویزیدمدنی نے روایت کی ہے کہ عبدالرحمن نے کہارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرمیں ایک ہزارآٹھ سو صحابی کوساتھ لے کرجہاد کیاپھراس کواٹھارہ حصہ پرتقسیم کیا۔خیبراس وقت میوہ جات سے سرسبزتھالوگ میوہ کھانے میں مشغول ہوگئے (جس کی وجہ سے ان سب کو بخارآگیا۔جب بخار میں مبتلاہوئے)توانھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے (اپنی بیماری کی)شکایت کی آپ نے فرمایااے لوگوں بخار اللہ تعالیٰ (کی طرف سے)قیدخانہ ہے اور(دوزخ کی)آگ کاایک ٹکڑاہے جب وہ تم کوپکڑلے (یعنی جب بخار میں مبتلا ہوجاؤ)تو اس کوپانی سے ٹھنڈا کرو(یعنی غسل کرو حسب الحکم)ان لوگوں نے ویساہی کیاپس ان کا بخارجاتارہا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید