انصاری ہیں ان کی کنیت ابولیلی ہے۔علی مرتضیٰ کے ساتھ واقعہ صفین میں موجود تھے ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصر بیان کیاہے۔۔۔۔
مزید
ابن حبیب جہنی ہیں ان کی حدیث عبداللہ بن نافع زرگرکے واسطے سے مروی ہے عبداللہ بن نافع نے ہشام بن سعد سے انھوں نے معاذ بن عبدالرحمن جہنی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ بیشک رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب لڑکا اپنادایاں بایاں پہچاننے لگے تواس کو نماز کا حکم کرو۔یہ حدیث کسی دوسری سند سے معلوم نہیں ہوتی اس کو ابوعمرنے بیان کرکے کہاہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تومیں ان عبدالرحمن کو عبداللہ بن حبیب کابھائی سمجھتاہوں۔۔۔۔
مزید
حمیری ہیں حمید کے والد ہیں۔ابن مندہ نے کہاہے کہ صحیح یہ ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں دیکھا ان سے ان کے بیٹے حمید نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا صلی اللہ ۱؎پس کیا تم ہماری حالت کاتدارک کرسکتے ہو اور٘اپنی رعیت سے فساد دورکرسکتے ہو ٘اورایسے شخص کومعزول کرسکتےہو جوہمیشہ اپنی خواہش نفسانی کی پیروی کرتاہے ٘اوراپنی کج فہمی سے شہروں کوویران کئے ڈالتاہے٘ جب اس سے کہو کہ اپنی خواہش نفسانی کوترک کر ٘تواس کی گمراہی اوربڑھ جاتی ہے٘۱۲۔ ۲؎ ترجمہ اے نبی جب یہ لوگ کوئی تجارت یاکھیل دیکھتے ہیں تو تم کو(خطبہ پڑھتے ہوئے)کھڑاچھوڑکرچلے جاتے ہیں۔ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب دوشخص پکاریں تو اس کے پاس جاؤ جوبہ نسبت دوسرے کے تم سےقریب ہو اس وجہ سے کہ جس کا دروازہ قریب ہو وہی پڑوس کا زیادہ حق دار ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابو نعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ان کا ذکر حضرت معاویہ اور وائل بن حجرکے قصہ میں آتاہے ان کی والدہ ام الحکم ابوسفیان بن حرب(والدہ حضرت معاویہ کی بیٹی اور حضرت معاویہ کی بہن ہیں) ان عبدالرحمٰن کے والد کانام عبداللہ بن عثمان بن عبداللہ بن ربیعہ بن حارث بن حبیب بن حارث بن مالک بن حطیطہ بن جشم بن قسی ہے۔ثقفی ہیں۔اوربعض لوگ ان کا نسب اس طرح بیان کرتے ہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی عقیل۔ کنیت ان کی ابوسلیمان اور بعض لوگ ابومطرف کہتے ہیں یہ اپنی والدہ ام الحکم ہی کی طرف زیادہ منسوب کیے جاتے ہیں اسی وجہ سےہم نے ان کاذکریہاں کیاانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کی (یعنی ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی دوسرا صحابی راوی ہوتا ہے جس کو یہ ذکرنہیں کرتے)اوربعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ خود صحابی ہیں۔انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازپڑھی ہے ان سے اسماعیل بن عبیداللہ اور عزاز بن حریث اوریع۔۔۔
مزید
ان کا ذکر حضرت معاویہ اور وائل بن حجرکے قصہ میں آتاہے ان کی والدہ ام الحکم ابوسفیان بن حرب(والدہ حضرت معاویہ کی بیٹی اور حضرت معاویہ کی بہن ہیں) ان عبدالرحمٰن کے والد کانام عبداللہ بن عثمان بن عبداللہ بن ربیعہ بن حارث بن حبیب بن حارث بن مالک بن حطیطہ بن جشم بن قسی ہے۔ثقفی ہیں۔اوربعض لوگ ان کا نسب اس طرح بیان کرتے ہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی عقیل۔ کنیت ان کی ابوسلیمان اور بعض لوگ ابومطرف کہتے ہیں یہ اپنی والدہ ام الحکم ہی کی طرف زیادہ منسوب کیے جاتے ہیں اسی وجہ سےہم نے ان کاذکریہاں کیاانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کی (یعنی ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی دوسرا صحابی راوی ہوتا ہے جس کو یہ ذکرنہیں کرتے)اوربعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ خود صحابی ہیں۔انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازپڑھی ہے ان سے اسماعیل بن عبیداللہ اور عزاز بن حریث اوریع۔۔۔
مزید
بن ابی وہب بن عائذ بن عمران بن مخزوم قریشی مخزومی سعید بن مسیب کے چچاہیں غزوہ یمامہ میں شہید ہوئے مسیب بن حزن کے کئی بھائی تھے جن میں سے یہ عبدالرحمٰن اورسائب اور ابو سعید ہیں سب نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایا مگرسوائے مسیب کے (ان میں سے) کسی نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نہیں کی۔ابوعمر نے ان کا تذکرہ لکھاہے۔۔۔۔
مزید
بعض لوگوں نے ان ک ابن سحان کہاہے۔یہ بنی انیف کے بھائی تھے۔(بنی انیف) قبیلہ بلی کی ایک شاخ ہے یہ وہ شخص ہیں جنھوں نے ایک صاع خرمے خیرت دیے تھے۔اورمنافقوں نے ان پر طعنہ زنی کی تھی ان کی کنیت ابوعقیل تھی۔محمد بن سائب نے ابوصالح سے انھوں نے عبداللہ بن عباس سے اللہ تعالیٰ کے اس قول الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقات(کی تفسیر)میں روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ پڑھا اور لوگوں کو صدقہ دینے کی رغبت دلائی اور ان کو مستعد کیا چنانچہ ابوعقیل جن کا نام عبدالرحمن تھا اور بنوانیف کے بھائی تھے ایک صاع چھوہارے لائے اورعرض کی کہ یارسول اللہ میں نے اپنی تمام رات پانی بھرنے میں ختم کردی جس کے عوض مجھ کو دوصاع چھوہارے ملے ان میں سے ایک صاع چھوہارے اپنے گھرکے واسطے چھوڑآیا اور یہ ایک صاع چھوہارے اپنے پروردگار عزوجل کوقرض دیتا ہوں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔۔۔
مزید
یہ اوران کے والد صحابی تھے۔موسیٰ بن میمون بن موسیٰ مرائی نے اپنے والد میمون سے انھوں نے اپنےداداعبدالرحمن بن صفوان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میرے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ ہجرت کرگئے اس وقت آپ مدینہ میں تھے اور انھوں نے آپ سے اسلام پر بیعت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کوبڑھایاصفوان نے دست مارک کا مسح کیااورکہایارسول اللہ میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب رکھتاہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآدمی جس کو دوست رکھے گا(اس کاحشر)اسی کےساتھ ہوگا۔ابن مندہ نے کہاہے کہ یہ شہر حمص کے رہنے والے ہیں اورانھوں نے محمد بن عمروبن اسحاق سے انھوں نے ابی علقمہ یعنی نصربن علقمہ سےانھوں نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے داداعبدالرحمن بن صفوان بن قتادہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے اورمیرے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی(جب ہم دونوں آپ صلی اللہ ع۔۔۔
مزید
بن عامر بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ انصاری ہیں اس نسب کوواقدی نے بیان کیاہےان کی والدہ لیلیٰ بنت نافع بن عامرتھیں ابوعمرنے کہاہے کہ یہ عبدالرحمن غزوۂ بدر میں شریک تھے ابونعیم کہتےہیں کہ غزوۂ احد اور خندق اور ان کے علاوہ سب غزوات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے یہ وہ عبدالرحمن ہیں جنکوسانپ نے کاٹ لیاتھانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمارہ بن حزم سے فرمایاکہ تم ان کی جھاڑپھونک کروعتبہ بن غزوان کے مرنےکے بعد ان (عبدالرحمن)کوحضرت عمرنے بصرہ میں حاکم بنادیاتھا۔ابن عینیہ نے یحییٰ بن سعید سے انھوں نے قاسم بن محمدسے روایت کی ہےکہ حضرت ابوبکرکے پاس (ایک میت کی)نانی اور دادی آئیں حضرت ابوبکر نے میت کی نانی کو اس کے مال میں سے چھٹا حصہ دلادیااوردادی کو کچھ بھی نہ دلایا عبدالرحمن بن سہل نے جوانصار کے خاندان بنی حارثہ میں سے تھےاور غزوۂ بدرمیں شریک ہوچکے تھے کہااے خلیفۂ۔۔۔
مزید
بن زرارہ ۔ان کانسب ان کے والد کے ذکرمیں ہم بیان کرچکےہیں اوربعض لوگ ان کو ابن سعد بن زرارہ بیان کرتےہیں اور ان کا ذکربھی پہلے ہوچکاہے۔اس مقام پر ان کا ذکرصرف ابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید