اتوار , 02 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 19 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدناعبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ

   بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم قریشی مخزومی ہیں ان کی کنیت ابومحمد تھی اور ان کی والدہ فاطمہ بنت ولیدبن مغیرہ تھیں۔مصعب زبیری اور واقدی نے بیان کیا ہے کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت یہ دس برس کے تھے علم اوردین داری اور بلند رتبگی کے لحاظ سے بزرگان اسلام میں ان کا شمارتھا انھوں نے حضرت عمروعثمان و علی و عائشہ صدیقہ وغیرہم سے ( رضی اللہ عنہم)روایت کی ہے اوران سے ان کے بیٹے ابوبکراور شعبی وغیرہ نے روایت کی ہے۔ابومعشر نے محمد بن قنیس سے روایت کر کے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ سے واقعہ جمل کا ذکرکیاگیا تو حضرت عائشہ صدیقہ نے پوچھاکہ کیا لوگ اس واقعہ کا ذکرکیاکرتے ہیں لوگوں نے کہاہاں حضرت عائشہ نے فرمایا(لوگ شاید اس میں کوئی فخرکی بات سمجھتے ہیں مگرمیری حالت تو یہ ہے کہ)مجھے (رہ رہ کے)آرزوآتی ہے کہ کاش میں بھی اسی طرح گھر میں بیٹھی رہتی جس طرح اوراز۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن بن جبر بن عمرو رضی اللہ عنہ

   بن زید بن جشم بن حارثہ بن خزرج بن عمروبن مالک بن اوس اور ان کے نسب میں اس کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں۔کنیت ان کی ابوعیسیٰ تھی اوران کے نام سے زیادہ مشہورتھی۔ ان کا اصل نام عبدالعزی تھا۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن نام رکھا غزوۂ بدر میں شریک تھے اوراس وقت ان کی عمر اڑتالیس برس کی تھی۔کعب بن اشرف یہودی جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کواذیت پہنچاتاتھا اس کے قاتلو میں سے یہ بھی تھے۔ ان سے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج نے روایت کی ہےاسلام سے پہلے یہ عربی خط وکتابت کیاکرتےتھے۔ہم کو مسمار بن عمربن عویس اور ابوالفرح محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی الواسطی اور بہت سے آدمیوں نے خبردی اور اپنی سندوں کو ابی عبداللہ محمد بن اسمٰعیل تک پہنچادیا اور وہ کہتے تھے ۔ہم سے محمد بن مبارک نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیاوہ کہتے تھے مجھ سے یزید بن ابی مر۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ

  اوربعض نے ان کانام عبداللہ بن جابرعبدی بیان کیا ہے۔یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد بن کرآئے تھے یعیش عبدی نے ان سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا جوقاصد رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ان میں میں بھی تھامگرقاصد نہ تھا بلکہ اپنے والد کے ساتھ تھارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کوچند(خاص قسم کے)ظروف میں(جن میں شراب کا استعمال ہوتاتھا)پانی پینے سے منع فرمایا۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابن مندہ نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن بن ثوبان رضی اللہ عنہ

   ان کا ذکرصحابہ میں کیا گیاہے اور ان کی کنیت ابومحمد تھی۔ ان سے طبرانی نے ایک حدیث ۱؎ ترجمہ اے نبی تم ان لوگوں کو جواللہ پراورقیامت پرایمان رکھتے ہیں (کبھی ایسا)نہ پاؤگے کہ وہ ان لوگوں سے محبت کریں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔مطلب حضرت کا اس آیت کی تلاوت سے ان کو متنبہ کرناتھاکہ یہ اپنے مشرک مامؤوں سے قطع تعلق کردیں۱۲ اپنے معجم میں روایت کی ہے (طبرانی نے اپنی سندسے)یحییٰ ابن کثیر سے انھوں نے محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان سے انھوں نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایایہ شہرمدینہ دوقبلوں کی صلاحیت نہیں رکھتاہے پس جونصرانی مسلمان ہوکر پھر نصرانی ہوجائے اس کی گردن مارواورعباد بن کثیر نے یزید بن حفیفہ سے انھوں نے محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان سے انھوں نے اپنے والد سے نقل کیاہے کہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن ابن ثابت رضی اللہ عنہ

   بن صامت بن عدی بن کعب انصاری ہیں ان کوبخاری نے صحابہ میں اورمسلم نے تابعین میں لکھاہے اور ان کے والد نے ایام جاہلیت میں وفات پائی ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن بن بشیر رضی اللہ عنہ

  ۔بعض نے ابن بشر بیان کیا ہے انھوں نے حضرت علی  رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں ایک حدیث رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔اورشعبی وابن سیرین و عبدالملک بن عمیر نے ان سے روایت کی ہے سری بن اسمٰعیل نے عامر شعبی سے انھوں نے عبدالرحمٰن ابن بشیر سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے ہم لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھےحضرت نے فرمایا کہ ایک شخص تم سے حکم قرآنی کی روسے لڑے گا جس طرح میں نے تم سے تنزیل قرآن کے موافق جہاد کیا۔ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھاوہ شخص میں ہوں آپ نے فرمایانہیں۔عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ شخص میں ہوں فرمایانہیں بلکہ یہ جوتاسینے والا اس وقت حضرت علی رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کا جوتاسی رہے تھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے ابونعیم نے بیان کیا ہے کہ میں ان کو ابن ابی سبرد سمجھتاہوں بعض کابیان ہے کہ یہ انصاری ہیں مگرابوعمر نے ان کوابن بشیرلکھا ہے اور ا۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن بن ہذیل رضی اللہ عنہ

   بن ورقاخزاعی ہیں ان کا نسب پہلے بیان ہوچکا ہے۔ابن کلبی نے کہاہے کہ یہ اور ان کے ۱؎یہ مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی مقام پر مقتول ہوجائے اور قاتل کا پتہ نہ چلے تواہل محلہ سے قسم لی جائے گی اگروہ قسم کھالیں کہ ہم نے قتل نہیں کیا نہ ہم قاتل کوجانتے ہیں توپھران سے خون بہا مقتول کا دلوایاجائے۱۲۔ بھائی عبداللہ اہل یمن کی طرف رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد بن کر گئے تھےجنگ صفین میں حضرت علی  رضی اللہ عنہ کے ساتھ دونوں موجود تھے۔ابوعمر نے ان کا تذکرہ لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن ابن بجیدبن وہب رضی اللہ عنہ

   بن قنیطی بن قیس بن لوذان بن ثعلبہ بن عدی بن مجدعتہ انصاری یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ابن ابی داؤد نے اسی طرح بیان کیاہے مگراورلوگ کہتے ہیں کہ یہ صحابی نہیں ہیں۔محمد بن اسحاق نے محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے روایت کی ہے کہ عبدالرحمٰن بن بجید انصاری نے جوبنی حارثہ کے بھائی تھے ان سے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن سہل کو خیبر میں(کسی نامعلوم شخص نے)قتل کرڈالا توان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور محیصہ بن مسعود رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس استغاثہ کرنے کے واسطے حاضرہوئے۔عبدالرحمٰن بن سہل نے جو صغیرسن تھے گفتگو شروع کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑا شخص گفتگوکرے تب حویصہ نے گفتگو شروع کی پس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (خیبرکے)یہودیوں کوبلوابھیجا۔جب یہودی حاضر ہوئے تو انھوں نے اس بات پر اللہ کی قسم کھائی کہ ہم نے عبداللہ بن سہل کوقتل نہیں کیا پھررسول خدا صل۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن بن اشیمرضی اللہ عنہ

   انماری ہیں۔اوربعض نے بیان کیاہے کہ انصاری ہیں ابوعمرنے کہا ہے کہ میں ان کوانصار کا حلیف سمجھتاہوں۔سلمہ بن دروان نےکہاہے کہ میں نے انس بن مالک اورسلمہ بن اکوع اور عبدالرحمٰن بن اشیم کوجوبنی انمار سے تھے دیکھا ہے یہ سب لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اپنے سفیدبالوں میں خضاب نہ لگاتے تھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن ابن اسود رضی اللہ عنہ

   بن عبدیغوث بن وہب بن عبدمناھ بن زہرہ قریشی زہری۔ ان کی والدہ آمنہ بنت نوفل بن اہیب بن عبدمناف بن زہرہ ہیں ۔مسلمانوں میں ان کی قدرومنزلت بہت تھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایا مگرملاقات نہیں ہوئی لہذا ان کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے اور یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں زاد بھائی اور عبداللہ بن ارقم کے چچازاد بھائی تھے۔جنگ صفین کے واقع تحکیم میں شریک تھے۔یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو حضرت ابوموسیٰ اور حضرت عمرو بن عاص  نے (واقع حکمین میں خلافت کے لئے )ذکرکیاتھامگراورلوگوں نے کہا کہ نہ یہ خود مہاجر ہیں نہ ان کے والد مہاجر ین سے تھے(لہٰذا خلافت راشدہ کے لیے ان کاانتخاب مناسب نہیں) حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ کے یہاں ان کی قدرومنزلت زیادہ تھی اسے مروان بن حکم اورسلیمان بن یساروغیرہ نے روایت کی ہے معمر نے زہری سے انھوں نے عوف بن حارث سے انھوں نے مسور بن محزمہ او۔۔۔

مزید