ابن ہلال۔مزنی۔ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے۔کثیر بن عمروبن عوف مزنی نے بکر بن عبدالرحمٰن سے انھوں نے عبداللہ بن ہلال مزنی سے جوکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضرباش تھے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے(کہ آپ فرماتے تھے)میرے بعد کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ حج کے لئے احرام باندھے اور(یوم حج کوعمرہ کے عوض )فسخ کردے۔ان کا تذکرہ تینوں نےلکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن ہلال بن عبداللہ بن ہمام ثقفی ۔ان کا شمار اہل مکہ میں ہے ان سے عثمان بن عبداللہ بن اسود نے یہ روایت کی ہے کہ یہ (ایک دفعہ)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ قریب تھا کہ میں صدقہ کے ایک اونٹ یا ایک بکری کی وجہ سے قتل کیاجاؤں۔تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تم نے صدقہ کی جوچیزلی تھی اگر فقراء مہاجرین کونہ دیتے تو(ضرور)ایساہی ہوتا۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ابوعمر نے کہاہے کہ ان کی حدیث ان لوگوں کے نزدیک مرسل ہے۔۔۔۔
مزید
۔ان کی کنیت ابوعمارہ تھی انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو پایاہے۔ ہمیں ابوربیع یعنی سلیمان ابن محمد بن محمد بن خمیس نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوبرکات یعنی محمد نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے احمد بن عبدالباقی بن طوق یعنی ابونصرنے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں ابوقاسم یعنی نصر بن احمد مرجی فقیہ نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابویعلی یعنی حمد بن علی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے حسن حمادکوفی نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے مسر بن عبدالملک بن ملمع نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ کومیرے والد نے خبردی وہ کہتے تھے کہ میں نے عبدخیر سے دریافت کیا کہ آپ کی عمرکیا ہے توانھوں نے جواب دیا کہ ایک سوبیس برس کی عمرہوچکی ہے میں نے (اس وقت) ان سےعرض کیا کہ آپ ایام جاہلیت کی کوئی بات بیان فرما سکتے ہیں جواب دیا ہاں لو میں بیان کرتا ہوں۔میں ملک یمن میں تھا پس(وہاں) ہم لوگوں کے پاس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ک۔۔۔
مزید
بن عمروبن حرام۔یہ جابر کے بھائی ہیں ان کی کنیت ابوعمرو ہے ابوموسیٰ نے کہا ہےکہ مستغفری نے ان کے تذکرہ کو ایساہی بیان کیا ہےانھوں نے حسن بن سفیان سے حدیث روایت کی ہے یعنی اس حدیث کوبیان کیاہے جو کہ ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ یعنی فاطمہ بنت قیس کے شوہر سے مروی ہے ان کاتذکرہ پھراعادہ کیا جائے گا۔ابوموسیٰ نے کہا ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ کہاں سے ان کو شبہ پڑگیایہ جابر کے بھائی تھے۔ابوعمرو توایک مشہور شخص ہیں واللہ اعلم۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔ ۱؎ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جواب اسمیں مذکورنہیں وہ جواب یہی تھا کہ تم اپنے چچازاد بھائی کی پاسداری میں یہ گفتگو کررہے ہو۱۲۔۔۔۔
مزید
بن عبداللہ بن عمربن مخزوم ۔قریشی مخزومی۔ان کی کنیت ابوعمروتھی اور ان کی والدہ ثقفیہ تھیں۔یہ فاطمہ بنت قیس کے خاوند تھے اور یہ خالد بن الولید کے چچازاد بھائی تھے۔ انھوں نے(اپنی بی بی) فاطمہ کو طلاق مغلظہ دے دی توانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر اپنے نفقہ کے لیے درخواست کی تو آپ نے جواب دیا کہ تمھارے لیے نفقہ نہیں ہے۔ ناشرہ بن سمسی نے روایت کی ہے کہ ہم نے عمربن خطاب کوجابیہ کے دن یہ فرماتے ہوئے سناتھا کہ میں نے خالد بن ولیدکو (اپنے عہدہ سے)معزول کردیااوران کی جگہ ابوعبیدہ کوسردار بنادیا توابوعمرو بن حصن بن مغیرہ اٹھے اور (اپنےچچازاد بھائی کی پاسداری میں)حضرت عمر سے یہ تقریر کی کہ واللہ تم نے ایک ایسے لڑکے کومعزول کردیا ہے کہ جس کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حاکم بنایا تھا اور(واللہ تم نے) ایسی تلوارکومیان میں ڈال دیا جس کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ن۔۔۔
مزید
بن الدیان۔کلبی نے بیان کیا ہے کہ یہ وفد بن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تھے۔ان کو بسربن ارطاہ نے قتل کیا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالحجہ کانام عبداللہ رکھ دیا تھا(مگرمشہور اس نام کے ساتھ رہے)ان کا تذکرہ پہلے بھی گذرچکا ہے لفظ حجر کسر ہ حااور سکون جیم کے ساتھ ہےاوربعض لوگوں نے دونوں کو فتح کے ساتھ بیان کیا ہے اس کو امیرابونصر بن ماکولا نے کہا ہے۔۔۔۔
مزید
بن الحکم۔حکمی۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی ہے۔خطاب بن نصرحکمی نے عبداللہ بن جلیل سے انھوں نے عبدالجد بن ربیعہ سے نقل کر کے روایت کی ہے کہ یہ عبدالجد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے نیز آپ کے پاس اہل یمن کے بہت سے لوگ تھے اور عینیہ بن حصن بھی تھے پس اتنے میں آپ نے سب کو آوازدی تو سب کے سب کھڑے ہوگئے سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک شخص (یمنی) کے جو کہ اپنے بدن کو (بوجہ اپنی غربت کے)ایک کپڑے سے ڈھانکے ہواتھا پس میں نے اس کو مخاطب کرکے کہا کہ یہ کیاطریقہ ہے تو اس کے جواب میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کی یہ حیاہے اس کو اہل یمن نے لے لیا ہے اور تمھاری قوم نے چھوڑدیا ہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔حُلَیل۔ضمہ حااور فتح لام کے ساتھ ہے۔۔۔۔
مزید
ابن الحارث بن مالک۔حدسی۔ابراہیم بن غطریف بن سالم حدسی نے جوکہ قبیلہ بن منار کے شخص ہیں روایت کی ہے کہ مجھ سے میرے والد غطریف بن سالم نے بیان کیا انھوں نے اپنے والد سالم کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا انھوں نے عبداللہ بن کدیربن ابی الحلاستہ بن عبدالجبار بن حارث سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداابوطلاسہ سےانھوں نے عبدالجبار بن حارث ابن مالک حدسی سے جو کہ مناری ہیں روایت کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے کہ میں وفدبن کر ملک سراۃ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا پس میں نے آپ کو وہ سلام کیا جو کہ عرب کا دستورتھایعنی انعم صبا عاپس آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عزوجل نےمحمداور اس کی امت کودوسرے سلام کاحکم دیا یعنی السلام علیکم اعلیکم السلام کہاکریں پس میں نے (اسی کے مطابق) السلام علیکم عرض کیا توآپ نے جواب دیاوعلیک السلام اس کے بعد آپ نے دریافت فرمایاکہ تمھارانام کیا ہے تو۔۔۔
مزید
یشکری۔ہمیں ابومنصور بن مکارم نے اپنی سند سے معافی بن عمران تک خبردی انھوں نے یونس بن ابی اسحاق سے انھوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیا وہ کہتے تھے کہ میں کسی ضرورت سے مسجد میں یابازارمیں گیا تو میں نے یکایک وہاں ایک جماعت کودیکھا پس اس جماعت کے قریب گیا تو ان لوگوں نے مجھ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کیے۔پس اس کے بعد یکایک مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک راستہ میں ملاقات ہوئی جو کہ عرفات اورمنیٰ کے درمیان میں تھا۔پس چند سوار میرے سامنے آئے(ان لوگوں کو میں نے انھیں اوصاف کے ساتھ جوکہ مجھ سے بیان کیے گئے تھے پہچانا)اور ایک نے مجھ سے کہا کہ اے شخص تم گھوڑے کے سامنے سے علیحدہ ہوجاؤ اس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اس سوارکوچھوڑدو نہ معلوم اس کی کیاحاجت ہےپس میں آگے بڑھا یہاں تک کہ میں نےآپ کی اونٹنی کی ۔۔۔
مزید
۔نخعی۔یہ موسیٰ کے والد ہیں۔ان کے تذکرہ کو علی عسکری نے افراد میں لکھاہے۔محمد بن فضل راسی نے ابونعیم سے انھوں نے عمربن موسیٰ انصاری سے انھوں نے موسیٰ بن عبداللہ بن یزید نخعی سےانھوں نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیا ہے کہ وہ لوگوں کونمازپڑھارہے تھے پس لوگ ان کے سراٹھانے سے قبل سر اٹھالیتے تھےاوران کے سرجھکانے سے پہلے سرجھکالیتےتھے تو انھوں نے یہ کہا کہ اے لوگوں(میری)اقتداکررہے ہو اگرمستعدہوجاؤ توتم لوگوں کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کیسی نماز پڑھوں کہ جس میں کوئی چیزکم نہ کروں۔اس حدیث کو احمد بن خلید حلبی نے (بھی )ابونعیم سے انھوں نے محمد بن موسیٰ انصاری سے انھوں نے موسیٰ بن عبداللہ سےانھوں نے اپنے والد سے نقل کرکے بیان کیا ہے مگرانھوں نے عبداللہ کو نخعی بیان کیا ہے نیز اس حدیث کوطبرانی نے عبداللہ بن یزید خطمی کے تذکرہ میں بیان کیا ہے یہ انصاری ہیں نخعی نہیں یہی ۔۔۔
مزید