اتوار , 02 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 19 April,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ان کی کنیت ابویزید ہے۔مزنی ہیں۔اوربعض لوگوں نے ان کا نام (فقط) عبدبیان کیا ہے۔ان کی حدیث کوعمروبن حارث نے ایوب بن موسیٰ سے انھوں نے یزید بن عبداللہ مزنی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ اونٹوں میں فرع ۱؎ ہےاوربکریوں میں فرع ہے اور غلام سے معاف کردیاگیا ہےونیز غلام میں بعوض خون قتل کے قصاص نہیں ہے۔بعض لوگوں نے سند میں (بجائے یزید بن عبداللہ کے)یزید بن عبدبیان کیا ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ ابن یزید بن حصن بن عمرو بن الحارث (رضی اللہ عنہ)

   بن خطمتہ بن حبشم بن مالک بن الاوس۔انصاری۔اوسی خطمی ان کی کنیت ابوموسیٰ تھی۔یہ کوفہ میں رہ گئے تھے اور وہیں ایک مکان بنالیاتھا اور یہ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے اس وقت ان کی عمرسترہ سال کی تھی اور غزوہ حدیبیہ کے مابعد غزووں میں بھی شریک تھے ان کو عبداللہ بن زبیر نے کوفہ کاعامل بنادیاتھا۔اور یہ (حضرت)علی بن ابی طالب کے ہمراہ وقعہ جمل اور صفین اور نہروان میں شریک تھے ان سے ان کے لڑکے موسیٰ نے اورعدی بن ثابت انصاری نے جوکہ ان کے نواسے تھے اور ابوبردہ بن موسیٰ نے اورشعبی نے جو کہ ان کے کاتب تھے حدیث روایت کی ہے یہ اکابر صحابہ میں تھے۔ان کے والد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے ہیں۔یہ غزوہ احد اور اس کے مابعد کے غزوات میں شریک تھے۔ ان کی وفات فتح مکہ کے پہلے ہوگئی تھی۔ہمیں ابراہیم ابن محمد فقیہ نے اوراسمعیل بن علی مذکروغیرہ نے اپنی اپنی سندوں کے ساتھ ابوعیسیٰ یعنی محمد بن عی۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  بربوعی۔ان کا نسب معلوم نہیں۔عطوان بن مسکان ضبی نے جمرہ بنت عبداللہ یربوعیہ سے روایت کر کے بیان کیا وہ کہتی تھیں کہ مجھ کو میرے والد بعد اس کے کہ میں نے ان پر صدقہ کرکے اونٹ کو واپس کردیاتھارسول خد اصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور یہ عرض کیا کہ یارسول اللہ میری اس لڑکی کے لیے آپ دعاکردیں تو آپ نے مجھ کو اپنی گود میں بٹھالیااور میرے لیے دعا کی ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھا ہے اور ابوعمر نے ان کے تذکرہ کو ان کی لڑکی حجرہ کے تذکرہ میں لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ ابن یامیل (رضی اللہ عنہ)

  ۔ان کے تذکرہ کوفقط ابن عقدہ نے لکھا ہے۔جعفر بن محمد نے اپنے والد اور ایمن بن مائل سے ان دونوں نے عبداللہ بن یامیل سے روایت کرکے بیان کیا ہے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا تھاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے کہ جس کا میں ولی ہوں اس کے ولی علی (بھی) ہیں۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ ابن یاسر (رضی اللہ عنہ)

  ۔عبسی۔یہ عمار بن یاسر کے بھائی ہیں انشاء اللہ تعالیٰ ان کا پورانسب ان کے بھائی عمارکے تذکرے میں ذکرکیاجائےگا۔یاسر اور یاسرکے لڑکے عبداللہ دونوں مکہ ہی میں مسلمان ہوکر مرے۔ یہ سب سابقین اسلام میں تھے اور ان لوگوں میں تھے کہ جو لوگ فی سبیل اللہ عذاب و مصیبت میں ڈالے گئے تھے۔ ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصر لکھاہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ ابن وہب بن زمعتہ (رضی اللہ عنہ)

   بن الاسود بن المطلب بن اسد بن عبدالعزی بن قصی۔ان کی والدہ زینب ہیں جو کہ شیبہ بن ربیعتہ بن عبدشمس کی لڑکی ہیں۔قریشیہ ہیں۔ابوموسیٰ نے کہا ہے کہ ان کے تذکرہ میں ہمارے بعض اصحاب نے یحییٰ بن عبداللہ بن حارث سے روایت کرکے بیان کیا ہے کہ وہ کہتے تھے  کہ فتح مکہ کے دن جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ان کےپاس تشریف لائے تو سعدبن عبادہ نے یہ عرض کیا کہ ہم نے قریش کی عورتوں میں وہ چیز نہ دیکھی جو کہ بھلائی میں شمارکی جائے تو اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ کیا تم نے بنی امیہ بن مغیرہ کی لڑکیوں کودیکھاہےکیاتم نے قریبہ کودیکھا ہےکیاتم نے ہندہ کودیکھا ہے ضرورتم نے انھیں کو دیکھا ہوگا ان لوگوں کو اپنے باپ بیٹوں کی مصیبت پہنچی ہے۔بعض کہنے والوں نے کہا ہے کا ان کا صحابی ہونا صحیح نہیں ہے اس لیے کہ ان کے والد ابن مسعود سے روایت کرکے حدیث بیان کرتے ہیں اور وہ بھتیجے ہیں عبداللہ۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ ابن وہب (رضی اللہ عنہ)

  اسدی۔ہمیں ابوجعفر بن سمین نے اپنی سند سے یونس بن بکیرتک خبردی وہ ابن اسحاق سے غزوہ حنین کے واقعات میں روایت کرتے تھے کہ انھوں نے کہاابوثواب بن زید نے جوقبیلۂ بن سعد بن بکر کی شاخ بنی ناضرہ کے ایک شخص تھے(حنین کے دن) یہ اشعار کہے تھے۔ ۱؎ الاہل اتاک ان غلبت قریش ہوازن وانحطوب لہا شروط وکنا یاقریش اذا غضبنا یجئی من انعضا ب دم عبیط وکنا یاقریش غضبنا کان الوفنافیہا سعوط فاصبحناتسوقنا قریش سیاق ایعریحد وہا النبیط اس کے جواب میں عبداللہ وہب نے جو قبیلۂ بنی اسد کی شاخ بنی غنم کے ایک شخص تھے یہ اشعارکہے ۱؎ ترجمہ کیا تم نے کبھی سناہے کہ قریش قبیلۂ ہوازن پرغالب آگئے (جوآج تم اس کی آرزورکھتے ہو) ایسے ایسے کاموں کے لئے بڑے ہونے چاہییں ٘اے اہل قریش ہماری یہ حالت تھی کہ جب ہم کو غصہ آتاتھا تو مارے غصہ کے تازہ خون (ہمارے جسم سے ) ٹپکنے لگتا تھا ٘اے اہل قریش ہماری یہ حالت تھی کہ جب ہم کوغصہ ا۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ بن ولید بن الولید بن المغیرہ (رضی اللہ عنہ)

  ا بن عبداللہ بن عمربن مخزوم۔قریشی مخزومی۔یہ خالد بن ولید کے بھتیجے تھےان کے والد ین ولید خالد سے بڑے تھے اور ان سے اسلام لانے میں مقدم تھے۔ان عبداللہ کا بھی نام(پہلے)ولید بن ولید تھاپس جب یہ اپنے صغیر سنی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے گئے تو آپ نے ان سے پوچھاتھا کہ تمھارانام کیا ہے توانھوں نے عرض کیاولید بن ولید۔اس پر آپ نے فرمایا کہ قریب ہے کہ بنی مخزوم ولید(نام کو)لازم کرلیں پس تم اپنا نام عبداللہ رکھ لو۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن ہشام بن عثمان بن عمرو۔قریشی تیمی۔یہ زہرۃ بن معبدکے داداتھے۔اس کو ابوعمرو نے بیان کیا ہے اور ابونعیم نے یہ کہا ہے کہ عبداللہ بن ہشام بن زہرۃ بن عثمان بن عمروبن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ کی والدہ زینب تھیں جوکہ حمید بن زہیربن حارث اس بن عبدالعزی بن قصی کی لڑکی تھیں۔ ہمیں محمد بن محمد بن سرایابن علی وغیرہ نے اپنی اپنی سند وں سےمحمد بن اسمٰعیل جعفی تک خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا وہ کہتے تھے سعید بن ایوب نے بیان کیاوہ کہتے تھے ابوعقیل یعنی زہرۃ بن معبد نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام سے روایت کرکے بیان کیا اورعبداللہ بن ہشام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو پایاتھا کہ وہ کہتے تھے کہ عبداللہ بن ہشام کو ان کی والدہ زینب بنت حمید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور یہ عرض کیا کہ یارسول اللہ اس کو بھی بیعت ک۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن ہداج۔حنفی۔ابراہیم بن منذر خزامی نے ہاشم بن غطفان سے انھوں نے عبداللہ بن ہداج سے روایت کرکے بیان کیا (اورعبداللہ بن بداج نے زمانہ جاہلیت کوبھی پایاتھا)کہ وہ کہتے تھےکہ ایک شخص رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زرد رنگ کا خضاب لگائے ہوئے آیا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کو دیکھ کر)یہ فرمایا کہ یہ اسلام کاخضاب ہے اور ایک شخص سرخ رنگ کاخضاب لگائے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ یہ ایمان کا خضاب ہے اس حدیث کو ابوبکر بن ابی شیبہ مدنی نے ہاشم سے نقل کرکے روایت کیا ہےمگر انھوں نے عبداللہ بن بداج کے واسطہ سے ان کے والد سے روایت کیاہے۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابوموسیٰ نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید