اتوار , 02 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 19 April,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ان کی کنیت ابوہریرہ تھی۔یہ برابر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں رہاکرتے تھے۔ان کے اور ان کے والد کے نام میں بہت سااختلاف ہے چنانچہ کچھ اختلاف گذرچکا ہے اورکچھ آئندہ آئےگا انشاء اللہ تعالیٰ ہم کنیت کے باب میں اس کا تصفیہ کردیں گے اس لیے کہ یہ اپنی کنیت ہے کے ساتھ زیادہ مشہور تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنےلکھاہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن حبیب بن اہیب بن سحیم بن غیرۃ بن سعد بن لیث بن بکر بن عبدمناہ بن کنانہ۔کنانہ لیثی۔یہ (قبیلۂ)عبدشمس کے حلیف تھے اور بعض لوگوں نے کہا کہ (قبیلہ)بنی اسد بن خزیمہ کے حلیف تھے اور ان کے بھانجے تھے۔یہ خیبر کے دن شہیدکیے گئے ہمیں عبداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند کے ساتھ یونس بن بکیرتک خبردی انھوں نے محمد بن اسحاق سے نقل کرکے ان لوگوں کے نام میں جو (واقعہ)خیبرکے دن شہید ہوئے یہ بیان کیاہے کہ(قبیلہ) بنی سعد بن لیث سے عبداللہ بن قلان ابن وہیب بن سحیم تھے جوکہ (قبیلہ)بنی اسد کے حلیف تھے اوران کے بھانجے تھے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن ہانی۔یہ بھائی ہیں شریح بن ہانی بن یزید بن نہیک بن ورید بن سفیان بن ضباب کے ضباب کا دوسرا نام سلمہ ہے وہ بیٹے ہیں ربیعہ بن حارث بن کعب کے حارثی ہیں اس لیے کہ یہ قبیلہ ٔ بنی حارث بن کعب بن مذحج کی ایک شاخ سے ہیں۔یزید بن مقدام بن شریح ہانی نے اپنے والد مقدام سے انھوں نے اپنے والد شریح سےانھوں نے اپنے والد ہانی بن یزید سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے کہ (ایک دفعہ)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم (میرے یہاں)تشریف لائے اور یہ پوچھا کہ تمھارے کتنے لڑکے ہیں میں نے عرض کیا کہ تین یعنی شریح اور عبداللہ اور مسلم تو آپ نے یہ فرمایا کہ ان سب میں بڑاکون ہے تومیں نے عرض کیاکہ شریح تو آپ نے فرمایا کہ جاؤتمھاری کنیت ابوشریح ہے۔امام بخاری نے ان کے تذکرہ کوان لوگوں میں بیان کیاہے جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کوپایاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن ہاد۔ان کاتذکرہ حسن بن سفیان نے(کتاب) وحدان میں لکھا ہے۔ابونعیم نے ان کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ ان کے صحابی ہونے میں شبہ ہے۔عبداللہ بن عمروجمحی نے عبداللہ بن ہاد سے روایت کرکے بیان کیاہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعامیں یہ مانگتے تھے کہ اللہ میرے مجھ کو ثابت قدم رکھ اس بات سے کہ(حق سے)جاؤں اور میری ہدایت کرتاکہ گمراہ نہ ہونے پاؤں اور اے اللہ میرے جیسا کہ تومیرے اور میرے قلب کے درمیان حائل ہوگیاہے ویساہی تومیرے اور شیطان اورشیطان کاموں کے درمیان میں حائل ہوجا۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن نوفل بن الحارث بن عبدالمطلب۔قریشی۔ہاشمی۔ان کی کنیت ابومحمد تھی۔واقدی نے بیان کیا ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو پایاہے مگرانھوں نے آپ سے کوئی روایت نہیں کی ہے۔یہ (حضرت) معاویہ کے زمانہ میں مدینہ منورہ کے قاضی بنائے گئے تھے ان کو مروان بن حکم نے قاضی بنایاتھا۔ایک قول کے مطابق یہی شخص ہیں جو مدینہ میں قاضی بنائے گئے ۔ان کی صورت شباہت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھی۔ان کی وفات۸۴ھ؁ میں ہوئی تھی اور بعض لوگوں کاقول ہے کہ یہ واقع حرہ کے دن ۶۳ھ؁ میں شہید ہوئے اور بعض نے بیان کیا ہےکہ  ان کی وفات حضرت معاویہ کے زمانہ میں ہوئی تھی۔یہ چچاتھے عبداللہ بن حارث بن نوفل بن حارث کے جوکہ بہ کےلقب سے ملقب تھے۔ان کاذکرپہلے گذرچکاہے۔ ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن ابی نملہ۔انصاری۔عقیلی نے ان کا تذکرہ صحابہ میں کیاہے۔ ان کی روایت مشہور ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصراً لکھاہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن فضیل۔ابوموسیٰ نےکہاہے کہ بہت لوگوں نے ان کے والد کا تذکرہ ردیف نون میں لکھا ہے اورعبداللہ ابن مندہ نے ردیف باء مع الغین میں ان کے والد کانام لکھاہے اورکہاہے کہ صحابی ہیں مگر ان کی حدیث روایت نہیں کی عبداللہ بن سالم نے سلیمان بن سلیم ابی سلمہ سے انھوں نے عبداللہ بن نفیل کنانی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ حکم دے کر فارغ ہوگیاہے(اول تو)یہ کہ کوئی بغاوت نہیں کرتا اس لیےکہ اللہ عزوجل نے فرمادیاہے کہ اے لوگوں خبردارہوجاؤ کہ تم لوگوں کی بغاوت کا ثمرہ تمھیں لوگوں کے نفس پر عائد ہوتاہے اور(دوم) یہ کہ کوئی کسی پر مکروفریب نہیں کرتاہے۔(بلکہ اپنے ہی نفس پرکرتاہے) اس لیے کہ اللہ عزوجل نے فرمادیاہے کہ برامکرنہیں گھیرتا مگراس کے اہل وعیال ہی کواور(سوم)یہ کہ عہدشکنی نہیں کرتاہے اس لیے کہ اللہ عزوجل فرماچکا ہے ک۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن فضیل۔ابوموسیٰ نےکہاہے کہ بہت لوگوں نے ان کے والد کا تذکرہ ردیف نون میں لکھا ہے اورعبداللہ ابن مندہ نے ردیف باء مع الغین میں ان کے والد کانام لکھاہے اورکہاہے کہ صحابی ہیں مگر ان کی حدیث روایت نہیں کی عبداللہ بن سالم نے سلیمان بن سلیم ابی سلمہ سے انھوں نے عبداللہ بن نفیل کنانی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ حکم دے کر فارغ ہوگیاہے(اول تو)یہ کہ کوئی بغاوت نہیں کرتا اس لیےکہ اللہ عزوجل نے فرمادیاہے کہ اے لوگوں خبردارہوجاؤ کہ تم لوگوں کی بغاوت کا ثمرہ تمھیں لوگوں کے نفس پر عائد ہوتاہے اور(دوم) یہ کہ کوئی کسی پر مکروفریب نہیں کرتاہے۔(بلکہ اپنے ہی نفس پرکرتاہے) اس لیے کہ اللہ عزوجل نے فرمادیاہے کہ برامکرنہیں گھیرتا مگراس کے اہل وعیال ہی کواور(سوم)یہ کہ عہدشکنی نہیں کرتاہے اس لیے کہ اللہ عزوجل فرماچکا ہے ک۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن نعیم بن نحام۔ان سے حضرت ابن عمر کے غلام نافع اور ابوالزبیر نے روایت کی ہے۔معلی بن اس  نے حرب بن ابی العالیہ سےابوالزبیر سے انھوں نے عبداللہ بن نعیم سے اسی طرح روایت کیاہے معلی نے کہاہے کہ حرب کہتے تھےایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ بیٹھے ہوئےتھےکہ یکایک ایک عورت کاگذر اس طرف سے ہواپس آپ ام المومنین زینب بنت حجش کے پاس گئے اور قضائے حاجت کے بعدباہر تشریف لائے اور فرمایاکہ جب کوئی شخص تم میں سے کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی معلوم ہوتوچاہیےکہ اپنی بی بی کے پاس چلاجائے کیوں کہ عورت شیطان کی صورت میں آتی ہے اورشیطان کی صورت میں جاتی ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نےلکھاہے۔اورابونعیم نے کہا ہے کہ ابن مندہ نے اس حدیث کو ابن ابنی الجبین سے انھوں نے معلی بن اسد سے انھوں نے حرب سے انھوں نے ابوالزبیر سےانھوں نے عبداللہ بن نعیم سے روایت کیاہےاورکہاہ۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن نعیم۔انصاری۔عاتکہ بنت نعیم کے بھائی ہیں۔صحابی ہیں۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے۔۔۔۔

مزید