بن عیاص الکندی: بقولِ جعفر انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر آئی۔ اہلِ شام نے ان سے حدیث سُنی۔ ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن اکثم الخزاعی الکعبی: ہم اکثم بن ابی الجون کے ترجمے میں ان کا نسب بیان کرچکے ہیں۔ جابر کی حدیث میں ان کا ذکر آیا ہے: عبد اللہ بن محمد بن عقیل نے جابر بن عبد اللہ سے روایت بیان کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شبِ معراج کو مجھے جہنّم دکھایا گیا۔ اس میں زیادہ تعداد ان عورتوں کی تھی کہ جنہیں امین راز بنایا گیا مگر انہوں نے راز فشا کردیا۔ اگر ان سے کوئی بات پوچھی گئی تو انہوں نے اخفا سے کام لیا اور اگر انہیں کوئی چیز دی گئی تو انہیں شکر ادا کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ اسی طرح مَیں نے جہنم میں عمرو بن لحی کو بھی دیکھا۔ جس کے سر کے بال بڑے ہُوئے تھے اور معبد بن اکثم اس سے بہت زیادہ مَلتا جُلتا ہے۔ اس نے دریافت کیا، یا رسول اللہ، کیا ایسے آدمی کو بھی جو اس سے مِلتا جلتا ہے۔ کوئی خطرہ ہوسکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ نہیں، تُو مسلمان ہے اور وہ کافر تھا۔ یہ وہ آدمی ہے: جس نے اول از ۔۔۔
مزید
الجذامی: طبرانی نے ان کا شمار صحابہ میں کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے اذناً ابو غالب سے انہوں نے ابو بکر سے انہوں نے سلیمان بن احمد سے انہوں نے محمد بن ینرداد الثوری سے، انہوں نے حسن بن حماد البجلی سجادہ سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید اموی سے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے اُنہوں نے حمید بن رومان سے انہوں نے بعجہ بن زید سے انہوں نے عمیر بن معبد الجذامی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت بیان کی۔ کہ رفاعہ بن زید الجذامی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک وفد کے ساتھ حاضر ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھ کر دیا۔ بسم اللہ الرحمٰن الرّحیم محمد رسول اللہ سے رفاعہ بن زید کو یہ فرمان دے کر اسے اپنی قوم کی طرف اور نیز ان لوگوں کی طرف جوان میں شامل ہیں۔ یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ وہ انہیں خدا اور رسول کی طرف بلائیں۔ جو ایمان لے آیا وہ خدائی گروہ میں شامل ہو گیا اور جس نے انکار کیا، اسے صرف د۔۔۔
مزید
حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی کے چھوٹے بھائی، ۱۲۳۵ھ میں دہلی میں پیدا ہوئے، حفظ قرآن کے بعد والد ماجد حضرت شاہ ابو سعید اور برادر بزرگ اور مولانا شاہ عبد العزیزمحدث وشیخ محمد عابد سندھی مدنی سے تکمیل علوم کی، والد ماجد کے مرید اور خلیفہ تھے، رشد وہدایت کے ساتھ درس حدیث بھی خوب دیتے تھے۔ محرم ۱۲۹۶ھ میں مدینہ منورہ میں آپ کا انتقال ہوا، اکثر مشاہیر علماء آپ کے شاگرد ہوئے صنا وید فرقۂ دیوبندی مولانا قاسم نانوتوی ومولانا رشید احمد گنگنوہی، مولوی خلیل صدر مدرس مظاہر علوم سہارن پور، آپ کے شاگردوں میں سے تھے، (تذکرہ علمائے ہند، تذکرہ کاملان رام پور،) تاج الفحول مولانا شہا عبد القادر بد ایونی قدس سرہٗ حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضل رسول بد ایونی قدس سرہٗ کے فرزند اصغر، اعلیٰ حضرت تاج الفحول محب رسول مولانا شاہ عبد القادر قادری ۱۷؍ رجب ۱۲۵۳ھ میں پید۔۔۔
مزید
الجذامی: طبرانی نے ان کا شمار صحابہ میں کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے اذناً ابو غالب سے انہوں نے ابو بکر سے انہوں نے سلیمان بن احمد سے انہوں نے محمد بن ینرداد الثوری سے، انہوں نے حسن بن حماد البجلی سجادہ سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید اموی سے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے اُنہوں نے حمید بن رومان سے انہوں نے بعجہ بن زید سے انہوں نے عمیر بن معبد الجذامی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت بیان کی۔ کہ رفاعہ بن زید الجذامی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک وفد کے ساتھ حاضر ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھ کر دیا۔ بسم اللہ الرحمٰن الرّحیم محمد رسول اللہ سے رفاعہ بن زید کو یہ فرمان دے کر اسے اپنی قوم کی طرف اور نیز ان لوگوں کی طرف جوان میں شامل ہیں۔ یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ وہ انہیں خدا اور رسول کی طرف بلائیں۔ جو ایمان لے آیا وہ خدائی گروہ میں شامل ہو گیا اور جس نے انکار کیا، اسے صرف۔۔۔
مزید
بن خالد الجہنی: ان کی کنیت ابو روعہ تھی، واقدی نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ قدیم الاسلام ہیں۔ اور ان چار آدمیوں میں شامل ہیں۔ جنہوں نے اپنے قبیلے کےعلم فتح مکہ کے دن اٹھائے ہوئے تھے۔ ان کی وفات ۷۲ ہجری میں ہوئی۔ جب ان کی عمر ۸۰ برس سے کچھ زیادہ تھی تو انہوں نے سکونت صحرا میں رکھی ہوئی تھی۔ ابو احمد حاکم کنیتوں کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ معبد بن خالد کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اور ان کی وفات ۸۰ برس کی عمر میں ۷۳ ہجری میں ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے ان کی کنیت، عمر اور وفات کے بارے میں مذکورہ بالا روایت کی تائید کی ہے۔ نیز ان کا کہنا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے مطابق یہ صاحب وہ معبد بن خالد نہیں ہیں۔ جنہوں نے اول از ہمہ بصرے میں دربارۂ قدر گفتگو کی تھی۔ نیز ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ مجھے علم نہیں کہ معبد الجہنی کس کا بیٹا ہے۔ کیونکہ وہ خالد ک۔۔۔
مزید
الخزاعی: یہ وہی صاحب ہیں، جنہوں نے ابو سفیان کو غزوہ احد کے موقعہ پر دوبارہ مدینے پر حملہ آور ہونے سے روکا تھا۔ عبد اللہ بن عمر نے باسنادہ یونس بن بکیر سے انہوں نے ابن اسحاق سے یہ روایت سُنی کہ عبد اللہ بن ابو بکر بن محمد عمرو بن حزم نے بیان کیا، کہ معبد الخزاعی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حمراء الاسد میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ نبو خزاعہ کے وہ تمام افراد جو مسلمان ہوگئے اور جو ابھی مشرک تھے۔ وہ سب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیر خواہ تھے۔ ان کا میلان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا اور وہ آپ سے کوئی بات نہیں چھپاتے تھے۔ معبد جو ابھی تک مشرک تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے: ’’اے محمد (صلعم) جو تکلیف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو پیش آئی بخدا ہمیں اس سے بڑا دُکھ ہوا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ آپ سے اس بات میں در گُزر کرے۔ حضور ۔۔۔
مزید
مھتمم دارالعلوم غریب نواز مدیر م ماھنامہ پاسبات الٰہ آباد ولادت فاضل گرامی خطیب مشرق مولانا مشتاق احمد نظامی رضوی بن عارف حسن صدر الدین عرف گھاسی بابا (رحمۃ اللہ علیہ) ۱۵؍اگست ۱۹۲۲ء کو موضع سرائے غنی تحصیل بھولپور ضلع الٰہ آباد میں پیدا ہوئے۔ یہ موضع مردم خیز علاقہ ہے۔ جہاں اب بھی مولانا مشتاق احمد نظامی کاپختہ مکان آم کا باغ اور آراضی ہے۔ لیکن اب سکونت شہر الٰہ آباد محلہ دائرہ شاہ اجمل میں ہے۔ تعلیم وتربیت حضرت مولانا مشتاق احمد نے اولاد تعلیم قرآن کریم اور ابتدائی مروجہ تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد والد ماجد حضرت صدر الدین گھاسی بابا رحمۃ اللہ علیہ نے سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی بارگاہ میں مولانا مشتاق احمد نظامی کی حاضری دلائی، اور علوم عربیہ کی تحصیل کے لیے آستانہ خواجہ غریب نواز پر مت مانی۔ یہ۔۔۔
مزید
القرشی: طبرانی نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے اجازۃً حسن بن احمد سے، انہوں نے احمد بن عبد اللہ سے (ابو موسیٰ کہتے ہیں) انہوں نے ابو طالب کوشیدی سے، انہوں نے ابوبکر بن ربذہ سے۔ ان دونوں نے سلیمان بن احمد سے انہوں نے اسحاق بن ابراہیم دہری سے، انہوں نے عبد الرزاق سے انہوں نے اسرائیلی یعنی ابن یونس سے، انہوں نے سماک بن حرب سے انہوں نے معبد القرشی سے روایت کی: کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قدید میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا۔ آیا آج تم نے کچھ کھایا ہے؟ اس نے عرض کیا۔ کھایا تو کچھ نہیں، لیکن پانی ضرور پیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آج یوم عشورہ ہے۔ اس لیے اب کچھ نہ کھانا اور باقی وقت کے لیے روزہ رکھ لینا اسی طرح تمہارے آگے پیچھے جو لوگ ہیں، انہیں بھی کہنا کہ وہ روزہ رکھ لیں۔ ا۔۔۔
مزید
بن قیس بن صخر اور ایک روایت میں معبد بن وہب بن قیس صخر آیا ہے۔ ایک روایت میں معبد بن قیس بن صیفی بن صخر بن حرام بن ربیعہ بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمۃ انصاری السلمی: یہ غزوۂ بدر میں شریک تھے۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابنِ اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر ان کا نسب یوں بیان کیا ہے: معبد بن قیس بن صخر بن حرام بن ربیعہ بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ۔ ان کے بھائی کا نام عبد اللہ تھا۔ اس روایت کے رو سے معبد غزوۂ احد میں بھی شریک تھے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید