بن قیس بن صخر اور ایک روایت میں معبد بن وہب بن قیس صخر آیا ہے۔ ایک روایت میں معبد بن قیس بن صیفی بن صخر بن حرام بن ربیعہ بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمۃ انصاری السلمی: یہ غزوۂ بدر میں شریک تھے۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابنِ اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر ان کا نسب یوں بیان کیا ہے: معبد بن قیس بن صخر بن حرام بن ربیعہ بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ۔ ان کے بھائی کا نام عبد اللہ تھا۔ اس روایت کے رو سے معبد غزوۂ احد میں بھی شریک تھے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔
مزید
: ۔ وہی بات کہی تھی۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعد از فتح مکہ آنے والوں سے فرمایا کرتے تھے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ : ۔ ابو عثمان نہدی نے مجاشع سے روایت کی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بعد از فتح مکہ اپنے بھائی معبد کے ساتھ حاضر ہوئے۔ مَیں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ میں اپنے بڑے بھائی معبد کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کرانے لایا ہوں فرمایا۔ ہجرت تو فتح مکہ کے بعد ختم ہوچکی ہے۔ میں نے عرض کیا۔ کس امر پر آپ سے بیعت ہوسکتی ہے۔ فرمایا، ایمان، اسلام اور جہاد پر۔ میں نے معبد سے اس کا ذکر کیا وہ مجاشع سے عمر میں بڑے تھے۔ کہنے لگے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح فرمایا ہے۔ مجاشع سے ایک اور بات مروی ہے کہ وہ اپنے بھائی مجالد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے بھائی ابی معبد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پا۔۔۔
مزید
بن حمراء: ان کا سلسلۂ نسب یوں ہے: معتب بن عوف بن عامر بن فضل بن عفیف بن کلیب بن حبشیہ بن سلول بن کعب بن عمر و الخزاعی السلولی: بنو مخزوم کے حلیف تھے اور عرف ابن الحمراء تھا۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے، (بہ سلسلۂ مہاجرین حبشہ از حلفائے۔ بنو مخزوم) انہوں نے معتب بن عوف بن عامر بن عامر بن فضل بن عفیف سے (اور یہ وہ آدمی ہے جسے عیہامہ بن کلیب بن سلول بن کعب از بنو خزاعہ کہا جاتا ہے) اسی اسناد سے از ابن اسحاق مروی ہے کہ یہ بنو مخزوم بن نقط و معتب بن عدف بن عامر سے تھے جو بنو خزاعہ سے ان کے حلیف تھے، ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ انہوں نے رسول اکرم رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے کو ہجرت کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور ثعلبہ بن حاطب الانصاری کے درمیان مواخات قائم کردی تھی۔ انہوں نے ۵۷ ہجری میں وفات پائی۔ ایک روایت میں ان کی عمر اس وقت ۷۸ برس تھی۔ طبری کی ۔۔۔
مزید
بن عبید بن ایاس البلوی: یہ انصار کے بنو ظفر کے حلیف تھے۔ ابن اسحاق اور ابن عقبہ نے انہیں غزوۂ بدر کے شرکاء میں شامل کیا ہے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن قشیر: ایک روایت میں معتب بن بشیر بن ملیل بن زید بن عطاف بن ضبیعہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس انصاری اوسی آیا ہے۔ بیعت عقبہ میں اور بدر اور اُحد میں شریک تھے۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ انصار کے بنو ضبیعہ بن زید اور معتب بن فلاں بن ملیل غزوہ بدر میں موجود تھے۔ یہ لاولد تھے۔ یونس کی روایت میں اسی طرح ہے۔ اس نے ان کے والد کا نام نہیں لکھا۔ بکائی اور سلمہ نے ابن اسحاق سے روایت کی اور ان کے والد کا نام قشیر لکھا ہے۔ اسی اسناد سے ابن اسحاق سے روایت ہے کہ ان سے یحییٰ بن عباد بن عبد اللہ بن زبیر نے اپنے والد سے اُنہوں نے اپنے دادا سے اُنہوں نے زبیر سے روایت کی۔ بخدا مَیں نے ایسا محسوس کیا۔ گویا مجھ پر نیند نے غلبہ پالیا ہے۔ مَیں خواب دیکھ رہا ہوں۔ اور معتب بن قشیر کو یہ کہتے سن رہا ہوں: ’’لَوْکَانَ لَنَا مِنَ اللہِ شیْیٌ مَا ۔۔۔
مزید
بن ابی لہب بن عبد المطلب بن ہاشم، قرشی ہاشمی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمزاد تھے اور ان کی والدہ ام جمیل بنتِ حرب بن اُمیّہ تھی۔ جسے قرآن نے حمالۃ الحطب کہا ہے جو ابو سفیان کی بہن تھی۔ جب مکہ فتح ہوا تو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس سے دریافت فرمایا، کہ آپ کے بھتیجے عتبہ اور معتب دکھائی نہیں دیے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! مشرکین قریش کی طرح وہ بھی آگے پیچھے ہوگئے ہیں۔ فرمایا۔ آپ انہیں بلا لائیں۔ حضرت عباس سوار ہوکر گئے اور انہیں عرفہ سے بلا لائے۔ حضور نے انہیں دعوتِ اسلام دی، جو انہوں نے قبول کرلی۔ یہ ابو موسیٰ کا قول ہے۔ ابو عمر لکھتے ہیں: کہ عتبہ اور معتب دونوں غزوۂ حنین میں شریک تھے، چنانچہ معرکۂ حنین میں معتب کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی تھی۔ یہ اسلام میں ثابت قدم رہے۔ ان کی اولاد سے قاسم بن عباس بن محمد بن معتب تھے۔ ان سے ابن ابی ذئب نے روایت کی ہے اور ان کے بیٹے عباس ۔۔۔
مزید
ان کی کنیت ابو حنش تھی۔ طبرانی نے ان کو صحابہ میں شمار کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے اجازتاً حسن سے، انہوں نے احمد بن عبد اللہ سے، ابو موسیٰ کہتے ہیں! انہیں ابو غالب نے، انہیں ابو بکر نے، انہیں ابو القاسم سلیمان بن احمد نے، انہیں ابو یزید قراطیسی نے انہیں نجاح بن ابراہیم ازرق نے انہیں صالح بن عمر واسطی نے اسماعیل بن حنش بن معتمر سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھا رہے تھے کہ ایک عورت آگ کی انگیٹھی لیے آئی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سختی سے منع کیا۔ اور وہ واپس چلی گئی۔ ۔۔۔
مزید
بن ذہل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان کے بیٹے لاحق بن معد نے ان سے روایت کی ہے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابو خالدان کی کنیّت تھی۔ طبرانی نے اِن کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ ابو موسیٰ نے اجازتاً ابو غالب سے، انہوں نے ابو بکر سے۔ ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ انہیں حسن نے، انہیں احمد نے ان دونوں کو سلیمان بن احمد نے، انہیں عبد اللہ بن محمد بن شعیب رجانی نے انہیں محمد بن معمر البحرانی نے، انہیں روح بن عبادہ نے انہیں جریج بن زیاد نے انہیں خالد بن معدان نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مہربان ہے، اس لیے نرمی اور مہربانی کو پسند کرتا ہے اور نرم مزاج آدمی کو اس طرح اعانت کرتا ہے کہ سخت مزاج آدمی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ جب تم ان بے زبان جانوروں پر سواری کرو۔ تو مناسب مقامات پر رات بسر کو۔ اور اگر زمین پر قحط پڑا ہوا ہے۔ تو اس کے دفعیہ کے لیے دعا کرو۔ کیونکہ زمین رات کے وقت ایسی چیزوں کو چھپاتی ہے جو ۔۔۔
مزید
بن حارث بن لحی بن شرجیل بن حارث الکندی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہُوئے تھے۔ یہ ہشام بن کلبی کا قول ہے۔ ۔۔۔
مزید