پیر , 03 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 20 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا معدی کرب رضی اللہ عنہ

بن رفاعہ: ابو رمثہ ان کی کنیت ہے۔ یحییٰ بن مندہ نے ابو العباس احمد بن حسن نصیری حاکم ابو عبد اللہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ اس کے علاوہ اوروں کا بھی یہی خیال ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معدی کرب رضی اللہ عنہ

بن شراجیل بن شیطان بن خدیج بن امرء القیس بن حارث بن معاویہ الکندی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ ابن الکلبی کا قول ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معدی کرب رضی اللہ عنہ

بن قیس: ان کا عرف اشعث الکندی تھا۔ ہم اس سے پہلے ان کا ذکر اشعث مستوفی اور ان کے بھائی سیف کے ترجمے میں آئے ہیں۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معدی کرب رضی اللہ عنہ

الہمدانی: ابو احمد عسکری نے ان کا ذکر کیا ہے۔ اور باسنادہ فضل بن علاء کوفی سے، انہوں نے ثور بن یزید سے انہوں نے خالد بن معدان سے انہوں نے معدی کرب سے روایت کی ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب مَیں گھر میں داخل ہوتا ہوں۔ تو ازحد پریشان ہوتا ہوں۔ آپ نے فرمایا، کسی شریف عورت سے شادی کرلو۔ اس نے اس نصیحت پر عمل کیا اور پریشانی جاتی رہی۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معدی کرب رضی اللہ عنہ

ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ نیز عسکر یعنی علی بن سعید اور جعفر المستغفری نے عمر بن موسی سے، انہوں نے خالد بن معدان سے انہوں نے معدی کرب سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس شخص نے کسی کو آزاد کیا یا طلاق دی اور بعد میں استثنا کا ذکر کردیا۔ تو اس کے استثنا کو قبول کرلیا جائے گا۔ عسکری نے یحییٰ بن عبد الاعظم سے روایت کی ہے۔ ابو موسیٰ کا قول ہے کہ یہ صاحب مقدام بن معدی کرب ہیں، لیکن مَیں یہ نہیں بتاسکتا کہ آیا یہ صاحب اور ان سے پیشتر مذکور آدمی دونوں ایک ہیں یا نہ، واللہ اعلم ۔۔۔

مزید

سیّدنا مُعَّرِض رضی اللہ عن

بن علاط سلمی: حجاج بن علاط کے بھائی ہیں۔ ان کا نسب ان کے بھائی کے ترجمے میں بیان ہوچکا ہے۔ ان کی والدہ ام شیبہ بنتِ طلحہ تھیں۔ معرض معرکۂ جمل میں مارے گئے تھے: ابو عمر کی یہی رائے ہے ارباب سیرو تاریخ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابن مبارک نے بھی ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ معرض معرکۂ جمل میں مارے گئے تھے۔ ان کے بھائی حجاج نے ان کی موت پر ذیل کا شعر کہا۔ وَلَمْ اَوَیَوْمَا کَانَ اکثر سَاعِیْاً بِکَفِّ شِمَالٍ فَارَقتھا یَمْنُھَا ترجمہ: مَیں نے کوئی ایسا دن نہیں دیکھا۔ جِس میں اس نے بائیں ہاتھ سے، بغیر دائیں کے اتنی محنت کی ہو۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیاہے۔ جناب حجاج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مدح میں کئی اشعار کہے ہیں۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معرض رضی اللہ عنہ

بن معیقیب یمامی: شاصویہ بن عبید ابو محمد یمامی نے ان سے حدیث روایت کی ہے، شاصویہ نے معرض بن عبد اللہ بن معرض بن معیقیب سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی ہے کہ وہ حجتہ الوداع میں شامل تھے۔ مکہ میں ایک مکان میں داخل ہوئے۔ وہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ اور آپ کا چہرہ مبارک چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ اس سے عجیب تر جو چیز مشاہدہ کی وہ یہ تھی کہ اہلِ یمامہ کا ایک آدمی ایک بچے کو کپڑے میں لپیٹے ہوئے لایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے سے دریافت کیا۔ کیا تم[۱] جانتے ہو کہ مَیں کون ہوں۔ بچّے نے کہا، آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حضور نے فرمایا، تو نے درست کہا۔ اللہ تجھے برکت دے اس کے بعد وہ بچہ جوانی تک خاموش رہا۔ لوگ اسے مبارک الیمامہ کہتے تھے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ [۱۔ حدیث اس بے مخدوش ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچے سے پوچھنے کی کیا ضرورت۔۔۔

مزید

سیّدنا معضد رضی اللہ عنہ

بن یزید: ان کی کنیت ابو یزید تھی۔ اہل کوفہ سے تھے۔ انہوں نے جاہلیت کا زمانہ پایا تھا۔ حضرت عثمان کے عہد میں آذر بائیجان میں مارے گئے تھے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معقل رضی اللہ عنہ

بن خلیفہ: ایک روایت میں خویلد ہے۔ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی یہ حجازی ہیں۔ ابن ابی ذہب نے عبد اللہ بن یزید ہلال سے روایت کی۔ کہ ابو سفیان اور معقل کے درمیان مخاصمت تھی۔ جنگ حنین میں دونوں میں ایک آدمی کے ہتھیاروں کے بارے میں جھگڑا ہوگیا۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہُوا تو آپ نے معقل سے مخاطب ہوکر فرمایا۔ معقل! قریش کی مخاصمت سے بچ کر رہو تو بہتر ہوگا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معقل رضی اللہ عنہ

سیّدنا معقل رضی اللہ عنہ بن سنان بن مظہر بن عرکی بن فتیان بن سبیع بن بکر بن اشجع بن ریث بن غطفان الاشجعی: ان کی کنیت ابو عبد الرحمان ہے۔ بعض روایات میں ابو زید ابو سمنان اور ابو محمد بھی آئی ہے۔ فتح مکہ میں موجود تھے۔ مدینہ آ گئے اور پھر یہیں رہ گئے۔ فاضل اور متقی آدمی تھے۔ انہوں ہی نے بروع بنت واشق کی حدیث بیان کی۔ اسماعیل اور ابراہیم وغیرہ نے باسناد ہما محمد بن عیسی سے انہوں نے محمود بن غیلان سے انہوں نے زید بن حباب سے انہوں نے سفیان سے انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے انہوں نے ابن مسعود سے روایت کی، کہ ایک آدمی نے ان سے دریافت کیا کہ ایک ایسے آدمی سے کتنا مہر وصول کیا جائے گا جس نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کا مہر بھی مقرر نہ کیا۔ اور اس سے زنا شوئی تعلقات بھی قائم نہ کیے اور وہ مرگیا۔ ابن مسعود نے فتوی دیا کہ اس پر مہر مثل کی ادائیگی فرض ہوگی۔جس میں کوئی کم۔۔۔

مزید