منگل , 04 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 21 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا میمون رضی اللہ عنہ

غیر منسوب ہیں۔ شام میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ اشعث بن سوار نے محمد بن سیرین سے انہوں نے میمون سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح شام سے پیشتر ہی وہاں ایک جاگیر کی درخواست کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فرمان لکھ دیا۔ جس میں جاگیر کا حکم تھا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام فتح ہوا، تو انہوں نے وہ فرمان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا۔ خلیفہ نے اس کے تین حصّے کر کے ایک حصّہ مسافروں کے لیے ایک اس کی تعمیر کے لیے اور ایک جناب میمون کے لیے مخصوص کردیا۔ ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا مینار رضی اللہ عنہ

ان کے بیٹے کا نام الحکم تھا اور ہ عنہ وہ ابو عامر راہب کے آزاد کردہ غلام تھے۔ بقول مصعب زبیری جناب مینا غزوۂ تبوک میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ان کے بیٹے الحکم نے ابنِ عمر اور ابو ہریرہ سے روایت کی ہے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مینا رضی اللہ عنہ

غیر منسوب ہیں۔ اسماعیل بن جعفر نے محمد بن عمرو سے انہوں نے ابو سلمہ سے روایت کی، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ہجرت کی رات بھی ایسا ہی ہوا تھا) مقام حجر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا، اے حجر تو خدا کی زمین میں محبوب ترین اور معزز ترین مقام ہے اور اگر مجھے یہاں سے نہ نکالا گیا۔ تو مَیں کبھی نہ نکلوں گا اور آج صرف اس وقت کے لیے مجھے اجازت عطا ہوئی ہے۔ اس کے بعد تا ابد اس زمین سے درخت اکھیڑنا۔ گھوڑوں کو روکنا۔ گری پڑی چیزوں کو سوائے اصل مالک کے اُٹھانا حرام ہے۔ ایک مینا نامی آدمی نے گزارش کی۔ یا رسول اللہ اذخر گھاس کو مستثنیٰ فرما دیجیے، کہ اسے ہم چھتوں پر ڈالتے ہیں اور قبروں میں بھی کام آتا ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ ابو الحسن لبنانی مینا کو اسی طرح لکھتے۔ ایک اور روایت کے مطابق اس کے راوی عباس بن عبد المطلب ہیں۔ نیز اس حدیث میں شاہ یا ابو شاہ کا ذکر بھی آیا ہے جو ت۔۔۔

مزید

سیّدنا نابغۃ رضی اللہ عنہ

الجعدی: ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے کسی نے قیس بن عبد اللہ کسی نے عبد اللہ بن قیس اور کسی نے حبان بن قیس بن عمر و بن عدس بن ربیعہ بن جعد بن کعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعۃ عامری، جعدی لکھا ہے۔ ابو عمر نے ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے الکلبی نے قیس بن عبد اللہ بن عدس بن ربیعہ لکھا ہے نیزان کے سلسلۂ نسب میں بھی کلبی نے اختلاف کیا ہے جو کچھ ہم نے لکھا ہے، ان کے بارے میں مشہور روایات یہی ہیں۔ انہیں نالغہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ زمانۂ جاہلیت میں شعر کہا کرتے تھے، بعدۂ انہوں نے شعر کہنا بند کردیا۔ اور ۳۰ برس خاموش رہے پھر طبیعت ادھر متوجہ ہوئی اور شعر کہنے لگے اس پر نابغہ(غیر معمولی ذہین) کہلائے انہوں نے جاہلیت اور اسلام میں طویل عرصہ بسر کیا وہ نابغہ، ذبیانی سے عمر میں بڑے تھے نابغہ ذبیانی نابغۂ جعدی سے پہلے فوت ہوگئے اور آخر الذکر ان کے بعد طویل عرصہ تک زندہ رہے بروایتے انہوں نے ۱۱۸ برس عم۔۔۔

مزید

سیّدنا نابل ضی اللہ عنہ

الحبشی جو جناب ایمن کے والد تھے ابو احمد عسال کا قول ہے کہ جنابِ نابل کو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ ہمیں ابو موسیٰ نے کتابتًا اطلاع دی کہ انہیں جعفر بن عبد الواحد ثقفی نے انہیں طاہر بن عبد الرحیم نے انہیں عبد اللہ بن محمد نے انہیں ابو جعفر عبد اللہ بن محمد بن زکریا نے، انہیں بکار بن عبد اللہ بن محمد بن ابن سیرین نے انہیں ایمن بن نابل المکی نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک بدو نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو اونٹنیاں تحفۃً پیش کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرنا چاہیں لیکن وہ رضا مند نہ ہوا آپ نے پھر لوٹانا چاہیں لیکن وہ راضی نہ ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ میں سوائے قریش، انصار اور بنو ثقیف کے اور کسی سے ہدیہ قبول نہیں کرتا ایک جماعت نے بکار سے یہ روایت بیان کی ہے ابو موسیٰ نے بھی اس کی تخریج کی ہے۔  سیّدنا نا۔۔۔

مزید

سیّدنا ناجیہ ضی اللہ عنہ

بن اعجم اسلمی انہوں نے امیر معاویہ کے عہد میں مدینے میں وفات پائی لاولد تھے یہ قول ابن شاہین کا ہے جو انہوں نے محمد بن سعدد اقدی سے نقل کیا ہے ابو موسی نے اسے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن ابی مسبقہ باہلی رضی اللہ عنہ

ابن ابی مسبقہ باہلی۔ان کی حدیث شبل بن نعیم باہلی نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں حجتہ الوداع میں رسول خدا صلی اللہ علی وسلم کے پاس گیا میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اونٹ پر سوار ہیں آپ کی پنڈلیاں رکاب میں ایسی معلوم ہوتی تھیں کہ گویا چھوہارے کے درخت کا گابھا میں آپ کے پیروں سے لپٹ گیا(اتفاقاً) آپ کے ہاتھ سے میرے کوڑا لگ گیا میں نے کہا یارسول اللہ قصاص ملنا چاہیے پس آپ نے اپنا کوڑا مجھے دے دیا (کہ لوتم بھی مجھے مارلو) پس میں نے آپ کی پنڈلی اورآپ کے پیروں کو چوم لیا بعض لوگ ان کو عباللہ بن ابی سقیہ کہتے ہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن مزین رضی اللہ عنہ

ابن مزین۔زید بن مزین کے بھائی ہیں۔ابن عقبہ نے ان کا ذکران لوگوں میں کیا ہے جوخاندان بنی حارث بن خزرج سے بدرمیں شریک تھا اور ابن اسحاق نے زید کو ان لوگوں میں ذکرکیا ہے جو بدر میں شریک تھے اور ابوعمرنے عبداللہ کوان کے بھائی زیدکے تذکرہ میں ضمناً بیان کردیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ

مزنی۔ان کا نسب نہیں بیان کیا گیا بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ان کے والد کا نام مغفل تھا۔ان کی حدیث ابومعمر نے عبدالوارث سے انھوں نے حسین معلم سے انھوں نے ابن بریدہ سے انھوں نے عبداللہ مزنی سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہیں ایسانہ ہو کہ بدوی لوگ تمھاری نماز کے نام غلط کردیں۔ان کا تذکرہ تینوں نےلکھا ہے۔یہ عبداللہ مغفل کے بیٹے ہیں اس میں کچھ شبہ نہیں اور یہ حدیث بھی انھیں کی ہے واللہ اعلم۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن مرقع رضی اللہ عنہ

ابن مرقع اوربعض لوگ ان کو عبدالرحمٰن کہتے ہیں۔ ان سے ابویزید مدنی نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرکو جب فتح کیا اس وقت آپ کے ساتھ ایک ہزار آٹھ سوآدمی تھے پس آپ نے مال غنیمت کے ایک ہزار آٹھ سو حصہ کردیے پس سب لوگوں نے میووں کو کھایا تو بخار میں مبتلا ہوگئے لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ مغرب اور عشاء کے درمیان اپنے اوپرپانی ڈالیں۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید