ابن مظعون بن حبیب بن حذافہ بن جمحی قریشی جمحی۔ان کی کنیت ابومحمد ہے۔یہ اوران کے بھائی عثمان بن مظعون ملک حبش میں ہجرت کرکے چلے گئے تھے اور یہ اور ان کے بھائی غزوۂ بدر میں شریک تھے واقدی نے لکھاہے کہ ان کی وفات ۳۰ھ میں ہوئی اس وقت ان کی عمرساٹھ سال کی تھی ان سب بھائیوں میں سے سواقد امہ بن مظعون کے اور کسی سے کوئی حدیث مروی نہیں ہے مظعون کے لڑکے عبداللہ بن عمروبن خطاب رضی اللہ عنہم کے ماموں تھے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن مطیع بن اسود بن حارثہ بن نضلہ بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب قریشی عدوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیداہوئے تھے حضرت نے ان کی تحنیک۱؎ کی تھی جب اہل مدینہ نے زمانہ یزید بن معاویہ میں بنی امیہ کو مدینہ سے نکال دیا اوریزید کی بیعت توڑدی تو یہ عبداللہ بن مطیع قریش کے سردارتھےجب واقعہ حرہ میں اہل شام کواہل مدینہ پرفتح حاصل ہوئی تو یہ عبداللہ بن مطیع بھاگ کر مکہ میں عبداللہ بن زبیرسے جاملے اوران کے ساتھ محاصرہ میں شریک تھے جبکہ ان لوگوں ۱؎حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کامعمول تھا جب کسی کے یہا ں بچہ پیداہوتاتھا تو اس کو حضورنبوی میں لے جاتے آپ اس بچہ کو گود میں لیتے دعادیتے اورکھجورچباکر اپنے دہن مبارک سے اس کے منہ میں ڈال دیتے اسی کو تحنیک کہتے ہیں۔ کااہل شام نے واقعہ حرہ میں محاصرہ کرلیاتھااور یہ عبداللہ بن مطیع انھیں کے پاس رہے یہاں تک حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن۔۔۔
مزید
ابن مطلب بن حنطب بن حارث بن عبیدبن عمربن مخزوم قریشی مخزومی۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ ہمارے بعض مشائخ نے بیان کیا ہے کہ یہ صحابی ہیں انھوں نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاابوبکروعمر(میرے )کان اورآنکھ کے قائم مقام ہیں۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔اورابن ابی حاتم رازی نے بھی ان کاذکرکیاہے اورکہاہے کہ یہ صحابی ہیں۔ابن ابی فدیک نے عبدالعزیز بن مطلب سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے انکے داداعبداللہ بن مطلب بن حنطب سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے (ایک دن) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھاہواتھا کہ ابوبکروعمر سامنے سے آئے حضرت نے فرمایا یہ دونوں (دین کے )کان اورآنکھیں ہیں۔ہم سے یہ حدیث ابراہیم بن محمد فقیہ وغیرہ نے اپنی سند سے ابوعیسیٰ(امام ترمذی)تک بیان کی کہ وہ کہتے تھے ہم سے قتیبہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ابن ابی فدیک نے عبدالعزیز (بن مطلب سے) انھوں نے اپنے والد سے۔۔۔
مزید
ابن مسیب۔عسکری نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے۔ابن جریج نے محمدبن عباد بن جعفر سے انھوں نے ابوسلمہ بن سفیان اور عبداللہ بن مسیب اورعبداللہ بن عمروسے روایت کی ہے یہ لوگ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مکہ میں ہمیں فجرکی نماز پڑھائی آ پ نے نماز میں سورۂ مومنون پڑھنا شروع کی یہاں تک کہ جب حضرت موسیٰ و ہارون و عیسیٰ علیہم السلام کا ذکر آیا تویکایک آپ کوکھانسی آنے لگی پس آپ نے سجدہ کردیا انھوں نے اس حدیث کواسی طرح روایت کیا ہے یہ سندان تینوں سے ثابت ہے اور یہ تینوں اس حدیث کو عبداللہ بن سائب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن مالک بن ابی قین۔خزرجی۔کعب بن مالک کے بھائی ہیں ان سے ان کے بھتیجے عبداللہ نے روایت کی ہے مگر ان کی روایت معلوم نہیں۔ان کی اور روایت بھی ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن مالک غافقی۔کنیت ان کی ابوموسیٰ ہے بعض لوگ ان کو مالک بن عبداللہ کہتے ہیں ۔مصری ہیں۔ ابن وہب نے ابن ربیعہ سے انھوں نے عبداللہ بن سلیمان سے انھوں نے ثعلبہ بن ابی کنود سے انھوں نے عبداللہ بن مالک غافقی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ حضرت عمر سے فرماتےتھے کہ جب مجھے نہانے کی ضرورت ہوتی ہے تو میں وضو کرکے کھاپی لیتاہوں مگرنماز نہیں پڑھتا اورقرآن نہیں پڑھتا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن مالک حجازی اوسی۔انصار کے قبیلۂ اوس سے ہیں حجاز میں رہتے تھے۔صحابی ہیں۔ہمیں ابویاسر بن ابی حبہ نے اپنی سند سے عبداللہ بن احمد تک خبردی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ کہتے تھےہم سے یعقوب برادرزادہ زہری نے اپنے چچاسےانھوں نے عبداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت کرکے بیان کیا کہ ان سے شبل بن خلید مزنی نے عبداللہ بن مالک اوسی سے نقل کرکے بیان کیا کہ وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایالونڈی اگرزناکرے تواس کو درہ مارو اس کے بعد پھرزناکرے تواس کو بیچ ڈالوچاہے وہ ایک رسّی کے عوض میں بکے۔اس حدیث کوسفیان عینیہ نے زہری سے انھوں نے عبداللہ سے انھوں نے حضرت ابوہریرہ اورزند بن خالد اورشبل سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیاہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن مالک بن بحینہ ۔بحینہ ان کی والدہ کا نام ہےاورمالک ان کے والد ہیں۔مالک بیٹے ہیں قشب ازدی کے۔قبیلۂ ازد شنواوسےبنی مطلب بن عبدمناف کے حلیف تھے۔مقام بطن ریم میں جومدینہ کے اطراف میں ہے رہتے تھے۔کنیت ان کی ابو محمد ہے بعض لوگوں کابیان ہے کہ بحینہ ان کی دادی کا نام ہےمگرابوعمرنے کہاہے کہ پہلاقول صحیح ہے۔ ان سے ان کے بیٹے علی نے اور عطاء بن یسار نے اور اعرج نے اورمحمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان وغیرہم نے روایک کی ہے۔ہمیں اسمعیل بن عیل وغیرہ نے اپنی سند سے ابوعیسی (ترمذی) تک خبردی کہ وہ کہتے تھے ہم سے قتیبہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے لیث نے ابن شہاب سے انھوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے انھوں نے عبداللہ بن بحینہ ازدی سے جو بنی مطلب کے حلیف تھے نقل کرکے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ظہر کی نماز میں قعدہ بھو ل کر اٹھ کھڑے ہوئے پھرجب آپ نے نمازپوری کرلی توقبل سلام کے بیٹھے بیٹھے (سہوکے)د۔۔۔
مزید
ابن مالک بن ابی اسید بن رفاعہ بن ثعلبہ بن ہوازن بن اسلم بن افصٰی اسلمی۔یہ عبداللہ بن ابی اوفی بن حارث بن اسید اسلمی کے چچاہیں۔ ان سے عقبہ بن عامر نے روایت کی ہے کہ یہ کہتے تھے ہم ایک عمرو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گئے جب مقام رابغ میں پہونچے اس وقت میں حضرت کے پہلومیں بیٹھاتھاتو آپ نے سورۂ قل ہواللہ احداورمعوذتین کی فضیلت بیان کی۔اس کو ابو علی غسانی نے ابن کلبی سے نقل کیا ہے اور ابواحمدعسکری نے بھی ایسا ہی بیان کیاہے۔۔۔۔
مزید
ابن ماعز تمیمی۔ ان کا شمار اہل بصرہ میں ہے۔ان کی حدیث عبید بن عبدالرحمٰن سے مروی ہے۔ ہنید بن قاسم نے جعید بن عبدالرحمٰن سے انھوں نے عبداللہ بن ماعزسے روایت کی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں گئے اورآپ سے بیعت کی اورکہا کہ ماعز سب لوگوں کے بعد اسلام لائے ہیں پس ان کوکوئی شخص مضرت نہ پہنچائے حضرت نے ان سے اسی شرط پر بیعت لے لی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید