ابن ماعز تمیمی۔ ان کا شمار اہل بصرہ میں ہے۔ان کی حدیث عبید بن عبدالرحمٰن سے مروی ہے۔ ہنید بن قاسم نے جعید بن عبدالرحمٰن سے انھوں نے عبداللہ بن ماعزسے روایت کی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں گئے اورآپ سے بیعت کی اورکہا کہ ماعز سب لوگوں کے بعد اسلام لائے ہیں پس ان کوکوئی شخص مضرت نہ پہنچائے حضرت نے ان سے اسی شرط پر بیعت لے لی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن لَتبیہ ازدی۔ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کبھی زکوۃ کی تحصیل کرنے پر مقررکیاتھا۔ ان کا ذکر ابوحمید ساعدی کی حدیث میں ہے۔ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ مختصر لکھا ہے۔ ان کا تذکرہ انشاء اللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں ان لوگوں میں ہوگاجو ابن کے ساتھ مشہورہیں اور نام ان کا محقق نہیں ہوا۔۔۔۔
مزید
ابن لبید بن ثعلبہ۔زیاد بن لبید بیاضی کے بھائی ہیں۔ان کا نسب ان کے بھائی کے نام میں گذرچکا۔غزوۂ احد اوراس کے بعد کے تمام شاہدین میں شریک ہوئے۔اس کو ابوعلی غسانی نے عددی سے نقل کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن کعب مرادی۔صفین میں شہید ہوئے۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مخصوص اصحاب میں تھے ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن کعب بن مالک بن ابی کعب۔انصاری سلمی۔ابواحمدعسکری نے ان کا تذکرہ ان لوگوں میں لکھا ہے جونبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے۔۔۔۔
مزید
ابن کعب بن عمروبن عوف بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن نجار۔انصاری خزرجی نجاری ثم المازنی۔غزوۂ بدرمیں شریک تھے اور بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مال غنیمت کی حفاظت کےلیے مامورتھےتمام مشاہد میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک رہے۔اور بدر کے علاوہ دوسرے غزوات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خمس پر متعین رہے۔کنیت ان کی ابوالحارث ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں ابویحییٰ۔یہ ابوعمرکاقول ہے اورابونعیم اور ابوموسیٰ نے کہا ہے کہ بدر میں شریک تھے یہ نہیں بیان کیاکہ خمس پر متعین تھے کیوں کہ ابونعیم اورابن مندہ نے بیان کیا ہے کہ خمس پروہ عبداللہ بن کعب متعین تھے جن کا ذکر اوپرہوچکا۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابوعمر اور ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔ابوعمرنے کہا ہے کہ ان کی وفات ۳۰ھ میں مدینہ میں ہوئی اور حضرت عثمان نے ان کے جنازہ کے نمازپڑھائی۔ میں کہتاہوں کہ ابونعیم نے ان عبداللہ کو ان عبداللہ کے ۔۔۔
مزید
ابن کعب بن زید بن عاصم۔کنیت ان کی ابوالحارث ہے۔بنی مازن بن نجارسے ہیں۔انصاری ہیں خزرجی ہیں ۔غزوۂ بدر میں شریک تھے ۔بدر کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مال غنیمت کی حفاظت کے لیے مقررکیاتھا۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نےلکھاہےاورابونعیم نے کہا ہے کہ بعض لوگ ان کو عبداللہ بن کعب بن عاصم کہتے ہیں ابن مندہ نے لکھا ہے کہ ان کی وفات ۳۳ھ میں ہوئی حضرت عثمان نے ان کے جنازہ کی نماز پڑھائی۔ابن مندہ نے ان کا نسب اس طرح بیان کیا ہے عبداللہ بن کعب بن عاصم بن مازن بن نجار غرضیکہ کئی نام انھوں نے درمیان سے حذف کردیے ہیں۔۔۔۔
مزید
(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ) ابن کعب حمیری ازدی۔اہل شام سے ہیں ۵۸ھ میں ان کی وفات ہوئی ۔ان کا تذکرہ ابن مندہ نے مختصر لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
کنیت ابوقابوس ان کا نسب نہیں بیان کیاگیاشمار ان کا اہل کوفہ میں ہے ان کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام محارق ہےسماک نے قابوس بن عبداللہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے وہ کہتے تھے حضرت عباس کی بی بی ام الفضل رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا کہ یارسول اللہ میں نے خواب دیکھا ہےکہ آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا میرے گھر میں ہے آپ نے فرمایا کہ تم نے اچھاخواب دیکھافاطمہ سے ایک بچہ پیداہوگا کہ تم اس کو (اپنے بیٹے)قثم کے ساتھ دودھ پلاؤگی (چنانچہ ایسا ہی واقع ہوا)پھروہ اس بچہ کو لے کر رسول خدا کے پاس آئیں اس بچہ نے حضرت کے اوپر پیشاب کردیاام الفضل نے اس بچہ کو (آہستہ سے)ماراتو حضرت نے فرمایا کہ اللہ تم پررحم کرے تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی پھرفرمایا کہ لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑک دینا کافی ہے اورلڑکی کے پیشاب کودہونا چاہیے۔اس روایت میں یہ نہیں ذکرہوا کہ یہ لڑکا ۔۔۔
مزید
ابن فضالہ مزنی۔ابوموسیٰ نے کہا ہے کہ یہ لیثی کے علاوہ ہیں۔ابراہیم بن جعفر نے عبداللہ بن سلمہ حبیری سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے عمروبن مرہ جہنی اورعبداللہ بن فضالہ مزنی سے جو دونوں صحابی تھے اور جابر بن عبداللہ سے بھی روایت کی ہے کہ یہ سب لوگ کہتے تھے سب سے پہلے علی بن ابی طالب ۱ اسلام لائے تھے۔ان کا تزکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید