منگل , 04 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 21 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا عبداللہ ابن فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ

ابن فضالہ لیثی۔کنیت ان کی ابوعائشہ ہے۔ان سے روایت ہے کہ یہ کہتے تھے میں زمانہ جاہلیت میں پیداہواتھا میرے والد نے میرے عقیقہ میں ایک گھوڑا ذبح کیا تھا۔مگرسنداس حدیث کی صحیح نہیں ہے۔اس میں اختلاف ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئے تھے یا نہیں مسلمہ بن علقمہ نے داؤد بن ابی ہند سے انھوں نے ابوجرب بن ابی اسودسے انھوں نے عبداللہ بن فضار سے روایت کی ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آئے تھے نیز اس کو خالد واسطی نے زہیر سے انھوں نے ابن اسحاق سے انھوں نے داؤد بن ابیحرب سے انھوں نے عبداللہ بن فضالہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اوریہی صحیح ہے یہ ابوعمرکاقول ہے اور ابن مندہ اورابونعیم نے کہا ہے کہ ان کا صحابی ہونا صحیح نہیں ان کاشمار تابعین میں ہے بعض لوگوں نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہے۔خلیفہ نے کہا کہ عبداللہ بن فضالہ بصرہ کے قاضی تھے۔ابوعمر نے کہاہے کہ جس قدر حدیث۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ غفاری رضی اللہ عنہ

غفاری۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ نے لکھا ہے مگرانھوں نے صرف نام لکھ کر چھوڑدیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن غالب رضی اللہ عنہ

ابن غالب لیلی۔کبار صحابہ سے ہیں۔انھیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲ھ؁ میں ایک لشکر کے ہمراہ بھیجاتھا ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عیاش ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ

ابن عیاش بن ابی ربیعہ۔ابوربیعہ کا نام عمروبن مغیرہ بن عبداللہ بن عمروبن مخزوم ہے۔قریشی مخزومی ہیں۔سرزمین حبش میں پیداہوئے تھے کنیت ان کی ابوالحارث ہے ان کی والدہ اسماء بنت محزمہ بن جندل بن ابیر بن فثل تمیمہ ہیں۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔اور حضرت عمروغیرہ صحابہ سے بھی روایت کی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےجوان کی روایتیں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جس کو ان سے عبداللہ بن حارث نے روایت کیاہےوہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم آل ابی ربیعہ کے کسی گھر میں تشریف لے گئے یا تو کسی مریض کی عیادت کے لیے یااورکسی کام کے لیے توآپ سے اسماء بنت محزمہ تمیمیہ نے جو عیاش بن ابی ربیعہ کی والدہ تھیں کہا کہ یا رسول اللہ آپ ہمیں کچھ نصیحت کیوں نہیں فرماتے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ام جلاس اپنی بہن (مومنہ)کے ساتھ وہی معاملہ کروجس کو تم اپنے سات کیاجانا پسند کرت۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن کریز رضی اللہ عنہ

ابن کریز۔ان کا تذکرہ علی بن سعید عسکری نے افراد میں لکھا ہے۔عبداللہ بن مصعب بن ثابت بن عبداللہ بن زبیر نے اپنے والد سے انھوں نے حنظلہ بن قیس سے انھوں نے عبداللہ بن زبیر سے انھوں نے عبداللہ بن کریز سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل کیا جائے وہ بھی شہید ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن کرز لیثی رضی اللہ عنہ

ابن کرز لیثی۔ان کا ذکر حضرت عائشہ کی حدیث میں ہے۔ابن شہاب نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ ایک روز بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے گرد مہاجرین وانصار تھے پس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کی مثال اور اس کے مال واولاد کی مثال مثل اس شخص کے ہے جس کے تین بھائی ہوں پس اس نے مرتے وقت اپنے ایک بھائی سے جومال ہے کہا کہ اب تو میرا کیا کام کرسکتاہے دیکھتا ہے کہ اب ہر حالت مجھ پر طاری ہے تو مال نے جواب دیا کہ اب میں تیرے کچھ کام نہیں آسکتا نہ کچھ نفع پہنچا سکتاہوں ہاں جب تک تو زندہ ہے مجھ سے جس قدر چاہے نفع لے لے مگر جب میں تجھ سے جدا ہوجاؤں گا توپھر جہاں تو مجھے نہ لے جاناچاہتاتھاجاؤں گا اور مجھے دوسرے دوسرے لوگ لیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب لوگوں کی طر ف متوجہ ہوکرفرمایا کہ یہ اس شخص کا وہ بھائی ہے جس کا نام مال۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن ابی کرب رضی اللہ عنہ

ابن ابی کرب بن اسود بن شجرہ بن معاویہ بن ربیعہ بن معاویہ اکرمین۔کندی۔کنیت ان کی ابولینہ ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں وفد کے ساتھ گئے تھے اوراسلام لائے تھے۔ان کا تذکرہ ابن شاہین نے لکھاہے یہ عیاض بن ابی لینہ کے والد ہیں حضرت علی کی طرف سے کئی مرتبہ ان کو بڑے بڑے عہدے ملے۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن قیس بن لوذان رضی اللہ عنہ

ابن قنیطی ابن قیس بن لوذان بن ثعلبہ بن عدی بن مجد بن حارثہ انصاری۔غزوہ احد میں شریک تھے اور جسرابی عبیدہ کے دن یہ اوران کے دونوں بھائی عقبہ اور عباد شہید ہوئے ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصر لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن قیس رضی اللہ عنہ

ابن قیس ۔بنی وہب بن رباب کے بھائی ہیں۔ان کو لوگ ابن العوراء بھی کہتےتھے۔یہی ہیں جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھاکہ یارسول اللہ بنی رباب ہلاک ہوئے جاتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعامانگی تھی کہ یا اللہ بنی رباب کی مصیبت دفع کردے۔ہمیں عبداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند سے یونس بن بکیرتک خبردی وہ ابن اسحاق سے روایت کرتے تھے کہ انھوں نے کہا جب قبیلہ بنی نصر کے لوگوں نے قبیلہ بنی رباب کے لوگوں کو قتل کرنا شروع کیا تو لوگ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن قیس نے جن کو ابن العورا بھی کہتے ہیں عرض کیا کہ یا رسول اللہ بنی رباب ہلاک ہوئے جاتے ہیں پس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا اللہ ا ن کی مصیبت کو دفع کر۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن قیس بن محزمہ رضی اللہ عنہ

ابن قیس بن محزمہ بن مطلب بن عبدمناف۔فتح مکہ کے دن اسلام لائے۔یہ ابن شاہین کا قول ہے۔ ابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ مختصر لکھا ہے اور ابواحمد عسکری نے ان کا ذکر ان کے والد قیس کے تذکرہ کے ضمن میں لکھ دیا ہے اور کہا ہے کہ قیس کے دونوں بیٹوں محمد اور عبداللہ نے بھی حضرت کو دیکھا تھا۔۔۔۔

مزید