ہفتہ , 08 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 25 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا عبداللہ ابن قیس انصاری رضی اللہ عنہ

ابن قیس انصاری۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو متفرق طور پر لشکر بھیجے تھے ان میں کسی لشکر میں یہ شہید ہوئے۔حضرت ابن عباس نے روایت کی ہے کہ (ایک مرتبہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روئے زمین پر جو شخص اس حال میں مرے گا کہ اس کے دل میں رائی کے برابربھی غرور ہواللہ اس کو دوزخ میں ڈالے گا جب عبداللہ بن قیس نے اس حدیث کو سنا تو رونےلگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس تم کیوں روتے ہو انھوں نے کہا آ پ کے اسی فرمانے سے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم خوش ہو کہ تم جنت میں جاؤگے پھرنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی لشکر بھیجا یہ اسی لشکر میں شہید ہوئ۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن قیس اسلمی رضی اللہ عنہ

ابن قیس اسلمی۔یزید بن عیاض نے اعرج سے انھوں نے عبداللہ بن قیس سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص بغرض ریا ظاہری کوئی کام کرے اس پر اللہ عزوجل کا غضب ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کام کو چھوڑدے۔یہ ابن مندہ کا قول ہے ابونعیم نے ان سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنی غفار کے ایک شخص سے اس کا حصہ جوخیبر میں تھا ایک اونٹ کے عوض میں مول لیا اس شخص سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوچیز میں نے تجھ سے لی ہے وہ بہتر ہے اس چیز سے جو میں نے تجھے دی اب بھی تجھے اختیار ہے جو چاہے اپنا حصہ لے لے چاہے چھوڑدے اس شخص نے کہا میں لیے لیتا ہوں ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے ابن مندہ نے پہلی حدیث کو اسی تذکرہ میں لکھا ہے۔اورابونعیم نے عبداللہ بن قیس خزاعی کے تذکرہ میں لکھا ہے جن کا ذکر عنقریب ہوگا اور انھوں نے دوسری حدیث اس تذکرہ میں لکھی ہے واللہ اعلم۔مگر ابو۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن قنیع بن اسبان رضی اللہ عنہ

ابن قنیع بن اسبان بن ثعلبہ بن ربیعہ۔ان کا نام عبدعمروتھارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا۔ورید بن صمہ کے قاتل یہی ہیں غسانی نے ابن ہشام سے اس کو نقل کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن قمامہ سلمی رضی اللہ عنہ

ابن قمامہ سلمی۔وقاص بن قمامہ کے بھائی ہیں ان دونوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تحریر لکھ دی تھی۔ابن مندہ نے ان کا تذکرہ اسی طرح لکھاہے اورابوعمراورابونعیم نے ان کا تذکرہ لکھا ہے اور کہا ہے کہ ان کا نام عبداللہ بن قدامہ ہے ۔ان کا تذکرہ اوپرہوچکاہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن قریط زیادی رضی اللہ عنہ

ابن قریط زیادی۔حضرت خالد بن ولید کے ہمراہ بنی حارث بن کعب کے وفد میں آئے تھے یہ سب لوگ اسلام لائے یہ واقعہ ۱۰ھ؁ کاہے ان کا تذکرہ ابوعمرنے اسی طرح لکھا ہے ابن اسحاق سے سلمہ اور یونس نے دریافت کی ہے کہ ان کے والد کا نام قریط تھا اور عبدالملک بن ہشام نے بکائی سے انھوں نے ابن اسحق سے قداذ روایت کیا ہے قداذ کا نام اوپر آچکا ہے یہ دونوں ایک ہیں واللہ اعلم۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن قرہ بن نہیک ہلالی رضی اللہ عنہ

ابن قرہ بن نہیک ہلالی۔انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعاتھی میں نے ابوعبداللہ بن مندہ کی کتاب کے بعض نسخوں میں ایساہی دیکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن قرہ رضی اللہ عنہ

ابن قرہ۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے اور انھوں نے خطیب ابوبکر سے نقل کیا ہے اوربعض لوگوں نے ان کا نام عبداللہ بن قرظ بیان کیا ہے اورروایت ہے کہ ان نام شیطان تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کانام عبداللہ رکھا۔ان کا تذکرہ عبداللہ بن قرظ کے میں ہوچکاہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن قرط ازدی شمالی رضی اللہ عنہ

ابن قرط ازدی شمالی۔زمانہ جاہلیت میں ان کا نام شیطان تھا۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا یہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن دونوں صحابی ہیں۔یرموک میں اور فتح دمشق میں شریک تھے یزید بن ابی سفیان نے ان کے ہاتھ اپناخط حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجاتھا۔ ان کا تذکرہ عبداللہ بن محمد بن ربیعہ نے اپنی کتاب فتوح الشام میں کیا ہے۔ابوعبیدہ نے ان کو دومرتبہ حمص کا حاکم بنایا اور یہ حمص کے حاکم رہے یہاں تک کہ حضرت ابوعبیدہ کی وفات ہوگئی بعد اس کے حضرت معاویہ نے بھی ان کو حمص کاحاکم مقرر کیاانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں روایت کی ہیں اور ان سے عصیف بن حارث اورعمروبن محصن اورسلیم بن عامر جنائری وغیرہم نے روایت کی ہے ہمیں یحییٰ بن محمد بن سعد نے اپنی سند سے ابوبکربن ابی عاصم سے روایت کرکے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن مثنی نے یحییٰ بن قطان سے انھوں نے ثور بن یزید سے۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن قدامہ سعدی رضی اللہ عنہ

ابن قدامہ سعدی۔وقاص بن قدامہ کے بھائی ہیں ان کے والد کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگ قدامہ کہتے ہیں بعض لوگ کچھ اور کہتے ہیں۔ ان کا تذکرہ عبداللہ بن سعدی کے نام میں جوخاندان بنی عامر بن لوے سے ہیں گذرچکا ہے کنیت ان کی ابومحمد ہے ان دونوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تحریر لکھدی تھی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے فرق یہ ہے کہ ابوعمر نے ان کو خاندان عامر سے قرار دیا ہے اور ابن مندہ اورابونعیم نے ان کو سلمی قراردیا ہے اور ابن مندہ نے ان کے والد کا نام بجائے قدامہ کے قمامہ بیان کیا ہے۔ہم ان کاتذکرہ اپنے مقام پر کریں گے۔یہ دونوں ایک ہیں واللہ اعلم۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن قارب کنیت رضی اللہ عنہ

ابن قارب کنیت ابووہب ثقفی اوربعض لوگ ان کو ابن مارب کہتے ہیں ان سے ان کے بیٹے وہب نے روایت کی ہے کہ یہ کہتے تھے میں اپنے والد کے ہمراہ تھا میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ہاتھ اٹھا کا دعا مانگ رہے تھے کہ اللہ پاک سر منڈوانے والوں پر رحم کرے پس ایک شخص نے کہا کہ یارسول اللہ بال کتروانے والوں کے لیے بھی دعا کیجیے پس آپ نے دوسری یا تیسری مرتبہ بال کتروانے والوں کےلیے بھی دعا کی ان کے بارے میں جواختلاف ہے وہ ان کے والد قارب کے نام میں انشاء اللہ تعالیٰ ذکرکیے جائیں گےان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید