بن عمیر یا زید بن عمیر: یہ اس مکتوب کے شاہد ہیں، جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علاء بن حضرمی کو لکھ کر دیا تھا اور ایک مہم پر روانہ کیا تھا۔ ابو موسیٰ نے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن قتادہ: حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے ابو قلابہ سے، انہوں نے حسان بن بلال مزنی سے روایت کی، کہ ہمارے خاندان کا ایک آدمی جو مسلمان تھا فوت ہوگیا۔ اور میری بہن جو اس کے دین کی پیروکار نہ تھی۔ اس کی وارث بنی اس کے بعد میرا والد مسلمان ہوگیا، اور فوت ہوگیا، تو میں نے اس کی میراث سنبھال لی۔ بعد میں میری بہن مسلمان ہوگئی اور مجھ سے والد کی میراث کا حصہ مانگا، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے مقدمہ پیش کیا۔ چنانچہ عبد اللہ بن ارقم نے بیان کیا، کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فتوی دیا تھا، کہ اگر میراث کے تقسیم ہونے سے پہلے کوئی مسلمان ہوجائے، تو وہ میراث میں حصہ دار ہوگا۔ چنانچہ حضرت عثمان نے اس کے مطابق فیصلہ کردیا نتیجۃً میری بہن پہلی میراث تو لے ہی چکی تھی۔ اس میں بھی شریک ہوگئی۔ ابو نعیم ابو عمر اور ابو موسیٰ نے اسے بیان کیا۔ لیکن ابو عمر کو ان کی صحابیت میں شبہ ۔۔۔
مزید
بن قیافہ یا قتادہ: یہ ہلب الطائی ہیں۔ اور باب الہاء میں ان کا ذکر ہوچکا ہے۔ ان کے بیٹے کا نام قبیصہ تھا۔ ان سے ان کے بیٹے نے روایت کی۔ سفیان نے سماک سے، انہوں نے قبیصہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسی کوئی چیز کبھی بھی تیرے دل میں خلجان نہ پیدا کرے، جس میں نصرانیت کو انہماک رہا ہو۔ اسی اسناد سے انہوں نے کئی احادیث بیان کی ہیں۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن قیس بن خارجہ از قبیلۂ تمیم الداری: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر ایمان لائے طبری کہتے ہیں، کہ یزید بن قیس بن خارجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام لائے، تو حسبِ روایت از ابو جعفر باسنادہ از یونس، ازا بن اسحاق، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے (تمیم و نعیم اور یزید بن قیس اور بعض اور لوگوں کے لیے) خیبر کے خراج سے سو وسق کھجوریں مرحمت فرمائیں۔ ۔۔۔
مزید
بن قیس بن خطیم بن عدی بن عمرو بن سوید بن ظفر انصای، ظفری: ان کے والد کی کنیت ابو یزید تھی اور قیس مشہور شاعر تھا۔ یہ صحابی احد کی لڑائی کے علاوہ باقی تمام غزوات میں شریک رہے اور احد میں انہیں بارہ زخم آئے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام شجاع رکھ دیا تھا یہ صحابی حضرت ابو عبیدہ کی کمان میں جسر کے معرکے میں شہید ہوئے تھے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن قیس بروایت ابو نعیم و ابو موسیٰ لیکن ابن مندہ نے یزید بن وقش لکھا ہے۔ یہ قریش اور بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔ ابو جعفر بن سمین نے باسنادہ یونس سے، انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شہدائے جنگ یمامہ داز بنو عبد شمس وغیرہ یزید بن وقش کا نام لیا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کے میں لکھا ہے، کہ ابو زکریا نے یزید بن وقش لکھا ہے۔ اور وقش ان کے دادے کا نام ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن قیس سعید بن قیس کے بھائی تھے۔ بقولِ جعفر وہ اولین مہاجرین سے ہیں۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن قیس بن ہانی بن حجر بن شرحبیل بن عدی بن ربیعہ بن معاویہ الاکرمین الکندی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ یہ کلبی کا قول ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن کعب البہزی: ان سے عمیر بن سلمہ ضمری نے روجاء میں زخمی وحشی گدھے کے متعلق حدیث روایت کی جو یحییٰ بن سعید نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے، انہوں نے عمر بن سلمہ سے اسی طرح روایت کی۔ ابو جعفر عقیلی کہتے ہیں۔ کہ بہزی مذکورکا نام یزید بن کعب تھا۔ ابن مندہ کہتے ہیں، کہ داؤد بن رشید نے باسنادہ یزید بن کعب سے روایت کی کہ عمیر بن سلمہ ضمری نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنگلی گدھا پیش کیا، جودہم ہے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن مالک ابو سیرہ: ان کے ایک لڑکے کا نام سبرہ تھا، اور دوسرے کا عبد الرحمان ہم کنیتوں میں ان کا ذکر کریں گے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید