بن ہانی بن عروۃ المرادی: ہشام بن کلبی نے ابو کران المرادی سے، انہوں نے یحییٰ بن ہانی بن عروۃ المرادی سے روایت کی کہ فروہ بن مسیک ملوک کندہ کو چھوڑ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور ظہور سلام سے پہلے نبو مراد اور نبو ہمدان میں ایک جنگ ہوچکی تھی، جس میں ہمدانبوں کو بنو مراد کے ہاتھوں بڑا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اور اس جنگ کو یوم الروم کہتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اسے فروہ! جنگ روم میں تمہاری قوم کو جو نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ کیا تمہیں بھی اس سے رنج پہنچا تھا، یا رسول اللہ، ایسا کون ہے، جسے وہ نقصان اٹھانا پڑے جو میری قوم کو اٹھانا پڑا اور اسے دکھ نہ ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہر حال اسلام قبول کرنے سے تیری قوم کو فائدہ ہی پہنچا ہے چنانچہ مراد اور زبید کے علاقے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حوالے کردیے۔ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔
مزید
بن ہند بن حارثہ: حدیبیہ اور بیعتِ رضوان میں موجود تھے۔ جعفر نے حاتم بن جان سے یہ قول نقل کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن اخنس بن حبیب بن جرہ بن زغب بن مالک بن خفاف بن امرؤ القیس بن بہثہ بن سلیم بن منصور السلمی: ان کی کنیت ابو معن تھی یہ کلبی کا قول ہے۔ محمد بن سعد نے جو واقدی کے کاتب ہیں، ان کا سلسلۂ نسب یہی لکھا ہے، اور انہیں کوفی بتایا ہے۔ مگر بعض لوگ انہیں شامی شمار کرتے ہیں۔ نیز انہیں ان کے والد اور ان کے بیٹے کو بدری کہتے ہیں، ابو عمر انہیں بدری نہیں کہتے، ہاں البتہ وہ انہیں ان لوگوں میں گردانتے ہیں، جنہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، اور ان سے کثیرہ بن مرہ اور جبیر بن نفیر نے روایت کی، کہ عبد الوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ عبد اللہ بن احمد سے روایت کی، کہ انہوں نے اپنے والد کی ایک کتاب میں ان کے ہاتھ سے لکھا یہ نوٹ دیکھا، کہ انہیں ابو ثوبتہ الربیع نے ایک خط میں تحریر کیا: کہ ہیثم بن حمیدہ نے زید بن واقد سے،ا نہ۔۔۔
مزید
بن اسود الجرشی: ان کی کنیت ابو الاسود تھی، یہ شام میں قیام پذیر ہوگئے تھے۔ ان کا شمار بلا ثبوت صحابہ میں کیا گیا۔ ابن مندہ اور ابو عمر نے ان کی حدیث بیان کی ہے، کہ انہوں نےعزی کی پرستش ہوتی دیکھی۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو نعیم کے مطابق متاخرین نے ان کا ذکر کیا ہے وہ ان کی صحبت کے قائل ہیں۔ لیکن کوئی روایت بیان نہیں کی۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن اسود العامری السوائی: ان کا تعلق بنو سواء بن عامر بن صعصعہ سے تھا۔ ایک روایت میں خزاعی ابو جابر مذکور ہے۔ ان سے ان کے بیٹے جابر نے روایت بیان کی کہ کئی روایوں نے باسناد ہم ابو عیسیٰ ترمذی سے، انہوں نے احمد بن منیع سے، انہوں نے ہشیم سے، انہوں نے یعلی بن عطاء سے، انہوں نے جابر بن یزید سے روایت کی، کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں موجود تھے، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد حنیف میں نماز صبح ادا کی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مڑ کر بیٹھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کو ایک طرف بیٹھے دیکھا جنہوں نے نماز میں شرکت نہیں کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عدم شرکت کی وجہ دریافت کی، تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم پیشتر ازیں نماز ادا کر چکے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر پھر کبھی ایسی صورت پیش آجائے، تو ج۔۔۔
مزید
بن اسید بن ساعدہ: یہ اپنے والد اور اپنے چچا حثمہ انصاری کے ساتھ غزوۂ احد میں موجود تھے۔ ابو عمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن اسیر الضبعی: ایک روایت میں ابن بشیر آیا ہے اور ایک دوسری روایت میں اسیر بن زید مذکور ہے۔ ان سے صرف ایک حدیث مروی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ذی قار کی جنگ، پہلا موقعہ تھی کہ عربوں کو عجم پر فتح حاصل ہوئی۔ یہ ابو عمر کا قول ہے۔ امام بخاری اور ابو حاتم نے ان کے والد کے نام بشیر لکھا ہے۔ امام بخاری نے اپنی تاریخ میں ذی قار کی حدیث ان سے روایت کی ہے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے یزید بن بشیر لکھا ہے، اور ذی قار کی حدیث ان سے روایت کی ہے لیکن وہ ان کی صحبت کے قائل ہیں۔ ۔۔۔
مزید
بن اصم، اصم کا نام عمرو تھا۔ ایک روایت کے مطابق ان کا نسب یوں لکھا ہے یزید بن عبد عمرو بن عدس بن معاویہ بن بکاء بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ، ابو عوف عامری۔ ان کی والدہ کا نام برزہ دخترِ بن حزن ہلالیہ تھا۔ اور ان کی بہن کا نام میمونہ رضی اللہ عنہا تھا۔ جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرم میں تھیں وہ جزرہ میں قیام پذیر ہوگئے تھے۔ وہ جناب میمونہ سے روایت کرتے ہیں۔ اور ان کی حدیث کے راوی ان کے بھتیجے عبید اللہ بن عبد اللہ ہیں۔ جو اپنے چچا یزید بن اصم سے روایت کرتے ہیں۔ میں ایک بار اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گیا۔ نماز کے لیے مسجد میں کھڑا تھا، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ میری خالہ مجھے وہاں کھڑا دیکھ کر چھُپ گئیں۔ اور کہنے لگیں، یا رسول اللہ! اس لڑکے کو دیکھیے، کس طرح شرما رہا ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس کا کسی اچھی بات پر مجھ۔۔۔
مزید
بن امیہ ابوسنان الدیلی: ان کی ولادت غزوۂ احد کے دوران میں واقع ہوئی۔ ان سے نافع نے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، روایت کی ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید