جمعرات , 06 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 23 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن عبد اللہ نامعلوم: یحییٰ بن واضح نے ابو عاصم خالد بن عبید سے، انہوں نے عبد اللہ بن یزید سے انہوں نے اپنےوالد سے روایت کی، کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحرا میں ایک ایسے مقام پر جو خشک تھا، اور جس کے چاروں طرف ریت تھی گئے، آپ نے فرمایا یہ وہ مقام ہے، جہاں سے قیامت کے قریب دابۃ الارض نمودار ہوگا۔ چنانچہ بالشت بھر زمین میں دراڑ دکھائی دی۔ ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

ابو عبد الرحمٰن: ایک روایت میں یزید بن جاریہ اور ایک دوسری روایت میں زید بن جاریہ انصاری آیا ہے۔ ان سے ان کے بیٹے عبد الرحمان نے حدیث روایت کی۔ ابو یاسر نے باسنادہ عبد اللہ بن احمد سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عبد الرحمان سے انہوں نے سفیان سے انہوں نے عاصم یعنی ابن عبید اللہ سے، انہوں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر فرمایا۔ ’’تم اپنے غلاموں کا خیال رکھو، جو کچھ خود کھاؤ، انہیں کھلاؤ، اور جو کچھ خود پہنو، انہیں پہناؤ۔ اگر ان سے کوئی قصور سرزد ہو۔ اور ان سے درگزر نہ کرسکو، تو انہیں فروخت کردو، وہ بھی اللہ کے بندے ہیں، انہیں دکھ مت دو۔‘‘ ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں، کہ یہ صحابی یزید بن جاریہ ہیں، اور ہم اس حدیث کا ذکر یزید بن جاریہ کے۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن عبد المدان حارثی از بلحارث بن کعب: یہ خالد بن ولید کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ایمان آئے۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے، انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی۔ کہ خالد بن ولید حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور ان کے ساتھ بنو حارث بن کعب اور یزید بن عبدا لمدان بھی تھے۔ ایک دوسری روایت میں ہے، کہ جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوئے، تو کلمۂ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوگئے۔ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن عبد: ابو عبد اللہ بن ماجہ نے ان کا ذکر کیا ہے اور یعقوب بن کاسب سے انہوں نے ابن وہب سے، انہوں نے عمرو بن حارث سے، انہوں نے ایوب بن موسیٰ سے، انہوں نے یزید بن عبد مزنی سے روایت کی، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچے کا عقیقہ کیا جائے۔ ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

العقیلی: جعفر کو ان کی صحبت کا علم نہیں۔ یحییٰ نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے، انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، جلد ہی میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو سرحدوں کی حفاظت کریں گے، ان سے حقوق لیے جائیں گے، لیکن ان کے حقوق کوئی نہیں ادا کرے گا۔ یہ میرے ہیں، اور میں ان کا ہوں ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یسار رضی اللہ عنہ

بن ازیر الجہنی: مدنی تھے۔ ان کی بیٹی عمرہٗ ان کے راوی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اور انہیں دو چادریں اوڑھائیں، اور ایک تلوار بھی عطا کی مرتے دم تک میرے والد کے سر کے بال سفید نہ ہوئے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یسار رضی اللہ عنہ

بن اطول: سعد کے بھائی تھے، جن کا نسب بیان ہوچکا ہے۔ یسار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں فوت ہوئے اور وہ مقروض تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی کو حکم دیا، کہ ان کے ترکے سے قرض ادا کرے۔ حاکم ابو احمد نے یہ بیان کیا ہے۔ اور ان کا قصہ ان کے بھائی کے ترجمے میں بیان ہوچکا ہے۔ ابن الدباغ نے یہ ابو عمر سے بیان کیا۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یسار رضی اللہ عنہ

مولی بریدہ: یہ مدنی ہیں۔ ابن مندہ نے بھی ان کا ذکر اختصار سے کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا واثلہ رضی اللہ عنہ

بن استع بن عبد العزی بن عبد یا لیل بن ناثب بن غیرہ بن سعد بن یسث بن بکر بن عبد مناہ بن کتانۃ الکنانی الیثی ایک روایت میں واثلہ بن عبد اللہ بن اسقع ہے ان کی کنیت ابو شداد یا ابو الاسقع یا ابو قرصافہ تھی یہ اس عہد میں ایمان لائے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک کی تیاری کر رہے تھے ایک روایت میں ہے کہ جناب واثلہ اصحابِ صفہ میں شامل تھے اور تین سال آپ کی خدمت میں رہے۔ واقدی لکھتے ہیں کہ جناب واثلہ، مضافات مدینہ میں فرد کش تھے، کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ادھر کو تشریف فرما ہوئے اور انہوں نے صبح کی نماز آپ کی اقتدا مین ادا کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ بعد از نماز صبح، منہ صحابہ کی طرف پھیر لیتے اور غور سے ہر آدمی کا چہرہ ملاحظہ فرماتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو اجنبیت کی وجہ سے نہ پہچان سکے دریافت فرمایا کون ہو، اور کیوں آئے ہو انہوں نے عرض کیا یا ۔۔۔

مزید

سیّدنا واثلہ رضی اللہ عنہ

بن خطاب القرشی العددی: حضرت عمر کے قبیلے سے تھے۔ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی وہ دمشق میں سکونت پذیر ہوگئے تھے جہاں ان کا ایک مکان تھا انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ایک حدیث روایت کی ہے اسماعیل بن عیاش نے مجاہد بن فرقد سے، انہوں نے واثلہ بن خطاب قرشی سے روایت کی، کہ ایک شخص مسجد نبوی میں داخل ہوا، اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تنہا تشریف فرما تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا سا اپنے مقام سے ہلے، اس نے عرض کیا، یا رسول اللہ! جگہ تو کافی ہے آپ نے کیوں زحمت فرمائی۔ فرمایا مسلمان پر مسلمان کا حق ہے، جب وہ اسے دیکھے، تو اس کی خاطر اِدھر اُدھر تھوڑا بہت سر کے ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ روایت اسماعیل سے مروی ہے اور ایک روایت کے مطابق مجاہد سے مروی ہے جنہوں نے ربعی سے روایت کی۔۔۔۔

مزید