اتوار , 09 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 26 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا نفیع رضی اللہ عنہ

ابو بکرہ: ایک روایت میں ان کا نام مسروح آیا ہے جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں نیز ایک روایت میں ان کا نام نفیع بن مسروح اور ایک روایت میں نفیع بن حارث بن کلدہ ہے جو لوگ انہیں مسروح سے منسوب کرتے ہیں ان کے نزدیک یہ حارث بن کلدہ کے غلاموں سے تھے اور ان کی والدہ کا نام سمیہ تھا جو حارث کی لونڈی تھی اور وہ زیاد کے اخیائی بھائی تھے۔ شعبی سے مذکور ہے کہ لوگوں نے انہیں حارث کی طرف منسوب کرنا چاہا تو انہوں نے انکار کردیا۔ انہوں نے مرتے وقت اپنے بیٹے سے کہا کہ میں مسروح حبشی ہوں امام احمد بن حنبل نے انہیں ابو بکرہ نفیع بن حارث لکھا ہے اور یہی اکثر لوگوں کا قول ہے۔ امام احمد بن حنبل لکھتے ہیں کہ ہوذہ بن خلیفہ نے مجھے ان کا نسب بتایا، جب ابو بکرہ تک پہنچے تو میں نے ان کے والد کا نام پوچھا تو انہوں نے کہا چھوڑو یہیں تک رہنے دو یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو محاصرہ طائف کے موقعہ پر اپنے۔۔۔

مزید

سیّدنا نفیع رضی اللہ عنہ

بن المعلی بن لوذان: ہم ان کا نسب ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں یہ صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ میں تشریف آوری سے پہلے اسلام لاچکے تھے اس دوران میں بنو مزینہ کے ایک آدمی سے جو بنو اوس کا حلیف تھا۔ ان کا آمنا سامنا ہوگیا، اور چونکہ اوس اور خزرح میں باہم عناد تھا اس لیے اس آدمی نے انہیں قتل کردیا اس بنا پر جناب نفیع انصار میں وہ پہلے آدی ہیں جو قتل ہوئے ان کی کوئی اولاد نہ تھی ابن الکلبی نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معیقیب رضی اللہ عنہ

بن ابی فاطمہ دوسی: یہ سعید بن عاص بن امیّہ کے حلیف تھے۔ بقول موسی بن عقبہ یہ سعید بن عاص کے آزاد کردہ غلام تھے۔ قدیم الاسلام تھے اور مکے سے ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تھے۔ بعد میں مدینہ چلے گئے۔ عبید اللہ نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ مہاجرین حبشہ از بنو امیّہ ان کے خلفا اور معیقیب بن ابی فاطمہ سے روایت کی ہے، کہ یہ صاحب سعید بن عاص کی آل سے تھے اور ان کی اولاد تھی۔ معیقیب حبشہ سے ان لوگوں کے ساتھ آئے تھے جو دو کشتیوں میں سوار ہوکر مدینے پہنچے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں خیبر میں تھے۔ ابن مندہ کے مطابق وہ بدر میں شریک تھے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہران کے پاس ہوتی تھی۔ حضرت عمر نے انہیں بیعت المال کا خازن مقرر کیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد یہ جذام میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اور پھر اطبا کے علاج سے تندرست ہوگئے تھے۔ یہ وہی صاحب ہیں۔ جن کے ہاتھ سے حضرت عثمان ک۔۔۔

مزید

سیّدنا معیقیب رضی اللہ عنہ

بن معرض یمامی: ابو عبد اللہ ان کی کنیت تھی۔ شاصویہ بن عبید نے معرض بن عبد اللہ بن معیقیب بن معرض یمامی ابو عبد اللہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے دادا سے سنا وہ کہتے ہیں کہ حجۃ الوداع میں موجود تھا۔ اتفاقاً ایک مکان میں داخل ہوا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود تھے۔ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک ایسا دکھائی دیا جیسے چاند۔ یہ ابن مندہ کا قول ہے۔ ابو نعیم کہتے ہیں کہ معیقیب بن معرض الیمامی جسے بعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے شاصویہ بن عبید کی حدیث میں ذکر کیا ہے۔ سرا سروہم ہے۔ کیونکہ وہ شخص معرض بن معیقیب ہے، نہ کہ معیقیب بن معرض۔ ابو نعیم نے معرض بن معیقیب کے ترجمے میں ان کا ذکر کیا ہے۔ اس لیے حقیقتِ حال کے جاننے کےلیے اس مقام کا مطالعہ کیا جائے۔ عبد الوہاب بن ہبتہ اللہ نے ابو غالب بن بناء سے انہوں نے ابو محمد جوہری سے انہوں نے ابو بکر بن مالک سے انہوں نے محمد بن یون۔۔۔

مزید

سیّدنا نبیشۃ رضی اللہ عنہ

ان کا نسب مذکور نہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عین حیات ہی میں فوت ہوگئے تھے ابن عباس نے انہی سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جو نبیشۃ کی طرف سے تلبیہ پڑھ رہا تھا پوچھا آیا خود تم نے حج کیا ہے اس نے نفی میں جواب دیا تو فرمایا پہلے خود حج کر، پھر اس کی طرف سےا دا کرنا ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مغیث رضی اللہ عنہ

مولی ابی احمد بن جمش: یہ بریرہ کے خاوند تھے۔ یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے۔ ابو عمر کہتے ہیں کہ وہ بنو مطیع کے مولی تھے۔ عبد الرحمٰن بن قاسم نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہ انہوں نے بریرہ کو ایک انصاری سے خریدا۔ بروایتے وہ بنو مغیرہ بن مخزوم کا مولی تھا اور ابو احمد اسدی اسد بن خزیمہ سے تھا۔ اور بنو مطع، قریش کے عدی قبیلے سے تھے۔ جب حضرت عائشہ نے بریرہ کو خریدا تو مغیث اس کے خاوند تھے جو آزاد تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ غلام تھے۔ یحییٰ محمود بن اصفہانی اور ابو یاسر بن ابی حبہ نے باسناد ہما تا مسلم بن حجاج، محمد بن علاء ہمدانی سے، انہوں نے ابو اسامہ سے، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ وہ بریرہ سے مِلنے گئیں توا نہوں نے حضرت عائشہ سے گزارش کی کہ میرے اہلِ خانہ مجھے آزاد کرنے پر تیار ہیں۔ بشرطیکہ مَیں ا۔۔۔

مزید

سیّدنا مغیث رضی اللہ عنہ

بن عبید بن ایاس البلوی: انصار کے حلیف تھے یوم الرجیع میں بہ مقام مرالظہران شہید ہوئے تھے۔ عبد اللہ بن طارق کے اخیانی بھائی تھے۔ واقدی اور ابن اسحاق نے اِن کا نام مغیث بن عبیدہ تحریر کیا ہے جو بنو ظفر کے حلیف تھے۔ ان کا ذکر معتب کے ترجمے میں گزر چکا ہے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا نبیہ رضی اللہ عنہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے ابو عمر کہتے ہیں، میں ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا کہ بعض علماء نے انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلاموں میں شمار کیا ہے، اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خرید کر آزاد کردیا تھا ایک روایت میں ان کا نام النُبیہ مذکور ہے۔ واللہ اعلم۔ ابو عمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مغیث رضی اللہ عنہ

الغنوی: انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اور ان سے ابو ہریرہ کے ساتھ اونٹنی کے دودھ دوہنے کے بارے میں ایک حدیث منقول ہے۔ ابو عمر نے مختصراً اس کا ذکر کیا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم مغیث اور بعض لوگوں نے معتب تحریر کیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مہمات کے سلسلے میں انہیں روانہ فرمایا تھا۔ ان کی حدیث کو محمد بن یزید بن براء الغنوی نے ان کے والد سے انہوں نے دادا سے انہوں نے حارث بن عبید سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کیا۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ

بن اخنس بن شریق الثقفی۔ ہم ان کا نسب ان کے باپ کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں۔ بنو زہرہ کے حلیف تھے اور یوم الدار کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہوگئے تھے۔ اس موقعہ پر انہیں زبر دست ابتلا پیش آیا اور وہ خوب جی توڑ کر لڑے۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دروازے کو باغیوں نے آگ لگادی تو انہوں نے ذیل کے اشعار کہے: لَمَّا تَھَدَّمَتِ الاَ بوَابُ وَاخْتَرَقت یَمَّمْتَ مُنْھُنَّ بَاباً غَیْرَ مُحْترَقَ ترجمہ: جب دروازے گِر پڑے اور جل گئے، تو مَیں ان میں سے ان جلے دروازے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ حَقّاً اَقْوُلُ وَعَبْدَ اللہِ امْرہٗ اِنْ لَمْ تُقَاتِلُ لَدَیَ عُثْمَانَ فَانْطَلَقِ ترجمہ: مَیں سچ کہتا ہوں عبد اللہ کو مَیں نے حکم دیا۔ کہ اگر تم عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے نہیں لڑسکتے تو چلے جاؤ۔ وَاللہِ اَثرُ کَہٗ مَادَامَ بِیْ دَمَقٌ حَتٰی تَزَایَل بَیْن۔۔۔

مزید