بن سلمان الخزاعی: ابن شاہین نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ انہوں نے باسنادہ حماد بن سلمہ سے انہوں نے حمید سے انہوں نے مغیرہ بن سلمان خزاعی سے روایت کی کہ دو آدمی ایک چیز کا جھگڑا طے کرانے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور نے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا، آیا تم تقسیم پر آمادہ ہو۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن شعبہ بن ابی عامر بن مسعود بن معتب بن مالک بن کعب بن عمرو بن سعد بن عوف بن قیس: ان کا تعلق بنو ثقیف سے تھا اور ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ ایک روایت میں ابو عیسیٰ بھی آئی ہے۔ ان کی والدہ امامہ بنتِ افقم بن عمرو تھیں۔ جو بنو نصر میں معاویہ سے تھیں۔ مغیرہ غزوۂ خندق کے موقع پر ایمان لائے تھے اور صلح حدیبیہ میں موجود تھے۔ اس موقعہ پر انہوں نے عروہ بن مسعود سے مذاکرے میں حصّہ لیا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابو عیسیٰ کی کنیت عطا کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ابو عبد اللہ کہنا شروع کر دیا تھا۔ جناب مغیرہ اپنی عقل رسا کی وجہ سے مشہور تھے۔ شعبی کہتے ہیں، عرب کے دانشور چار تھے۔ ۱۔ معاویہ بن ابو سفیان ۲۔ عمرو بن عاص ۳۔ مغیرہ بن شعبہ ۴۔ زیاد: اول الذّکر وسیع الظرفی اور حکم کی وجہ سے، عمرو بن عاص حل مشکلات کی بنا پر، مغیرہ بن شعبہ عقلِ رسا اور جودتِ فکر ک۔۔۔
مزید
بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم قرشی ہاشمی۔ مکے میں قبل از ہجرت پیدا ہوئے اور ایک روایت میں ہے کہ اُنہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے صرف چھ برس نصیب ہُوئے۔ ان کی کنیت ابو یحییٰ تھی اور ام یحییٰ کا نام امامہ بنت ابو العاص تھا اور جناب امامہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا بنتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں۔ امامہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بعد از وفاتِ فاطمہ رضی اللہ عنہا شادی کی تھی۔جب حضرت علی ملجم کے ہاتھوں زخمی ہوئے تو وصیت کی کہ ان کے بعد مغیرہ بن نوفل امامہ سے نکاح کر لیں۔ بروایتے ان کی کنیت ابو حلیمہ تھی۔ یہ وہی شخص ہیں، جنہوں نے ابنِ ملجم پر کھیس ڈالا تھا۔ جب اس نے حضرت علی کو زخمی کردیا تھا۔ جب لوگوں نے ابنِ ملجم کو پکڑنے کی کوشش کی، تو وہ ان پر تلوار سے حملہ آور ہوا، لوگ آگے سے ہٹ گئے۔ اب مغیرہ سے آمنا سامنا تھا۔ انہوں نے کھیس اس پر ڈال کر اسے زمین پر ۔۔۔
مزید
بن مالک بن عدی بن عامر بن غنم بن عدی بن بخار خزرجی و بخاری انصاری: غزوۂ بدر میں موجود تھے، لیکن جس دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے لیے کوچ فرمانا تھا۔ اس صبح کو فوت ہوگئے۔ حضور نے انہیں ان لوگوں میں شمار کیا، جو فی الحقیقت شریکِ جنگ ہوئے تھے۔ یہ لاولد تھے۔ ابو نعیم ابو عمر اور ابو موسی نے ان کا نام ح اور ز سے لکھا ہے۔ دارِ قطنی کا خیال بھی یہی ہے۔ ابن ماکو لا نے ’’محرر‘‘ لکھا ہے۔ اور ان کو بنو عمرو بن عوف کے خاندان سے شمار کیا ہے، لیکن یہ غلط ہے۔ کیونکہ ابو جعفر نے یونس سے، اس نے ابنِ اسحاق سے، ان لوگوں کے نام کے سلسلے میں جو غزوہ بدر میں موجود تھے انصار سے بنو عدی بن نجار نے محرز بن عامر بن مالک کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح سلمہ نے ابن اسحاق اور عبد الملک بن ہشام سے، اس نے بکائی سے اس نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے اور اسی طرح موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ہشام: ان کی کنیت ابو ذئب تھی۔ ان کا نسب ابن شعبہ بن عبد اللہ بن قیس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حبل بن عامر بن لوئی بن غالب جد محمد بن عبد الرحمان بن مغیرہ المعروف بابن ابی ذئب ہے۔ مدینے کے فقیہ تھے۔ فتح مکہ کے سال پیدا ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ان سے ابنِ ابی ذئب نے روایت کی ہے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے اور ان کا سلسلۂ نسب اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح ہم لکھ آئے ہیں بعض لوگوں نے ان کا نسب عبد اللہ بن ابی قیس لکھا ہے۔ واللہ اعلم۔۔۔۔
مزید
بن عبد اللہ بن مرہ بن کبیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ الاسدی: ان کی کنیت ابو نضلہ تھی اور اخرم الاسدی کے عرف سے جانے جاتے۔ بنو عبد الشمس کے حلیف تھے اور بنو عبد الاشہل انہیں اپنا حلیف بتاتے تھے۔ ابن اسحاق لکھتا ہے کہ مہاجرین ہجرت کر کے مدینہ آ رہے تھے اور بنو دو دان بھی اسلام لا چکے تھے چنانچہ اس قبیلہ کے تمام مرد اور عورتیں ہجرت کر کے رینےمیں آگئے اور انہی میں محرز بن نضلہ بھی۔ اُنہوں نے غزوۂ بدر، اُحد اور خندق میں شرکت کی اور غزوۂ ذی قرد میں بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اُنہیں مسعدہ بن حکم نے قتل کیا۔ اس وقت ان کی عمر ۳۷ یا ۳۸ برس تھی۔ موسی بن ؟؟؟ نے ان کا نام محرز بن وہب لکھا ہے اور ان کا ذکر شرکائے بدر میں کیا ہے۔ ان کی تخریج تینوں نے کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
یہ غیر منسوب ہیں۔ ابراہیم بن محمد بن ثاقب جو بنو عبد الدار کا بھائی ہے۔ اس نے عکرمہ بن خالد سے روایت کی ہے کہ ایک رات کو محرز میرے پاس آیا۔ ہم نے اسے رات کے کھانے کی دعوت دی۔ محرز پوچھنے لگا۔ کیا اس وقت کوئی اور بھی تمہارے ساتھ ہے۔ مَیں نے پوچھا تمہیں اس وقت کسی اور کی ضرورت کیوں پیش آگئی ہے۔ اس نے کہا۔ کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ زندگی بھر معمول رہا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بریرہ کے خاوند تھے۔ جعفر المستغفری نے ان کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے محمد بن عجلان سے انہوں نے یحییٰ بن عروہ بن زبیر سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ بریرہ کی وجہ سے ہمیں تین سنتوں کا علم ہُوا۔ ۱۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (بریرہ)کے بارے میں فرمایا تھا۔ کہ ولاء اس کی ہوگی جو کسی کو آزاد کرے گا۔ بریرہ کا خاوند غلام تھا، جن کا نام مقسم تھا۔ جب وہ آزاد کردی گئیں تو حضرت عائشہ نے ان (بریرہ) سے کہا۔ ۲۔ ’’کیا تجھے علم ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے بارے میں فرمایا تھا کہ آزادی کے بعد تُو اس وقت تک اپنے نفس (اختیار) کی مالک ہوگی۔ جب تک تو کسی سے بیا ہی نہ جائے ۔ میری خواہش یہی ہے، کہ تو اب اس قصّے کو جانے ہی دے۔‘‘ بریرہ نے جواب دیا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ ۳۔ حضور نے فرمایا، صدقہ وہی بہتر ہوتا ہے جو مناسب جگہ پر صرف کیا جائے۔ اس حدیث میں بریرہ کے خ۔۔۔
مزید
بن ابی طالب بن عبد المطلب قرشی ہاشمی: آپ جنابِ فاطمہ کے صاحبزادے تھے ہمیں ابو احمد الوہاب بن ابی منصور الامین نے ابو الفضل محمد بن ناصر سے، اس نے ابو طاہر بن ابی الصقر الانباری سے، اس نے ابو البرکات بن لطیف الفراء سے۔ اس نے حسن بن رشیق سے۔ اُس نے ابوبشر الدو لابی سے، اُس نے محمد بن عوف الطائی سے، اُس نے ابو نعیم اور عبد اللہ بن موسیٰ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا۔ ہم سے اسرائیل نے، اس سے ابو اسحاق نے، اس سے ہانی بن ہانی نے، اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب امام حسن پیدا ہُوئے تو مَیں نے ان کا نام حرب رکھا۔ حضور تشریف لائے۔ فرمایا: مجھے میرا بیٹا دکھاؤ۔ پوچھا کیا نام رکھا مَیں نے عرض کیا، حرب۔ فرمایا: نہیں یہ حسن ہے۔ یہی صورت جناب حسین کی پیدائش کے وقت پیش آئی۔ مَیں نے نام حرب بتایا۔ تو آپ نے حسین تجویز کیا۔ تیسری دفعہ محسن پیدا ہوئے تو مَیں نے حرب ہی نام ر۔۔۔
مزید
بریرہ کے خاوند تھے۔ جعفر المستغفری نے ان کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے محمد بن عجلان سے انہوں نے یحییٰ بن عروہ بن زبیر سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ بریرہ کی وجہ سے ہمیں تین سنتوں کا علم ہُوا۔ ۱۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (بریرہ)کے بارے میں فرمایا تھا۔ کہ ولاء اس کی ہوگی جو کسی کو آزاد کرے گا۔ بریرہ کا خاوند غلام تھا، جن کا نام مقسم تھا۔ جب وہ آزاد کردی گئیں تو حضرت عائشہ نے ان (بریرہ) سے کہا۔ ۲۔ ’’کیا تجھے علم ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے بارے میں فرمایا تھا کہ آزادی کے بعد تُو اس وقت تک اپنے نفس (اختیار) کی مالک ہوگی۔ جب تک تو کسی سے بیا ہی نہ جائے ۔ میری خواہش یہی ہے، کہ تو اب اس قصّے کو جانے ہی دے۔‘‘ بریرہ نے جواب دیا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ ۳۔ حضور نے فرمایا، صدقہ وہی بہتر ہوتا ہے جو مناسب جگہ پر صرف کیا جائے۔ اس حدیث میں بریرہ کے خ۔۔۔
مزید