پیر , 10 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 27 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن الحارث: حماد بن زید نے ایوب سے اُس نے ابوقلابہ سے اس نے مالک بن الحارث سے روایت کی کہ ہم چھ آدمی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہاں ۲۰ دین قیام کیا، آپ بڑے رحم دل تھے، فرمایا جب تم اپنے اپنے علاقوں کو واپس جاؤ تو اپنے لوگوں کو پڑھاؤ اور انھیں ادائے نماز کا مقررہ اوقات پر حکم دو، اس صحابی کے والد کا نام الحویرث ہے چنانچہ ہم اسے بعد میں بیان کریں گے، لیکن ابوموسیٰ نے اس کی تخریج اسی مقام پر کی ہے۔ ان کا صحیح نام الحویرث ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن ذی حمایہ: ان سے مذکور ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر سے واپسی پر فرمایا کہ ہمیں فوری طور پر قوم کی بیٹیوں کے پاس لے چلو، بقول جعفر یحییٰ بن یونس نے ان کی تخریج کی ہے اور یہ حدیث مرسل ہے اور وہ ابن یزید بن ذی حمایہ ہیں، جنھوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی اور ابن یزید سے ابوبکر بن ادبی جمریم نے ان سے روایت کی اور ابوشرحبیل مالک بن ذی حمایہ نے معاویہ بن ابوسفیان سے روایت کی اور ان سے صفوان بن عمرو نے روایت کی اور احمد بن محمد بن عیسیٰ نے تاریخ الحمصین میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہامہ رضی اللہ عنہ

ابو زہیر: جعفر بن یحییٰ بن یونس نے ابو النعمان سے انہوں نے معتمر بن سلیمان سے روایت کی کہ انہیں ان کے والد ابو عثمان نے بنایا کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کا نام ہامہ تھا اور وہ اپنے آپ کو بڑا دولت مند بناتا تھا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ تجھے اپنے مال سے زیادہ پیار ہے یا اپنے آزاد کردہ غلاموں کے مال سے اس نے کہا یا رسول اللہ! اپنے مال سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو زہیرا تمہارا خیال غلط ہے اس مال میں تمہارا صرف اتنا حصّہ ہے جس سے تم استفادہ کرتے ہو اور جو باقی بچیگا وہ تیرے اٹھاکر لے جائیں گے اور کوئی بھی تیرا شکر گزار نہ ہوگا ابو موسیٰ نے اسے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ

بن حجش الاسدی: ہم نے ان کا نسب ان کے والد کے ترجمہ میں بیان کیا ہے۔ یہ حرب بن اُمّیہ کے حلیف تھے اور ان کی والدہ فاطمہ بنت ابی خنیس تھی اور کنیّت ابو عبد اللہ تھی انھوں نے اپنے والد اور دو چچاؤں کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کی تھی۔ وہاں سے واپس پر اُنھوں نے والد کے ساتھ ہجرت کی اُنھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسّر آئی نیز اُنھوں نے حضور سے روایت بھی کی ہم نے اس کتاب میں ان کے چچا اور پھوپھیوں کا ذکر کیا ہے۔ جب عبد اللہ بن حجش احد کی طرف روانہ ہوئے، تو اُنھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بیٹے محمد کا وصی مقرر کیا اور بیٹے کے لیے خیبر میں کُچھ مال خریدا، اور مدینہ کے چوک دقیق میں اس کے لیے ایک مکان بھی خریدا۔ واقدی لکھتا ہے کہ محمد کی پیدائش ہجرت سے پانچ برس پہلے ہوئی تھی اور محمد بن طلحہ بن عبد اللہ! محمد بن عبد اللہ کی پھوپھی کا بیٹا تھا کیونکہ ۔۔۔

مزید

سیّدنا ہامہ رضی اللہ عنہ

بن الہیم بن لاقیس بن ابلیس، جعفر نے ہامہ کو صحابہ میں شمار کیا ہے لیکن ان کے نزدیک اس کا اسناد ثابت نہیں ابو موسیٰ نے اجازۃ ابو الفرج سعید بن ابو الرجاء سے انہوں نے ابو علی حسن بن احمد الباد(ح) سے ابو موسیٰ کہتے ہیں ہمیں احمد بن محمد بن احمد سے انہوں نے ابو العباس احمد الرزوانی سے ان دونے احمد بن موسیٰ سے انہوں نے احمد بن حسین بن احمد البصری سے انہوں نے عبد اللہ بن محمد بن عیسی الضبی بصری سے انہوں نے حسن بن رضوان الشیبانی سے انہوں نے احمد بن موسیٰ سے(انہوں نے مالک بن دینار سے بہت سے اسناد بیان کیے ہیں) اور انہوں نے انس بن مالک سے یہ روایت بیان کی، کو وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں مکے کی پہاڑیوں سے دور نکل گئے تھے کہ ایک بڈھا سے سامنا ہوگیا جو ایک نیزے پر سہارا لیے ہوئے تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی چال ڈھال اور آواز جنوں کی سی ہے اس ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ

بن سلام حارث الاسرائیلی: آپ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد سے تھے انصار کے حلیف تھے اور ان کے والد یہود کے جلیل القدر عالم تھے۔ ان سے منقول ہے کہ ایک دفعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے فرمایا اللہ نے تمہاری طہارت کے بارے میں پسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے کیا تم مجھے اس کے بارے میں بتاؤ گے۔ انھوں نے عرض کیا ہمیں تو ریت میں پانی سے استنجا کا حکم دیا گیا ہے۔ عبد اللہ بن سلام مسلمان ہوگئے تھے، چنانچہ ہم ان کا تذکرہ کر آئے ہیں۔ ان کے لڑکے کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا موقعہ ملا اور اور انھوں نے حضور سے روایت بھی کی۔ اس کی تینوں نے تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ

بن عثان: یہ محمد بن ابو بکر الصدیق ہیں۔ ان کی والدہ کا نام اسماء بنتِ عمیس تھا۔ ہم ان کا نسب ان کے والد کے ترجمے میں لکھ آئے تھے۔ ان کی ولادت حجۃ الوداع کے موقعہ پر ذو الحلیفہ میں ذو العقدہ کی ۲۵؍ تاریخ کو ہوئی۔ ان کی والدہ رفعِ حاجت کے لیے نکلی تھیں کہ وضع حمل ہوگیا۔ حضرت ابو بکر نے رسولِ کریم سے اس باب میں شرعی حکم دریافت کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہانےکے بعد تہلیل و تسبیح کی اجازت ہے، لیکن جب تک وہ پاک نہ ہو، کعبے کا طواف نہ کرے۔ ابو الحرم مکی بن ریان بن شبۃ الخوی نے باسنادہ یحییٰ بن یحییٰ سے اس نے مالک سے اس نے عبد الرحمان بن قاسم سے، اس نے اپنے باپ سے اس نے اسماء بنتِ سے روایت کی کہ میرے بطن سے محمد بن ابو بکر صحرا میں پیدا ہوئے۔ حضرت ابو بکر سے حضور اکرم نے فرمایا کہ غسل کے بعد تہلیل و تسبیح پڑھ لیا کرے۔ حضرت عائشہ نے ان کی کنیت ابو القاسم رک۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ

مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: محمد بن عبد اللہ حضرمی نے المغارید میں ان کا ذکر کیا ہے ابو نعیم انھیں غیر مقصل قرار دیتا ہے صفوان بن سلیم نے عبد اللہ بن یزید سے جو اسود کا مولی ہے اور محمد بن عبد الرحمٰن سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مولی ہے۔ روایت کی کہ جس شخص نے کسی عورت کی شرمگاہ کو ننگا کیا اس پر اس کا مہر واجب ہوگیا۔ ابو موسیٰ ابو نعیم نے رائے کو غلط نہیں گردانتا کیونکہ جو راوی درمیان میں رہ گیا ہے وہ ابن السلمانی ہے اور عبدان بن محمد بن عیسی المروزی نے اپنی کتاب معرفۃ الصحابہ میں اس کا ترجمہ لکھا ہے اور ن کی طرف سے یہ حدیث قیتبہ سے اس نے لیث سے اس نے عبید اللہ سے روایت کی ہے اور اس کے اسناد میں محمد بن ثوبان کا ذکر کیا ہے عبدان لکھتا ہے مُجھے اس کا علم تو نہیں، آیا اُنھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھایا نہیں لیکن بعض حضرات کی مسانید م۔۔۔

مزید

سیّدنا معمر رضی اللہ عنہ

انصاری: عبد اللہ بن عبد الرحمٰن نے معمر انصاری سے روایت کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس شخص نے علمِ دین ثواب آخرت کے لیے حاصل کیا اور پھر اس نے اس سے کوئی دینوی فائدہ حاصل کیا۔ اس پر جنّت کی خوشبو حرام کردی گئی۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابن شاہین نے اسی طرح اس کی روایت کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ابن شاہین سے مراد عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن معمر ہے۔ اس بنا پر یہ حدیث مرسل ہوگی۔۔۔۔

مزید

سیّدنا معمر رضی اللہ عنہ

بن حارث بن قیس بن عدی بن سعد بن سہم قرشی سہمی: انہوں نے حبشہ کو ہجرت کی تھی۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابنِ اسحاق سے بہ سلسلۂ مہاجرین حبشہ از بنو سہم بن عمرو بن ہصیص و معمر بن حارث بن قیس روایت کی۔ ابن اثیر نے ان کے بھائیوں کا ذکر جو بنو تمیم سے تھے مناسب ابو اب میں کردیا ہے، ابن کلبی نے معبد بن حارث کو انہی میں شمار کیا ہے۔ ابو موسیٰ اور ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید