بن سفیان بن عبد الاسد بن بلال عبد اللہ بن عمر بن مخروم القرشی مخزومی: وہ ابو سلمہ بن عبد الاسد کے بھتیجے اور قدیم الاسلام تھے اور ہجرتِ حبشہ میں شریک تھے۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ مہاجرینِ حبشہ از بنو مخزوم اور ہبار بن سفیان اور ان کےبھائی عبد اللہ بن سفیان کا ذکر کیا ہے ایک روایت کے رو سے وہ جعگ موتہ میں شہید ہوئے تھے۔ ابو عمر کے نزدیک یہ روایت مخدوش ہے کیونکہ ابن عقبہ اور ابن اسحاق میں سے کسی نے بھی ان کا نام مقتولینِ موتہ میں شمار نہیں کیا جبکہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ جنگ اجناہ بن میں جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں واقع ہوئی تھی شہید ہوئے تھے ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن صیفی: ان کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے لیکن اس میں شبہ ہے ابو عمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
معاویہ بن قرہ ایک صحابی سےجوبیعت رضوان میں موجودتھے،وہ صحابی کہنےلگے،اب تم جن گناہوں کوبال سےبھی باریک خیال کرتےہو،ہم ان گناہوں کوہلاکت آفریں گردانتےتھے دونوں نےذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
معاویہ بن قرہ،ایک انصاری سے،عبدالوہاب بن عطانے سعیدبن ابوعروبہ سے،ایسے محرم(احرام باندھنے والے آدمی)کےبارے میں دریافت کیا،جس نے شُتر مُرغ کے انڈے پھوڑ دیئے تھے، انہوں نے مطرالوراق سے،انہوں نے معاویہ بن قرہ سے،انہوں نے ایک انصاری سے،ایک ایسے آدمی کے بارے میں دریافت کیا،جواحرام باندھے ہوئے تھا،اونٹنی پرسوارتھا،اوریوں اس نے شتر مرغ کے انڈے جوریت میں دفن تھے،اونٹنی کے پاؤں کے نیچے روندڈالے،وہ آدمی حضرت علی کے پاس گیا،اوراس بارے میں فتوٰی دریافت کیا،حضرت علی نے فرمایا،ہرانڈے کے بدلے تجھے ایک اونٹنی کو گابھن کراناہوگا،یا اس کا بچہ بطورتاوان دیناہوگا،وہ آدمی حضورِاکرم کی خدمت میں حاضرہوا،اورصورتِ حال بیان کی،آپ نے فرمایا،جوکچھ علی نے کہاہے،وہ تُوسُن ہی چکاہے،اب آؤ، میں تمہیں اس سلسلے میں کچھ رعایت دیتاہوں،ہرانڈے کے بدلے میں ایک روزہ رکھ۔۔۔
مزید
اسلمی: ان کی بیٹی ام ہلال نے ان سے روایت کی ابو فمرہ انس بن عیاض نے محمد بن ابی یحییٰ اسلمی سے، انہوں نے اپنی والدہ سے سنا، کہ انہیں امِ ہلال دختر ہلال نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بھیڑ کا بچہ قربانی کے لیے جائز ہے تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن امیہ بن عامر بن قیس بن عبد الاعلم بن عامر بن کعب بن واقف: اور ان کا نام مالک امرؤ القیس بن اوس النصاری واقفی ہے معرکہ ہائے بدر اور احد میں موجود تھے قدیم الاسلام تھے اور بنو واقف کے بت انہوں ہی نے توڑے تھے۔ فتح مکہ کے موقعہ پر ان کی قوم کا جھنڈا ان کے پاس تھا ان کی والدہ کا نام انیسہ تھا، جو ہدم کی بیٹی اور کلثوم بن ہدم کی بہن تھیں ہدم وہی صاحب ہیں جن کے پاس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرتِ مدینہ کے موقعہ پر قیام فرمایا تھا۔ انہوں نے اپنی بیوی سے لعان کیا تھا اور اسے شریک بن سحماء سے مطعون کیا تھا اور یہ ان تین حضرات میں شامل تھے جو کاہلی کی وجہ سے غزوۂ تبوک میں شامل نہ ہوسکے تھے ان کے علاوہ کعب بن مالک اور مرارہ بن ربیع تھے جن کے بارے میں ’’وعلی الثلاثۃ الدین خلفو۱‘‘ آیت نازل ہوئی تھی۔ لعان کا واقعہ ہم نے شریک بن سحماء کے ترجمے میں اور ان کے تخلف کا ذکر کعب بن مالک کے ترجمے میں بی۔۔۔
مزید
بن حارث ابو الحمل: ہم ان کا ذکر کنیتوں کے عنوان کے تحت تفصیل سے بیان کریں گے۔ کیونکہ یہ اپنی کنیت کی وجہ سے مشہور تھے وہ شامی تھے ابو عمر نے مختصراً اسی طرح ان کا ذکر کیا ہے۔ لیکن یہ ابو عمر کا وہم ہے۔ کیونکہ ان کی کنیت ابو الحمراء تھی۔ ابو الحمل کے ترجمے میں ہم اسے بیان کریں گے۔۔۔۔
مزید
بن الحمراء: ایک روایت کے رو سے ان کا نام ہلال بن حارث ابو الحمراء ہے اور یہی درست ہے اور ایک روایت میں ان کا نام ہانئی بن حارث ابو الحمراء خادمِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مذکور ہے انہوں نے حمص میں سکونت اختیار کرلی تھی امام بخاری لکھتے ہیں انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی لیکن ان کی حدیث درست نہیں۔ ابو اسحاق سبیعی نے ابو داؤد القاص سے، انہوں نے ابو الحمراء سے روایت کی کہ وہ ایک مہینہ مدینے میں ٹھہرے رہے، انہوں نے دیکھا، کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر روز صبح کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مکان پر تشریف لاتے۔ الصلوۃ، الصلوۃ فرماتے اور پھر آیت تطہیر کی تلاوت کرتے۔ واللہ اعلم۔ ابو عمر اور ابو موسےٰ نے ان کا ذکر کیا ہے لیکن ابو عمر نے ان کا نام ابن الحمراء ابو الحمراء لکھا ہے اور یہی درست ہے۔۔۔۔
مزید
عارف ربانی زاہد سبحانی شیخ عارف ہیں جو شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین قدس اللہ سرہ العزیز کے خلیفہ تھے۔ سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ شیخ شیوخ العالم قدس اللہ سرہ العزیز نے شیخ عارف کو سیوستان اور اس کے حدود و اطراف میں بھیجا تھا اور بیعت کی اجازت دی تھی اور قصہ یوں ہوا کہ اوچہ اور ملتان کی طرف ایک بادشاہ تھا اور یہ عارف وہاں کی امامت کا معزز منصب رکھتے تھے یا اور کوئی باہمی تعلق رکھتے تھے الغرض ایک دفعہ بادشاہ نے سو اشرفیاں شیخ عارف کے ہاتھ شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں بھیجیں۔ شیخ عارف ان میں سے پچاس اشرفیاں تو اپنے پاس رکھ لیں اور پچاس شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں پیش کیں شیخ شیوخ العالم نے مسکرا کر فرمایا۔ عارف! تم نے خوب برادرانہ تقسیم کی۔ عارف نہایت شرمندہ ہوئے اور فوراً پچاس اشرفیاں نکال کر پیش کر دیں بلکہ اپنے پاس سے بھی کچھ اضافہ کیا اور نہایت عجز و انکسار کے ساتھ بیعت کی التما۔۔۔
مزید