بن حکم(اگر ثابت ہو) فلیح بن سلیمان نے ہلال بن علی سے، انہوں نے عطا بن یسار سے انہوں نے ہلال بن حکم سے روایت کی کہ جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دینی امور کی تعلیم حاصل کی، تو ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ جب چھینک آئے تو الحمدُ للہ کہنا چاہیے، اور اگر دوسرے آدمی کو چھینک آئے تو اس کے لحمدُ للہ کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا چاہیے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز پڑھا رہے تھے، دورانِ نماز میں ایک شخص کو چھینک آئی، تو میں نے بلند آواز میں یرحمک اللہ کہہ دیا، اس پر تمام نمازیوں نے مجھے گھورنا شروع کردیا۔ میں نے ان سے کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے، کہ مجھے گھور رہے ہو جب نماز ختم ہوئی، تو آپ نے دریافت فرمایا کہ نماز میں کون بول رہا تھا۔ صحابہ نے میرا نام لیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا دیکھوں میاں اعرابی! نماز میں ۔۔۔
مزید
بن ابی خولی: اور ابو خولی کا نام عمرو بن زہیر بن خیشمہ بن ابی حمران نعمان تھا(اور ابو حمران نعمان کا نام: حارث بن معاویہ بن حارث بن مالک بن عوف بن سعد بن عوف بن حریم بن جعفی الجعفی تھا جو عدی بن کعب اور خطاب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے والد کے حلیف تھے) بقولِ موسیٰ بن عقبہ غزوۂ بدر میں شریک تھے ابن اسحاق کہتے ہیں کہ خولی اور مالک دونوں ابو خولی کے بیٹے تھے سب بدر میں شریک تھے ہشام بن کلبی لکھتے ہیں کہ خولی بن ابو خولی مع اپنے بھائیوں ہلال اور عبد اللہ کے غزوۂ بدر میں موجود تھے لیکن انہوں نے مالک بن خولی کا ذکر نہیں کیا ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
آپ شیخ احمد عبدالحق قدس سرہ کے فرزند ارجمند اور خلیفہ اعظم تھے والد کی وفات کے بعد مسند ارشاد پر بیٹھے اور ہزاروں طالبان حق کی راہنمائی فرمائی۔ معارج الولایت کے مصنف نے لکھا ہے کہ حضرت شیخ احمد عبدالحق کے جو بھی اولاد ہوتی زندہ نہ رہتی تھی آخر کار آپ کی بیوی نے آپ سے ہی شکایت کی آپ نے فرمایا جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے حق حق حق کر کے فوت ہوجاتا ہے میرے حلب میں صرف ایک ایسا بیٹا ہے جو زندہ رہے گا مگر ابھی تک اس کی پیدائش کا وقت نہیں آیا میں ایک سفر پر جا رہا ہوں واپسی پر آکر تمہیں بتاؤں گا کچھ عرصہ کے بعد حضرت سفر سے واپس آئے اور گھر قیام کیا ایک سال گزرا تھا کہ اللہ نے بیٹا دیا جس کا نام عارف رکھا گیا آپ نے اپنی بیوی کو فرمایا اسے کچھ نہ کہنا اور اللہ کی رضا پر قناعت کرنا یہ لڑکا بڑا ہو کر ظاہری اور باطنی علوم کا یگانہ روزگار ہوا اور فیض جاری ہوا حضرت شیخ عارف کے ایک فرزند شیخ محمد نے سلسلہ چ۔۔۔
مزید
آپ شاہ نور الدین قطب العالم کے مرید تھے۔ سلسلہ نسب حضرت بابا شکر گنج سے جاملتا ہے۔ حضرت شیخ پیر محمد چشتی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ سے بھی فیضان پایا تھا خرقۂ خلافت حاصل کرنے کے بعد آپ کو ولایت لاہور ملی ایک کثیر مخلوق آپ کے فیض سے مستفیض ہوئی۔ تذکرہ چوہڑ قطب عالم کے مولّف نے آپ کا سن وفات ۸۸۲ھ لکھا ہے اور مزار مبارک لاہور میں ہے [۱] [۱۔ حضرت شاہ کاکو رحمۃ اللہ علیہ کا مزار مبارک مسجد شہید گنج نو لکھا بازار میں واقعہ ہے یہاں محلہ شاہ کاکو بھی آباد تھا۔ جسے دارا شکوہ نے اپنے محلات میں ضم کرلیا تھا۔ پھر سلطنت مغلیہ کو نادر شاہ اور احمد شاہ ایرانی کے ہاتھوں جو نقصان پہنچا۔ اس میں محلہ دارا شکوہ محلات دارا شکوہ کے ساتھ ساتھ حضرت شاہ کاکو رحمۃ اللہ علیہ کا مزار بھی پیوست زمیں ہوگیا۔ سکھوں کا دور آیا تو انہوں نے اس مقام کو خصوصی طور پر اپنی بربریت کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ بربریت ایک انتقامی کار۔۔۔
مزید
آپ حضرت حسام الدین مانک پوری کے مرید تھے صحیح نسبت بلند مقامات اور اعلی صفات کے مالک تھے۔ سلطان شمس الدین التمش کے زمانہ اقتدار میں گردیز سے دو بھائی ہندوستان میں آئے۔ ان میں ایک کا نام سید شہاب الدین اور دوسرے کا سید شمس الدین تھا۔ سید شمس الدین تو میوات کی طرف جاکر آباد ہوگئے البتہ سیّد شہاب الدین دہلی میں رہے راجی سید شہاب الدین کا خطاب تھا آپ راجی حامد شاہ کے جد امجد تھے ابتدائی زندگی میں سپاہیانہ لباس میں رہا کرتے تھے۔ حسام الدین مانک پوری کی مجلس میں آئے تو عام لباس زیب تن آنے لگے۔ آپ کی زیر نگرانی بے پناہ ریاضتیں کیں مجاہدے کیے اور عبادت خداوندی میں مصروف رہے اسی طرح صفائی باطن حاصل ہوئی اگرچہ آپ ظاہری علوم میں اتنے ماہر نہ تھے مگر اس وقت علمائے کرام آپ سے استفادہ کرتے تھے کہتے ہیں اگر کسی دوسرے کے احوال باطنی یا خفیہ حالات ظاہر کرنا ہوتے تو اپنی کہانی بیان کرتے کرتے دوسرے کے حالات ۔۔۔
مزید
بن دہر منذر بن جہم نے ان سے روایت کی کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان(بچہ، ریش) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر چند سفید بال دیکھے، جو بہ مشکل تیس ہوں گے۔ ابو موسیٰ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ابو قیس سلمی: محمد بن سلام نے عبد القاہر بن السری بن قیس بن ہیثم سے روایت کی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دادا ہیثم کو اپنے قبیلے کے صدقات جمع کرنے کے لیے مقرر فرمایا انہوں نے یہ رقم حضرت ابو بکر کو پوری پوری ادا کردی اور زبرقان نے بھی رقم ادا کردی اس پر حضرت ابو بکر نے کہا کہ زبرقان نے صدقات کی رقم تکرماً ادا کی اور ہیثم نے تحرجاً تنگی سے یا تبرعاً خوشی سے ادا کی۔ اس پر محمد بن سلام نے عبد القاہر سے دریافت کیا کہ آپ کو یہ بات کس نے بتائی ہے؟ تھوڑا سا سوچنے کے بعد کہنے لگے کہ حمید نے حسن سے سنا ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ اور اس ہیثم سے مراد ابن قیس بن صلت بن حبیب السلمی ہیں، جو قیس بن ہیلیثم کے والد اور عبد اللہ بن حازم بن اسماء صلت السلمی کے چچا تھے انہوں نے خراسان میں فتنہ برپا کیا تھا۔۔۔۔
مزید