ہفتہ , 08 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 25 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا ہیثم رضی اللہ عنہ

بن ابو معقل اسدی: ابو نعیم کا قول ہے کہ ابو معقل کا نام ہیثم ہے زیرِ عنوان کنیت بھی ان کا ذکر کیا جائے گا۔ ابو موسیٰ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

شیخ رحیم داد قادری

شاہ سلیمان قادری کے فرزند اکبر اور سجادہ نشین تھے۔ حضرت نوشاہ گنج بخش سے بھی اکتسابِ فیض کیا تھا اور ترتیب و تکمیل پائی۔ متوکل صاحب علم و فضل اور جامع اوصافِ کمالاتِ ظاہری و باطنی تھے۔ استفراق بحدِ کمال تھا۔ بڑے سادہ مزاج اور سادہ لباس تھے۔ صرف ایک تہبند، ایک چادر اورسفید پگڑی زیبِ تن ہوتی تھی، جن کی قیمت دو روپے سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ اپنی محنت و کاشت سے رزقِ حلال حاصل کرتے تھے۔ نقل ہے ایک دفعہ اپنے پوتے محمد شفیع کو خربوزوں کے کھیت کی نگہبانی کے لیے حکم دیا۔ ایک روز یہ کھیت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک سپاہی نے آکر خربوزہ لینا چاہا۔ انہوں نے منع کیا سپاہی نے صاحبزادہ کے مُنہ پر تھپّڑ مارا اور خربوزہ لے کر چلتا بنا۔ صاحبزادہ نے آکر دادا سے شکایت کی۔ فرمایا: صبر کرو، وُہ اپنے کیے کی سزا پائے گا۔ چنانچہ اسی رات اس سپاہی پر حالتِ زندگی دیوانگی طاری ہوگئی۔ دیوانوں کی طرح ہر شخص کے پاس جاتا اور ۔۔۔

مزید

شیخ عبدالحمید قادری نوشاہی

اپنے وقت کے عالم و فاضل اور صوفیِ کامل تھے۔ حضرت حاجی محمد نوشاہی گنج بخش﷫ کی خدمت میں رہ کر تکمیلِ سلوک کی تھی۔ اپنے پیر صاحب کی وفات کے بعد تادمِ حیات ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ ۱۱۲۵ھ میں وفات پائی۔ شیخِ دیں عبدالحمیدِ محترم رحلتش فرما سخیِ مجتبیٰ!! ۱۱۲۵ھ   رفت از دنیا و در جنّت رسید ہم بگو شیخ ولی عبدالحمید[1] ۱۱۲۵   [1]۔ شیخ عبدالحمید کا صحیح سال وفات ۱۰۸۶ھ ہے (تحایف الاطہار ص۳۲۶)۔۔۔۔

مزید

شیخ خوشی محمد قادری نوشاہی

حضرت حاجی محمد نوشاہی گنج بخش کے پاک اعتقاد مریدوں اور حق یاد خلیفوں میں سے تھے۔ بارگاہِ مرشد میں بے تکلّفانہ گفتگو کیا کرتے تھے۔ جس وقت حضرت حاجی نوشہ صاحب پر حالتِ جزب و استغراق طاری ہوتی تھی۔ آپ ہی حاضرِ خدمت ہوکر انہیں اپنی بذلہ سنجی سے خوش کیا کرتے تھے۔ خوارق و کرامات آپ سے ظہور میں آتے تھے۔ فقیروں اور عالموں سے بے شمار لوگ آپ کے معتقد تھے۔ شاعر بھی تھے۔ چنانچہ فارسی، ہندی اور پنجابی میں بکثرت اشعار کہے ہیں۔ ۱۱۲۷ھ میں وفات پائی۔ چوں از دنیا بفردوس بریں رفت عجب سالِ وصالش جلوہ گرشد   جناب شیخِ حق آگاہ خوش حال ز ’’اہل ولی اللہ خوش حال‘‘[1] ۱۱۲۷ھ   [1]۔ شیخ خوشی محمد کا سالِ وفات صحیح ۱۰۸۸ھ ہے۔ (شریف التواریخ جلد سوم، حصّہ اوّل موسوم بہ تحائف الاطہار قلمی ص ۱۵۲ از سیّد شرافت نوشاہی)۔۔۔۔

مزید

شیخ محمد تقی قادری نوشاہی

حضرت حاجی محمد نوشاہ ہی گنج بخش کے باصفا مریدوں اور باوفا معتقدوں سے تھے۔ اپنے مرشد صاحب کے عشق میں درجہ فنا فی اشیخ رکھتے تھے۔ آغازِ جوانی ہی میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوگئے تھے۔ مرشد ہی کی زیرِ نگرانی تعلیم و تربیت پائی تھی اور مقبولِ درگاہِ شیخ ہوئے۔ آپ پر اکثر و بیشتر حالتِ جزب و سُکر طاری رہا کرتی تھی۔ نقل ہے: ایک دفعہ بے خودی کا یہ عالم تھا کہ عیدِ قربان کے دن پُوچھا: آج کون سا دن ہے کہ لوگ اس قدر گوسفند ذبح کر رہے ہیں۔ لوگوں نے کہا: آج عیدِ قرباں کا دن ہے لوگ راہِ خدا میں وربانی دے رہے ہیں۔ آپ بھی اٹھئے اور قربانی دیجئے۔ کہا: میرے پاس تو اپنی جان کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ چھری لاکر اپنے حلق پر پھیرنی شروع کردی۔ ابھی شہ رگ نہیں کٹی تھی کہ لوگوں نے آکر ہاتھ پکڑلیا اور اسی حالت میں مرشد کے پاس لے آئے۔ آپ انہیں دیکھا کر بڑے خوش ہوئے اور بڑی تحسین و آفرین کہی اور اِن کے حق میں دعائے خیر کہی ۔۔۔

مزید

حامد شاہ

راجی۔۔۔

مزید

عبدالحق کانپوری

شمس العلماء مولانا۔۔۔

مزید

سیّدنا ودیعہ رضی اللہ عنہ

بن جذام: عبد الرحمان بن یزید سے مروی ہے کہ ودیعہ نے اپنی لڑکی کا نکاح کیا تو لڑکی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور عرض کیا، یا رسول اللہ! میرے والد نے میرا نکاح کردیا ہے لیکن میں اسے نا پسند کرتی ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ودیعہ کو بلایا۔ اور حقیقت حال پوچھی انہوں نے کہا یا رسول اللہ! لڑکا نیک خو اور لڑکی کا ابنِ عم ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا۔ کیا تم نے لڑکی سے پوچھا تھا انہوں نے جواب نفی میں دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو منسوخ فرمادیا۔ اس حدیث میں لڑکے کے نام کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔۔۔۔

مزید