بن عمرو بن جراد بن یربوع الجہنی یہ سلسلہ نسب بہ روایت ابو عمر ہے ابن الکلبی نے یوں بیان کیا ہے: ودیعہ بن عمرو بن یسار بن عوف بن جراد بن یربوع بن طحیل بن عدی بن ربعہ بن رشدان بن قیس بن جہینہ یہ لوگ بنو سواد بن مالک بن غنم بن مالک بن نجار کے حلیف تھے انہوں نے بہ قول موسیٰ و ابن اسحاق غزوۂ بدر میں شرکت کی ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر، ودیعہ بن عمرو الجہنی کا ذکر کیا ہے اور بن اسحاق سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ بنوا شجع سے تعلق رکھتے تھے لیکن پہلی روایت اصح ہے ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
والد کا نام سیّد محمد علی بن سید علی بن سید فتح علی تھا۔ ساداتِ حسینی بھاکری سے تھے۔ دریائے[1] چناب کے کنارے پر رسول نگر میں سکونت رکھتے تھے۔ حضرت پیر محمد سچیار قادری نوشاہی کے نامور مرید و خلیفہ تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی میں باکمال تھے۔ طبع عالی پر جذب و استغراق کا غلبہ رہتا تھا۔ ذوقِ وجد و سماع بھی تھا۔ تکمیلِ سلوک کے بعد مرشد نے خرقۂ خلافت سے نوازا اور لاہور میں رہنے کا حکم دیا۔ چنانچہ آپ لاہور آکر قیام پذیر ہوگئے۔ اپنے نام پر کوئلہ شاہ فرید آباد کیا۔ تمام عمر درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ بقول صاحبِ تذکرہ[2] نوشاہی ۱۱۵۸ھ میں وفات پائی۔ مزار لاہور میں ہے۔ چوں فریدِ زمانہ سیّدِ دیں! رحلتش ’’والئ خلافت‘‘ داں ۱۱۵۸ھ فرد و یکتا بباغِ خلد رسید ہم بخواں ’’آفتابِ فقر فرید‘‘! ۱۱۵۸ھ [1]۔ دریائے چناب کے کن۔۔۔
مزید
حضرت حاجی محمد نوشاہ گنج بخش کے مرید تھے۔ آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کا واقعہ اس طرح پر ہے کہ حضرت نوشاہ نے انہیں خواب میں آکر تعارف کرایا اور ارشاد کیا کہ تمہارا حصّہ ہمارے پاس ہے ساہن پال آکر لے لو۔ اس نے کچھ تغافل شعاری سے کام لیا۔ جب دوسری تیسری مرتبہ آپ نے پھر خواب میں آکر انہیں متنبّہ کیا تو یہ فوراً روانہ ہوگئے۔ جب بمقام ساہنپال پہنچے تو دیکھا کہ سامنے سے ایک جنازہ آرہا ہے اور ایک جمِ غفیر اس کے ساتھ ہے۔ یہ بھی ازرہِ ثواب جنازہ کے ساتھ ہولیے۔ نمازِ جنازہ کے بعد جب لوگوں نے آخری زیارت کے لیے متوفیٰ کا مُنہ کھولا تو یہ بھی وہاں پہنچے۔ دیکھتے ہی پہچان گئے کہ یہ وہی بزرگ ہیں جو مجھے خواب میں آکر حصّۂِ باطنی کے لے لینے کی تلقین کرتے رہے ہیں۔ آپ کا نام پوچھا۔ لوگوں نے حاجی محمد نوشاہ گنج بخش بتایا۔ سُنتے ہی بیہوش ہوکر زمین پر گِر پڑے اور ایک طویل عرصے کے بعد ہوش میں آئے۔ جب ہوش میں آئے تو مست۔۔۔
مزید
مصاحب خاں کلاں قادری کے مرید و خلیفہ تھے جنہوں نے حضرت شاہ میر سجادہ نشین حجرہ سے ظاہری و باطنی فیض پایا تھا۔ اپنے عہد کے جیّد عالم اور صوفئِ کامل تھے۔ علومِ تفسیر و حدیث و فقہ میں لاثانی تھے۔ موضع بابک وال جو لاہور شہر سے تقریباً چھ سات میل کے فاصلے پر ہے سکونت رکھتے تھے۔ یہیں تمام عمر درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ احمد شاہ ابدالی کے حملوں میں جب افغانی لشکر نے لاہور کے گرد و نواح میں تخت و تاراج کا سلسلہ شروع کیا تو مضافات کے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: دعا فرمایئے کہ ہم افغانی غارت گری سےمحفوظ و مامون رہیں۔ آپ نے اپنا خرقہ اتار کر اُنہیں دیا اور فرمایا: اسے اپنے اپنے گاؤں کے گرد پھرائیں۔ چنانچہ جن جن گاؤں والوں نے آپ کے ارشاد کے مطابق عمل کیا وہ ہر طرح سے امن و امان میں رہے۔ ۱۱۸۴ھ میں وفات پائی۔ مزار بابک وال میں زیارت گاہِ خلق ہے۔ شاہ سردار آں ولئِ متقی! گ۔۔۔
مزید
آپ سلسلہ چشتیہ میں اہل کمال بزرگ ہوئے ہیں بڑی ریاضتیں کیں ملتان سے دہلی آکر قیام فرمایا بری لمبی عمر پائی فرمایا کرتے تھے مجھے ایک بیتے کی آرزو ہے جب پیدا ہوگا پھر میں اس دنیا سے جاؤں گا نہایت کبر سنی میں اللہ نے ایک بیٹا دیا بیٹے کی پیدائش کے بعد اپنی خادمہ کو بلا کر فرمایا گھر میں جو کچھ ہے لے آؤ خادمہ نے کہا آپ کے گھر میں کب کوئی چیز رہتی ہے جو لے آؤں فرمایا آج جو کچھ ملتا ہے لے آؤ خادمہ دو (۲) سیر غلہ اور دو کپڑے لائی آپ نے دونوں چیزیں فقرا کے حوالے کردیں پھر فرمانے لگے آج سماع کو جی چاہتا ہے کسی قوال کو بلا لاؤ خادمہ نے کہا آپ کے پاس کیا ہے جو قوال کو دیں گے آپ نے فرمایا بلاؤ میں اسے اپنی پگڑی اور چادر دے کر خوش کر لوں گا۔اسی اثنا میں اپنے ایک دوست کے گھر چلے گئے وہاں مجلس سماع برپا تھی شری۔۔۔
مزید
شیخ جان محمد قادری لاہوری کے نامور مرید و خلیفہ تھے۔ بڑے بزرگ اور عابد و زاہد تھے۔ عبادت و ریاضت میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ قوم کے افغان تھے۔ کابل وطن تھا۔ وہیں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم و تربیّت بھی کابل ہی میں پائی۔ سنِ رشد کو پہنچے تو تلاشِ حق میں نکلے۔ کئی ایک مشائخ کی خدمت میں رہے۔ آخر لاہور آئے اور موضع بابک وال پہنچ کر شیخ جان محمد کی خدمت میں شرف یاب ہوئے اور مرشد کے زیرِ سایہ علومِ ظاہری و باطنی کی تکمیل کی۔ تمام عمر درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ محنت و مزدوری سے رزقِ حلال حاصل کرتے تھے۔ چنانچہ شاہد رہ کی منڈی سے گندم اٹھا کر لاتے اورلاہور کی منڈی میں فروخت کرتے۔ نقد و جنس سے جو مزدوری میں ملتا اُس میں سے اپنا حصّہ نکال کر باقی فقراء میں تقسیم کردیتے۔ آج کی کمائی سے کل کے لیے باقی نہ رکھتے تھے۔ زندگی کا زیادہ عرصہ شاہد رہ رہ میں گزارا۔ نقل ہے ایک روز سیّد قطب الدین ب۔۔۔
مزید
آپ شیخ تقی کے مرید اور خلیفہ تھے زمانے کے مشہور اور باکمال ولی اللہ شمار ہوتے تھے اپنی ولایت کے انوار کو ملامت کی چادر میں پوشیدہ رکھتے تھے اپنے وقت کے مواحدوں کے امام تھے آپ نے ہندی زبان میں بہت سے اشعار کہے۔ جو ان کی بلند فکری اوراعلیٰ تخیل کے آئینہ دار ہیں۔ اگر اُن کے کلام میں تحقیق اور تجسیس کیا جائے تو وصل خدا وندی کے عمدہ نمونے ملتے ہیں وہ میدانِ وصل میں فراق کی کیفیت کو سامنے نہیں آنے دیتے ہندوستان میں ہندی زبان میں جس شخص کے حقائق و المعارف سب سے پہلے بیان فرماتے ہیں۔ وہ حضرت شیخ کبیر ہی تھے ان کے مختلف ہندی اشعار ملتے ہیں لیکن ان میں زیادہ بشن پدو ساکی کی قسم پائی جاتی ہے اگر انصاف سے آپ کے کلام کو دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے زبان کے ترازو سے حقائق کے موتی تولے ہیں۔ ہمیں ایسے۔۔۔
مزید