بن عرو ابو موسیٰ نے اذناً ابو علی سے، انہوں نے ابو نعیم اور ابو القاسم بن ابو بکر سے، انہوں نے عبد اللہ بن محمد بن نورک سے، انہوں نے احمد بن عمر و بن ابو عاصم سے انہوں نے یعقوب بن کا سب سے انہوں نے مسلمہ بن رجاء سے انہوں نے عائذ بن شریح سے روایت کی، کہ انہوں نے انس بن مالک اور شعیب بن عمرو اور ناجیہ بن عمرو سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مہندی استعمال کرتے دیکھا۔ ابو موسی نے اجازۃً شریف ابو محمد حمزہ بن عباس علوی سے انہوں نے احمد بن فضل المقری سے انہوں نے ابو مسلم بن شہیدل سے انہوں نے ابو العباس بن عقدہ سے انہوں نے عبد اللہ بن ابراہیم بن قتبہ سے انہوں نے حسن بن زیاد سے انہوں نے عمر و بن سعد النصری سے، انہوں نے عمر و بن عبد اللہ بن لعیلی بن مرہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا لعیلی سے سنا، کہ میں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ’’جس۔۔۔
مزید
بن کعب الخزاعی ابن شاہین کی رائے میں ناجیہ بن کعب خزاعی اور ناجیہ بن جندب اسلمی دو مختلف آدمی ہیں لیکن ابو نعیم دونوں کو ایک گرد انتا ہے اور ابن مندہ نے صرف ایک ذکر کیا ہے ابو موسی نے مختصراً اسی طرح بیان کیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں مذکورہ بالا بیان ابو موسیٰ سے منسوب ہے انہوں نے لکھا ہے کہ ابو نعیم دونوں کو اس بنا پر ایک آدمی قرار دیتا ہے کہ اس نے ان دونوں میں تفریق کرنے کے لیے ان کے قبیلوں کا نام نہیں لیا اگر وہ انہیں دو آدمی خیال کرتا تو ان کے قبائل کا ضرور ذکر کرتا اور جیسا کہ ہم نے ناجیہ کے ترجمے میں ناجیہ بن جندب بن کعب لکھا ہے ابو نعیم نے بھی اسی طرح لکھ کر یہ بھی لکھ دیا ہے کہ بعض لوگوں نے ان کا ترجمہ ناجیہ بن کعب بن جندب بیان کیا ہے بعدۂ ان کا نسب لکھ کر آخر میں اسلمی لکھ دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مطابق ناجیہ صرف ایک آدمی ہے اور چونکہ ان کے نسب میں اختلاف ہے اس لیے اس اخت۔۔۔
مزید
الجرشی جعفر نے ان کا شمار صحابہ میں کیا ہے محمد بن اسحاق نے ابن شہاب سے انہوں نے عبد اللہ بن کعب سے، انہوں نے نافع الجرشی سے روایت کی، کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لبعثت ہوئی ان دنوں پہاڑ کی چوٹی پر ایک کاہن رہتا تھا لوگوں نے اسے بلا کر کہا کہ تم ہمیں اس آدمی کے بارے میں جس نے عرب میں ایک نئی بات پیدا کی ہے کچھ بتاؤ وہ ان کے کہنے پر اُتر آیا اور کہا خدا نے محمد کو عزت بخشی ہے اور اسے پسند فرمایا ہے اور اس کے دل کو پاک صاف کرکے تمہاری طرف روانہ کیا ہے ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حارث بن کلدہ ابو عبد اللہ ثقفی ابو بکرہ کے ماں جائے بھائی تھے اور ان کی ماں کا نام سمیہ تھا ہم ان کے بھائی ابو بکرہ نقیع کے ترجمے میں ان کا نسب بیان کریں گے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا اور مناوی کرائی کہ طائف کے غلاموں میں سے جو بھی ہم سے مل جائے گا ہم اسے آزاد کردیں گے جناب نافع اور ان کے بھائی ابو بکرہ طائف میں تھے زیادہ بن ابیہ جو ان کا ماں جایا تھا، بھی طائف میں تھا۔ تینوں اسلامی لشکر میں شامل ہوگئے اور آزاد ہوگئے۔ جناب نافع رضی اللہ عنہ ان چار گواہوں میں شامل تھے، جنہوں نے مغیرہ بن شعبہ کے خلاف مقدمۂ زنا میں شہادت دی تھی ان تین اخیانی بھائیوں میں زیاد بن ابیہ نے ٹھیک طور پر شہادت نہ دی تھی اور یوں مغیرہ حد سے بچ گیا تھا۔ چوتھے گواہ کا نام شبل بن معبد تھا۔ جناب نافع نے بصرے میں سکونت اختیار کرلی تھی اور مکان بنالیا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دس جری۔۔۔
مزید
ابو السائب آپ غیلان بن سلمہ کے آزاد کردہ غلام تھے غیلان ابھی مشرک ہی تھے کہ نافع بھاگ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کردیا بعد میں جب غیلان مسلمان ہوگئے تو آپ نے نافع کی ولایت غیلان کو منتقل کردی ابو مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابو سلیمان منذر بن ساوی کے آزاد کردہ غلام تھے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسلمان ہوگئے انہوں نے حلب میں سکونت اختیار کر رکھی تھی۔ اسحاق بن راہویہ نے سلیمان بن نافع العبدی سے حلب میں سنا کہ ان کے والد نے ذکر کیا کہ منذر بن ساوی حاکم بحرین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بمقام مدینہ حاضر ہوا منذر کے ساتھ ایاس بھی تھا اور میں دنوں ابھی بچہ تھا اور ان باتوں کو نہیں سمجھتا تھا میں نے ان کے اونٹ روک رکھے اور وہ دونوں ہتھیاروں سمیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے چلے منذر نے اپنا ہتھیار رکھ دیا کپڑے بدلے اور ڈاڑھی کو تیل لگایا اور پھر دربارِ رسالت میں حاضر ہوکر سلام عرض کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے منذر! میں نے تم میں ایسی چیز دیکھی جو تمہارے ساتھیوں میں نہیں پائی جاتی اس نے دریافت کیا یا رسول اللہ وہ کون سی ایسی چیز ہے جو صرف مجھ۔۔۔
مزید
ابن عمروبن طفیل (ملقب بہ)ذی النور۔ازدی ہیں اوسی ہیں ان کا نسب اوپر بیان ہوچکا ہے۔حسن بن عثمان نے بیان کیا ہے کہ یہ مسلمانوں کے شہسواروں میں تھے اوربہت جفاکش اوربزرگ تھے غزوہ اجنادین میں ۱۳ھ میں شہید ہوئے ان کا تذکرہ ابوعمر نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن عمروبن عاص بن وامل بن ہاشم بن سعید بن سہم بن عمرو بن ہصیس بن کعب بن لوے قریشی سہمی۔کنیت ابومحمد ہے اوربعض لوگوں نے کہا ہے کہ ابوعبدالرحمٰن ہے ان کی والدہ ریطہ بنت منبہ بن حجاج سہمی ہیں اپنے والد سے بارہ برس چھوٹے تھے اور اپنے والدسے پہلے اسلام لائے تھے بڑے فاضل و عالم تھے قرآن پڑہاتھااور کتب سابقہ بھی پڑھی تھیں۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تھی کہ میں آپ کی حدیثیں لکھا کروں گا حضرت نے انھیں اجازت دی تھی۔پھر انھوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ میں جوکچھ سنوں لکھ لیا کروں خواہ خوشی کی حالت میں آپ فرمائیں یاناخوشی کی حالت میں آپ نے فرمایا ہاں جوکچھ میں کہتاہوں وہ حق ہی ہوتاہے۔حضرت ابوہریرہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مجھ سے زیادہ حافظ کوئی نہ تھا سوا عبداللہ بن عمروبن عاص کے مگروہ لکھ لیا کرتے تھے اور میں لکھتانہ تھا۔حضرت عبداللہ کہتے تھے میں نبی ۔۔۔
مزید
ابن عمرو بن عوف۔یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو قبیلئہ عرنیہ کے لوگوں میں گرفتار کرلئے گئے تھے جنھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے ۱ کوقتل کیاتھا۔یہ واقدی کا بیان ہے۔۔۔۔
مزید
ابن عمرو بن قیس بن زید بن سوادبن مالک بن غنم بن مالک بن نجار۔ابی کے والد ہیں اور ابن ام حرام کے ساتھ مشہورہیں حضرت انس بن مالک کے خالہ زاد بھائی ہیں ان کی والدہ ام حرام بنت ملحان ہیں جو حضرت عبادہ بن صامت کی بی بی تھیں۔پس یہ حضرت عبادہ کے رہیب ہوئے،انھوں نے بہت بڑی عمرپائی تھی یہاں تک کہ ان سے ابراہیم ابن ابی عبلہ نے روایت کی ہے۔ہمیں ابویاسر نے اپنی سند سے عبداللہ بن احمد تک خبردی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے کثیر بن مروان یعنی ابومحمد نے بیان کیا وہ کہتے تھےہم سے ابراہیم بن ابی عبلہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے میں نے عبداللہ بن عمروبن ام حرام انصاری کو دیکھا ہے انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دونوں قبلوں کی طرف نمازپڑھی تھی ان کے جسم پر ایک خاکی رنگ کا سوتی کپڑا تھا۔کثیر کا خیال ہے کہ سوتی چادرمرادہے۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید