ابن عنبہ۔کنیت ان کی ابوعنبہ خولانی۔طبرانی نے معجم میں ان کا نام ذکرکیاہے۔ان کا شمار اہل شام میں ہے حمص میں رہتے تھے۔ان سے محمد بن زیاد الہانی نے اوربکربن زرعہ وغیرہ نے روایت کی ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اسلام لے آئے تھے مگر آپ کو دیکھا نہ تھا اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےا حادیث سنی ہیں اور دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے۔جراح بن ملیح بہرانی نے بکر بن زرعہ خولانی سے روایت کی ہے وہ کہتے تھے میں نے ابوعنبہ خولانی سے سنا وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اصحاب میں سے تھے جنھوں نے دونوں قبلوں کی طرف نمازپڑھی ہے اور زمانہ جاہلیت میں خون کا بھی استعمال کیا ہے وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے دین (کے باغ) میں پودے لگائے اور ان کو اپنی اطاعت کے کام میں لگایا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور اب۔۔۔
مزید
خواجہ رفیع الملۃ والدین سلطان المشائخ کے حقیقی بھانجے ہیں جو مکارم اخلاق کے ساتھ موصوف اور جناب سلطان المشائخ کی قربت و شفقت کے ساتھ مخصوص و معروف تھے اور بچپن کے زمانہ سے بڑھا پے تک سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائے ہوئے تھے۔ آپ سلطان المشائخ کی مہربانی و شفقت کی وجہ سے کلام ربانی کے حافظ ہوگئے تھے۔ سبحان اللہ اس شفقت و مہربانی کا کیا کہنا جو سلطان المشائخ کو آپ پر تھی کہ اگر کسی وقت یہ بزرگ کھانا کھاتے وقت دستر خوان پر نہ ہوتے تو سلطان المشائخ با وجود اس قدر بزرگوں کے ہوتے کھانے میں توقف کرتے اور ان بزرگ کے پہنچنے کا انتظار کرتے۔ آپ کے پاس جو تحفے اور ہدیئے آتے ان میں سے کافی حصہ آپ کو بھیجتے او راپنے تمام اقرباء کی فہرست میں اس بزرگ کااول نمبر رکھتے اور اپنے فرزندوں کی جگہ ظاہر و باطن میں آغوش محبت اور سایۂ عاطفت میں پرورش کرتے تھے ہر وقت انہیں دیکھ کر مسکراتے اور نہایت خن۔۔۔
مزید
زاہدِ یگانہ عابدِ زمانہ خدا تعالیٰ کا منتخب و بر گزیدہ شرف اختصاص کے ساتھ مخصوص خواجہ ابو بکر مصلی دار خاص ہیں جو سلطان المشائخ کی قرابت کے شرف کے ساتھ مشرف تھے اور خلا ملا میں آپ کی خدمت میں مصروف رہتے تھے اگرچہ آپ کو سلطان المشائخ کی خدمت میں سے کوئی وقت سانس لینے کو نہیں ملتا تھا اور ہر وقت اس میں مصروف و مشغول رہتے تھے۔ لیکن پھر بھی ہمیشہ روزہ سے رہتے تھے بلکہ کئی کئی دن گزر جاتے اور آپ افطار نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کا شکم مبارک پیٹھ سے لگ جاتا تھا۔ قطع نظر اس کے آپ انتہا درجہ کی مشغولی اور سخت مجاہدہ میں محو رہتے تھے۔ جب جمعہ کے دن سلطان المشائخ کا مصلا نماز فجر کے بعد کیلوکھری کی جامع مسجد میں لے جایا کرتے تھے۔ جب جمعہ کا دن ہوتا تھا تو سلطان المشائخ فرمایا کرتے تھے کہ خواجہ ابو بکر میرا مصلّٰی جامع مسجد میں لے گئے ہیں اور مشغول بحق ہیں۔ خواجہ ابو بکر کو سماع کا بہت ذ۔۔۔
مزید
مولانا قاسم جو سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز کے بھانجوں میں سے ایک نہایت نامور بلند اقبال شخص ہیں۔ خواجہ عمر کے صاحبزادے اور خواجہ ابو بکر کے بھتیجے ہیں جو لطائف التفسیر کے مشہور مصنف ہیں۔ آپ تفسیر کے دیباچہ میں فرماتے ہیں کہ رحمت پرور دگار کا امید وار بندہ قاسم جناب سید السالکین برہان العاشقین نظام الحق والدین کے حقیقی بھانجے کا فرزند عرض کرتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے اس فقیر پر اپنی عنایت سابقہ کی اور اس بیچارہ کو عدم کے پردہ سے عالم وجود میں لایا تو طرح طرح کی نعمتوں کے ساتھ مخصوص کیا جس میں سے بعض نعمتیں جو فلاح دارین کی موجب اور دین و دنیا کی سعادت کے باعث ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ اس خاکسار کو سلطان المشائخ قطب الاقطاب عالم کی نظرِ مبارک میں ملحوظ رکھا اور آپ نے اپنے طرح طرح کے باطنی انفاس سے جو حقیقت میں غیب کی کان اور لاریبی علوم کے قرار کی جگہ ہے۔ زب۔۔۔
مزید
سید با وقار سرور ساداتِ روزگار سید کمال الدین امیر احمد ابن سید محمد کرمانی ہیں جو کاتب حروف کے عم بزرگوار تھے اور مردی وجوانمردی میں حیدر ثانی۔ صدق وافر اور فراستِ کامل رکھتے اور درویشوں اور لشکری محتاجوں کو چاندی سونے کی کافی مقدار سِکّے دیتے اگرچہ یہ بزرگ گاؤں اور زمین کے مالک تھے اور طبل و علم برداری کا عہدہ رکھتے تھے لیکن باوجود ان علائق کے تمام تصوفی اوصاف کے ساتھ موصوف تھے۔ عقل کامل رکھتے اور اپنے تمام کاموں کا انجام بمقتضایٔ عقل دیتے تے۔ امیر خسرو خوب فرماتے ہیں۔ کارے نکرد جز بکمالات علم و عقل گوئی کہ صد عمامہ بزیرِ کلاہ داشت سبحان اللہ عجب قوت رکھتے تھے کہ بجز صدق و راستی کے زبانِ مبارک پر کوئی بات جاری نہیں ہوئی تھی۔ اور یہ تمام فضائل اس تربیت و پرورش کا ثمرہ تھا جو آپ کو سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں حاصل ہوئی تھی۔ سب سے بڑ۔۔۔
مزید
سید با صفا جگر گوشۂ مصطفے حسن و ملاحت کی کان لطافت و ظرافت کے سر چشمے دریاے پیغمبری کے چمکدار موتی قصر حیدری کے شب چراغ گوہر سید السادات نبیرہ سید المرسلین قطب الحق والدین حسین ابن سید محمد کرمانی ہیں جو کاتب حروف کے منجھلے چچا تھے یہ بزرگ علم و فضل و ایثار ظاہر و باطن کی طہارت اور لطافت طبع میں بے نظیر زمانہ تھے اور عقل کامل فراست وافر رکھتے تھے جب تک زندہ رہے مجردانہ زندگی بسر کی اور متعلقین و نیز تزویج کے تعلق سے مبرار ہے آپ نے سلطان المشائخ کے خلیفہ مولانا فخر الدین زرادی کی خدمت میں علوم دینی کی تحصیل کی اور ہمیشہ مکان کا دروازہ کھلا رکھا جو شخص چاہتا بلا تامل آپ کے مکان میں چلا آتا اور غریب الوطنوں اور حاجتمندوں اور شہر کے باشندوں کو آمد و رفت کرنے سے کوئی مانع و مزاحم نہ ہوتا کیونکہ آپ کے مکان پر کوئی چوبدار اور دربان مقرر نہ تھا حتی کہ لوگ اس مقام تک بڑی جرأت و دلیری سے چلے جاتے ت۔۔۔
مزید
سادات کرام کے شرف برگزیدہ مخلوق کے خلاصہ خاص و عام کے مقبول سید السادات منبع البرکات شمس الملۃ والدین سیدخاموش ابن سید محمد کرمانی کاتب حروف کے چھوٹے چچا ہیں جو علم و فضل اور فیاضی و سخاوت و لطافت طبع اور خاص و عام کو کھانا دینے میں بے مثل اور یگانہ روز گار تھے۔ آپ نے سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی۔ اور مجلس خلوت میں سلطان المشائخ کے سامنے نظامی کا خمسہ نہایت خوش الحانی اور درد کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ سلطان المشائخ کی نظر خاص کے ساتھ مخصوص اور بے اندازہ جمال اور بے حد لطافت رکھتے تھے۔ یہ ضعیف عرض کرتا ہے۔ در زات مبارک تو پید است وصف تو حد بیان من نیست ھر جاکہ لطافتے است ای جان حسنِ تو بس است دلیل و برھان (تیری ذات مبارک سے جہان کہیں کہ لطافت اور خوبی ہے پیدا ہے۔ تیرے اوصاف کا بیان کرنا میری قدرت سے باہر ہے تیرا کمال ہی تیرے اوصاف ک۔۔۔
مزید
دریاے علم و زہادت کے چمکدار موتی اہل محبت و کرامت کے مقتدا ہیں۔ یہ ضعیف کہتا ہے۔ دریایٔ علم و گنج زھادت باتفاق اعنی کہ شمس ملت و دین در علوم طاق مولانا شمس الدین یحییٰ کا سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمت میں حاضر ہونا اور مرید ہونا منقول ہے کہ مولانا شمس الدین اور مولانا صدر الدین ناولی دونوں خالہ زاد بھائی تھے اور تعلیم پانے کے زمانہ میں تعطیل کے دنوں میں کپڑے دھونے کے واسطے غیاث پور کے حوالی میں دریائے جون کے کنارے آیا کرتے تھے اس زمانہ میں سلطان المشائخ کی عظمت و کرامت کا آوازہ ان کے مبارک کان میں پہنچ گیا تھا کہ علما اور شہر کے امرا سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوکر زمین بوسی کیا کرتے اور اس دریا کی خاک بوسی کو سعادت و نیک بختی جانتے ہیں چونکہ یہ دونوں بزرگ ابتدائی زمانہ میں اہل تصوف کے چنداں معتقد نہ تھے اس لیے سلطان المشائخ کی ملاقات کا زیادہ خیال ۔۔۔
مزید