صورت صفا سیرت وفا خواجہ کریم الملۃ والدین سمر قندی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو مکارم اخلاق میں دنیا میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے آپ کا ظاہر و باطن اہل تصوف کے اوصاف سے آراستہ تھا فضائل خاص اور علوم بے شمار میں بے مثل تھے آپ کی فیاض طبیعت غایت درجہ کی لطافت اور عقل کامل انتہا مرتبہ کی فراست پر واقع ہوئی تھی اور یہ تمام باتیں حقیقت میں اس کا ثمرہ تھا تھا کہ آپ سلطا المشائخ کی سلک ارادت میں منسلک تھے اور اپنے صفائی اعتقاد کی وجہ سے مخدوم جہان کی محبت میں نہایت راسخ قدم اور محکم تھے اور اس کے ساتھ ہی حضرت سلطان المشائخ کے ہمیشہ منظور نظر تھے یہاں تک کہ حضور کی بخشش و مہربانی آپ کے بارے میں حد درجہ تھی اور اس کا سبب یہ ہوا کہ آپ کے والد بزرگوار خواجہ کمال الملۃ والدین سمر قندی جو دولتِ خراسان کے وزیر اعظم تھے دیار ہندوستان میں تشریف لائے اور بادشاہ ہند کی طرح طرح کی ۔۔۔
مزید
فضلاء کے ملک و الملوک لطافت طبع میں دریا امیر حسین علاء سنجری رحمۃ اللہ علیہ ہیں جن کی جگر سوز غزلیات عاشقوں کے دلوں کی چقماق سے محبت کی آگ نکالتی تھیں اور دلپذیر اشعار سخنوروں کے دلوں کو راحت پہنچاتے تھے۔ آپ کے روح افزا لطائف اہل ذوق کا مایہ تھا اور آپ کا کلام شیخ سعدی کی چاشتی رکھتا تھا چنانچہ آپ نے ایک بیت اسی بارہ میں کہی ہے فرماتے ہیں۔ حسن گلے ز گلستان سعدی آور دہ است کہ اھل معنی گلچین آن گلستان اند (حسن یہ پھول گلستان سعدی سے لائے ہیں کہ اہل معنی اسی گلستان کے گلچین ہیں۔) مولانا حسن ہمیشہ نامدار شاعروں میں نہایت وقعت و عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور کوئی شخص لطیفہ اور نظم بالبداہتہ آپ سے بہتر نہ کہہ سکتا تھا اس عہد کے بادشاہ اور شہزادے آپ کے لطائف و ظرائف گوش ہوش سے سننے کی رغبت رکھتے تھے اور ان تمام سعادتوں کے حصول کا سبب یہ تھا کہ آپ سلطان المشائخ کے غلاموں کی سلک میں منس۔۔۔
مزید
قاضی شرف الدین مولانا حسام الدین ملتانی کے یار تھے جو سلف کی سیرت و صورت رکھتے اور فخر خلف تھے آپ کو قاضی شرف الدین فیروز گہی بھی کہتے تھے۔ آپ وفور علم اور زہد و تقوی کے ساتھ آراستہ اور ترک تکلف سے پیراستہ تھے قرآن مجید کے حافظ اور درگاہ سبحانی کے عاشق تھے۔ اگر کوئی شخص آپ کو دیکھتا تو بے ساختہ بول اٹھتا کہ یہ کوئی مقرب فرشتہ ہے جو اس ہئیت سے زمین پر چلتا ہے یہ بزرگوار علوم کا کافی حصہ رکھتے اور فضل و بزرگی میں ایک آیت تھے۔ کاتب حروف نے دیوانِ احسن حسن بزرگ کے سامنے رکھا ہے ار اس کے دقائق و حقائق دریافت کیے ہیں۔ آپ کا دستور تھا کہ اپنے گھر کی ضروری اور مایحتاج چیزیں مثلاً غلہ لکڑی وغیرہ خود اٹھا کر گھر میں لاتے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ کھچڑی اور لکڑیاں ہاتھ میں لیے ہوئے رستہ میں چلے آ رہے تھے کہ سامنے سے قاضی کمال الدین صدر جہان مرحوم نے آپ کو دیکھا باوجود اس کروفر اور حشمت و شوکت کے صدر ۔۔۔
مزید
عابد اہل طریقت۔ افضل اہل حقیقت مولانا بہاؤ الملۃ والدین ادہمی رحمۃ اللہ علیہ کو اس زمانہ کے لوگ دار الامانی بھی کہتے تھے علم میں کافی حصہ رکھتے تھے اور تقوی کامل سے آراستہ تھے۔ دنیائے غدار میں بہت دن تک زندہ رہے اگرچہ آپ عالمانہ تزک و احتشام رکھتے تھے لیکن حقیقت میں اہل تصوف کی صفت سے موصوف تھے جب آپ اپنے قدیم وطن ملتان سے شہر دہلی میں تشریف لائے تو سلطان المشائخ کی سلک ارادت میں منسلک ہوئے اور صرف جناب سلطان المشائخ کی محبت و عشق کی وجہ سے شہر میں سکونت اختیار کی۔ اس کے بعد آپ کا ہمیشہ یہ دستور رہا کہ جب سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو دن کو وہاں رہتے اور شب کو کاتب حروف کے والد بزرگوار کے مکان پر رونق افروز ہوتے اور وہیں سوتے۔ آپ انتہا درجہ کے تقوی و ورع کے سبب ہر روز غسل کرتے اور ترک و تجرید میں انتہا سے زیادہ کوشش کرتے۔ آخر الامر چند روز بیمار رہ کر کر انتقال ف۔۔۔
مزید
صوفی با صفا۔ زاہد با وفا۔ شیخ مبارک گوپا موی رحمۃ اللہ علیہ بذل و ایثار اور امر المعروف و نہی عن المنکر میں تمام یاران اعلی میں مشہور تھے آپ کو امیر داد بھی کہا جاتا تھا سینۂ مصفا اور ہئیت دلکشا رکھتے تھے آپ جمال ولایت پیر کے عاشق اور جناب سلطان المشائخ کے سابق مریدوں میں سے تھے سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز نے پورے سو رقعے اپنے خط مبارک سے مزین و آراستہ کر کے اور طرح طرح کے کرم و بخشش کا اظہار کر کے آپ کی طرف بھیجے ہیں۔ جب یارانِ اودھ جیسے مولانا شمس الدین یحییٰ اور شیخ نصیر الدین محمود اور مولانا علاؤ الدین نیلی اور دوسرے عزیز سلطان المشائخ کی خدمت واپس جاتے تو ان کی نسبت حضور کی درگاہ سے حکم صادر ہوتا کہ جب تم گو پاؤ میں پہنچو تو خواجہ مبارک سے ضرور ملنا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کاتب حروف شیخ نصیر الدین محمود کی خدمت میں حاضر تھا اتنے میں خواجہ مبارک تشریف لائے۔۔۔
مزید
مالک دنیا، طالب عقبی خواجہ مؤید الدین رحمۃ اللہ علیہ جن کا ظاہر صفا سے آراستہ اور باطن وفا سے پیراستہ تھا زہد و تقوی میں معروف اور اعتقاد خوب میں مشہور تھے۔ آپ ابتدا میں دنیاوی کاموں میں مصروف تھے امور سلطنت کی بجا آوری کو فرض منصبی سمجھتے اور بادشاہ زادہ معظم کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے جس زمانہ میں سلطان علاؤ الدین ولی عہدی کے منصب پر ممتاز تھا اسے شاہ وقت کی طرف سے جاگیر ملی تھی تو خواجہ مؤید الدین اس کی پیشی میں نہایت اہم اور عظیم الشان امور کو انجام دیتے۔ چونکہ سعادت ابدی روز ازل سے آپ کی قسمت میں لکھی جا چکی تھی لہذا آپ سلطان المشائخ کے غلاموں کی سلک میں داخل ہوئے اور بالا ختیار دنیاوی تجملات سے ہاتھ اٹھا لیا۔ جب سلطان علاؤ الدین تخت شاہی پر جلوہ آرا ہوا اور مستقل طور پر سلطنت کی باگ اس کے ہاتھ میں دی گئی تو اس نے خواجہ کو یاد کیا اور جب سنا کہ وہ تارک دنیا ہوگئے ہیں اور سلطان ا۔۔۔
مزید
صوفیوں کے جمال متقیوں کے شرف خواجہ تاج الملۃ والدین رحمۃ اللہ علیہ وادری زہد و تقویٰ کی مجسم تصویر تھے۔ آپ شروع شروع میں دنیا اور اہل دنیا کے ساتھ تعلق رکھتے تھے لیکن جب سعادت ابدی نصیب ہوئی تو آپ نے اس ذلت و خواری کو یک لخت ترک کر دیا اور سلطان المشائخ کی دولت ارادت سے مشرف و ممتاز ہوئے۔ سلطان المشائخ کی الفت و محبت آپ کے دل مبارک میں اس طرح متمکن اور جاگیر ہوئی کہ تمام دنیاوی تعلقات یکبارگی قطع کر دئیے اور فقر و مجاہدہ اور فاقہ کو اپنی دولت و ثروت جان لیا شیخ سعدی نے کیا خوب فرمایا ہے۔ بپائے سر در افتادہ چو لالۂ و گل کہ او شمائل قد نگار من دارد (سرو کے قدموں میں مثال لالۂ و کل پڑا ہوا ہوں کہ وہ میرے نگار سے قد میں مماثلت رکھتا ہے۔) اے سرو بتو شادم شکلت بفلان ماند اے گل زتو خوشنو دم تو بوے کسے داری (اے سرو میں تجھے دیکھ کر شاد کام ہوں کہ ۔۔۔
مزید
زہد و تقوی کی مجسم تصویر، عاشق درگاہ مولی، واقف رمز و مصلحت خواجہ موئد الملۃ والدین انصاری رحمۃ اللہ علیہ ہیں جنہوں نے با ختیار خود مصلحت اور دنیاوی امور سے دست برداری کی اور محبت پیر کے ساتھ موافقت برتی۔ اللہ اللہ آپ عجیب و غیرب روش رکھتے تھے جس روز سے سلطان کے غلاموں کی سلک میں داخل ہوئے مرتے دم تک کسی چیز کی طرف مشغول نہیں ہوئے اور کسی شخص کی طرف توجہ نہیں کی لیکن سادات کرام یعنی کاتب حروف کے چچاؤں کے ساتھ جو سلطان المشائخ کی قربت کے ساتھ مخصوص تھے بالخصوص جناب سید حسین رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ غایت درجہ کا التفات رکھتے تھے اور ان کی محبت کی طرف منسوب تھے آپ کو ذوق سماع اور جگر سوز کر یہ بہت لاحق رہتا تھا اور اس بارہ میں خصوصیت کے ساتھ یاران اعلی میں مشہور و معروف تھے اور یہ سب کچھ اس بات کا نتیجہ تھا کہ آپ حضرت سلطان المشائخ کی نظر خاص کےے ساتھ ملحوظ تھے اور حضور کے لباس خاص ۔۔۔
مزید
سوختہ محبت ساختہ مودت خواجہ شمس الدین رحمۃ اللہ علیہ امیر حسن شاعر کے بھانجے تھے جو جناب سلطان المشائخ کے اعلیٰ درجہ کے مریدوں میں شمار کئے جاتے اور آپ کی محبت کے ساتھ عام و خاص میں بے نظیر شہرت رکھتے تھے۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار رحمۃ اللہ علیہ کو فرماتے سنا ہے کہ جس وقت یہ عاشق صادق حضرت سلطان المشائخ کے جماعت خانہ میں نماز کے لیے حاضر ہوئے تو نماز کی تحریمہ باندھتے وقت جب تک سلطان المشائخ کے جمال مبارک کو نہ دیکھتے تحریمہ باندھتے یعنی جماعت کی صف سے اپنا سر مبارک باہر نکالتے اور سلطان المشائخ کا روے جہان آرا دیکھ کر نیت باندھتے امیر خسرو نے کیا خوب کہا ہے۔ در اثنائے نماز اے جان نظر بر قامتت دارم مگر ار قامت خوبت قبول افتد نماز من (جانمن اثنائے نماز میں میں اپنی نظر تیرے قد پر جمائے رکھتا ہوں کہ شاید تیرے خوبصورت قد سے میری نماز قبولیت کا جامہ پہنے۔) خلاصہ کلام یہ کہ جب عاشق۔۔۔
مزید
مشائخ کی صورت و سیرت رکھتے اور زہد و ورع تقوی و پرہیز گاری سے آراستہ تھے ایک نہایت مسن اور بوڑھے عزیز تھے اور جناب سلطان المشائخ کے مریدان سابق میں اعلی درجہ کے مرید تھے۔۔۔۔
مزید