پیر , 10 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 27 April,2026

پسنديدہ شخصيات

مولانا علاؤ الدین اندر پتی رحمتہ اللہ علیہ

نہایت  بزرگ اور علوم کا کافی حصہ رکھتے تھے۔ فضائل بے شمار اور خصائل پسندیدہ کے ساتھ موصوف تھے۔ قطع نظر اس کے حافظ کلام ربانی تھے۔ سلطان المشائخ کے اکثر اقربا نے ان ہی بزرگ سے قرآن مجید حفظ کیا۔ کاتب حروف کے اعمام بزرگ  اورخود کاتب حروف ان ہی کے شاگرد ہیں۔ آپ پر جگر سوز گریہ بہت کچھ غالب تھا اور انتہا درجہ کی مشغولی میں مصروف تھے ساری عمر تلاوت قرآن مجید میں بسر کی اور طریقہ اولیاء اللہ پر اس  دنیائے غدار سے سفر کیا رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔۔

مزید

مولانا محمود نوہیتہ رحمتہ اللہ علیہ

یہ بھی بوڑھے عزیز تھے اور اپنے پیر کی بے انتہا محبت کی وجہ سے وطن مالوف اور شہر کو یک لخت ترک کر دیا تھا اور سلطان المشائخ کی محبت میں غیاث پور میں آ بسے تھے کاتب حروف ان بزرگ کو دیکھا ہے کہ ایک بوڑھے شخص تھے نورانی دراز قد  کہ آپ کے اکثر کلمات و حکایت عشق سے لبریز تھے۔۔۔۔

مزید

مولانا حجتہ الدین ملتانی رحمتہ اللہ علیہ

علوم بسیار اور فضائل بے شمار کے ساتھ آراستہ تھے طبقہ  خواجگان چشت قدس اللہ ارواحہم کے مشائخ کا شجرہ نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ عربی زبان میں نظم کیا۔۔۔۔

مزید

مولانا بدر الدین تولہ رحمتہ اللہ علیہ

جنہیں لوگ فوق کہتے تھے یہ بزرگوار خزانہ علم کے مالک اور فضائل خاص کے سرچشمہ تھے تقوی و ورع میں کمال رکھتے تھے۔۔۔

مزید

مولانا رکن الدین چغمر رحمتہ اللہ علیہ

: مبتلائے سماع تھے اور اس کام میں آپ  کو صدق و راستی کمال ذوق و شوق حاصل تھا۔ آپ جمال ولایت پیر کے عاشق اور ان کی محبت میں دیوانہ تھے۔  خوشنویسی اور علم الخط میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے آپ نے اکثر معتبر کتابیں جیسے  کشاف۔ مفصل وغیرہ جناب سلطان المشائخ کے لیے نہایت خوشخط اور عمدہ طور پر لکھیں اور خدمت اقدس میں پیش کیں کاتب حروف نے اس عاشق صادق کو پایا ہے اور ان کے باطنی ذوق سے کمال و تمام بہرہ حاصل کیا ہے۔۔۔۔

مزید

خواجہ عبد الرحمٰن سارنگپوری رحمتہ اللہ علیہ

ذوق و درد کی مجسم تصویر تھے۔ کاتب حروف نے اس بزرگ کو حالت سماع میں دیکھا ہے کہ آپ کے ذوق سماع اور  جگر سوز گریہ تمام حاضرین مجلس کے دلوں میں اس قدر اثر کر دیا کہ کسی  کو اپنے آپے تک کی خبر نہ تھی۔۔۔۔

مزید

خواجہ احمد بدایونی رحمتہ اللہ علیہ

ترک و تجرید میں بے مثال اور زہد و تقویٰ میں بے نظیر تھے آپ نے مرتے دم تک اپنے لیے کوئی مسکن نہیں بنایا اور اگرچہ اہل و  عیال رکھتے تھے لیکن آپ نے کبھی اینٹ پر اینٹ نہیں رکھی اور خام و پختہ کوئی مکان نہیں بنایا اور بجائے درو دیوار اور چھت کے صرف ایک مختصر جھونپڑی تیار کی آپ کا طریقہ مشائخ کا ساتھا اور سماع کے وقت  کسی طرح سے آپ  کو قرار نہ ہوتا تھا چنانچہ بار ہا دیکھا گیا ہے کہ مجلس سماع میں مستانہ وار گردش کرتے اور ہاتھ پاؤں مارتے تھے ایک دفعہ اس بزرگ نے کاتب حروف کو بے انتہا بزرگی عنایت فرمائی اور بندہ آپ کی علمی مجلس میں مسائل شرعی کی تحقیق کے لیے حاضر ہوا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور خوش ہیں فرمایا مجھے تمام و کمال اسی وقت خوشی حاصل ہوتی ہے کہ پنج وقتہ نماز  میں حاضر ہوتا ہوں۔ رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔۔

مزید

خواجہ لطیف الدین کھنڈ سالی رحمتہ اللہ علیہ

ہیں یہ ایک بوڑھے عزیز تھے جو ارادت و بیعت میں اکثر یاران اودھ دسے سابق تھے اور بیشتر اوقات مشغول بحق رہتے تھے۔ شیخ نصیر الدین محمود جیسے بزرگ آپ کی تعظیم و تکریم میں حد کوشش کرتے تھے رحمۃ اللہ علیہما۔۔۔۔

مزید

مولانا نجم الدین محبوب رحمتہ اللہ علیہ

عرف شکر خائے تھا نیسری اپنے باطنی نور  اور اندرونی فراست سے دنیا و آخرت کو  دیکھتے تھے۔ زہد تمام اور ورع رکھتے تھے محبت و عشق میں ایک آیت تھے اور یاران اعلی میں اوصاف حمیدہ کے ساتھ موصوف تھے اور علاوہ ان باتوں کے اعتقاد پیر میں اپنا نظریہ نہ رکھتے تھے ایک دفعہ کا  ذکر ہے کہ آپ سلطان المشائخ کے روضہ  اقدس کے آگے تشریف رکھتے تھے اور کاتب حروف بھی حاضر خدمت تھا کہ آپ نے تاویلات محبت اور رموز عشق میں بحث چھیڑدی اور اسے نہایت عمدہ طور پر  تکمیل کو  پہنچایا۔ کاتب حروف نے اپنے حوصلہ ضعیف کے مطابق ان امثال احکامات اور عشق آمیز ابیات درد انگیز اشعار سے جو آپ دلی جذبات اور ذوق و شوق سے فرما رہے تھے اور آپ کی اثر صحبت سے محفل میں ایک شور و اضطراب برپا تھا بہت سے نظائر مستنبط کئے اس حالت میں یہ بزرگ اپنے عشق صادق کی وجہ سے خود ذوق حاصل کر رہے تھے۔ جب یہ مجلس برخاست ہوئی ت۔۔۔

مزید

خواجہ شمس الدین دہاری رحمتہ اللہ علیہ

جنہیں لوگ اجنی کہتے تھے۔ ایک بوڑھے عزیز تھے نورانی۔ اگرچہ ابتدائے حال میں آپ دنیا کی طرف مشغول تھے اور اہل دنیا سے میل جول رکھتے تھے لیکن جب سعادت ابدی کا ستارہ اوج اقبال پر چمکا تو آپ سلطان المشائخ کے غلاموں کے سلک میں داخل ہوئے اور حضور کی مجلس  اقدس میں نشست و برخاست کرنے کا مرتبہ پایا سلطان المشائخ کے ملفوظات سے آپ نے ایک عجیب و غریب کتاب مرتب  کی ایک دفعہ ان بزرگوار نے سلطان المشائخ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر ارشاد ہو تو آنے جانے والوں کے لیے ایک مکان تیار  کروں فرمایا کہ خواجہ شمس الدین! یہ کام ان مشاغل سے کسی طرح کم نہیں ہے جن سے تم باہر آئے ہوئے ہو۔ ازاں بعد سلطان المشائخ نے آپ کو وہ دوات عنایت کی جو آپ کی حضور میں رکھی ہوئی تھی اور اس میں اس طرف اشارہ تھا کہ جو آپ کو آخر عمر میں پیش آیا یعنی لوگوں نے پھر انہیں دنیاوی اعمال میں مشغول کیا اور ظفر آباد کی جاگیر ان کے ح۔۔۔

مزید