منگل , 11 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 28 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت سیّد شاہ نور حضوری

سیّد محمود حضور موسوی غوری کے فرزند ارجمند تھے۔ تعلیم و تربیت اپنے پدر بزرگوار ہی کے زیر سایہ پائی تھی۔ اُنہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ تکمیلِ سلوک کے بعد عطائے خرقہ سے سرفراز ہوئے اور اجازتِ ارشاد ملی۔ اپنے زمانے کے عالم و فاضل اور عارفِ کامل تھے۔ تمام عمر  درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں مصروف  رہے۔ والدِ ماجد کے فیضانِ نظر سے یہ مقام حاصل کرلیا تھا جو آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوتا وہ بہت جلد اوجِ طریقت پر پہنچ کر مرتبۂ حضوری حاصل کرلیتا۔ ۹۹۷ھ میں وفات پائی۔ گشت روشن چوں بخلد جاوداں سالِ وصلش از خرد شد جلوہ گر   سیّد و سردار سرور شاہ نور ‘‘ہادئِ احسن منور شاہ نور’’ ۹۹۷ھ مزار سیّد محمود حضور کے گنبد کے اندر ہے۔۔۔۔

مزید

حضرت سیّد موسیٰ پاک شہید

سیّد حامد بخش گیلانی اوچی﷫ کے فرزند رشید ہیں۔ علومِ ظاہری و باطنی کی تعلیم و تربیت اپنے والد گرامی کے زیر سایہ پائی تھی۔ پدر بزرگوار سے سلوک و معرفت میں مقاماتِ بلند اور مدارجِ ارجمند  حاصل کرکے جمال الدین ابوالحسن﷜ کا خطاب پایا تھا۔ عبادت و ریاضت اور ارشاد و ہدایت میں یگانۂ روزگار تھے۔ حضرت غوث الاعظم﷜ کے اویسی تھے۔  نیز حالتِ بیداری میں حضور اقدس ﷺکے جمال جہاں آراء سے بھی مشرف ہوئے تھے اور بطریقِ کشفِ قبور حضرت شیخ سیّد عبدالقادر ثانی گیلانی ا وچی﷫ سے اخذِ فیض کیا اور بیعت سے سرفراز ہوئے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث  دہلوی﷫ صاحبِ اخبار الاخیار آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل تھے۔ کتاب کے آخر میں اپنی بیعت کے حالات مفصل و مشرح درج کیے ہیں۔ آپ کی تمام عمر رشد و ہدایت اور تعلیم و تلقین میں گزری۔ ۱۰۰۱ھ میں قوم لنگاہ کی ایک خانہ جنگی میں اتفاقاً گولی لگنے سے شہید ہوئے۔ مزار ملتان میں زیارت۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبدالوہاب متقی

عبدالوہاب نام، متقی لقب، والد کا نام شیخ ولی اللہ تھا۔ اصل وطن مالوہ تھا۔ ان کے والد ہندوستان کے اکابر صوفیا و صلحا سے تھے۔ حوادثِ زمانہ نے ترکِ وطن پر مجبور کیا۔ برہان پور آگئے، یہیں فوت ہوئے۔ شیخ عبدالوہاب کو چھوٹی عمر ہی میں سلوک و معرفت اور سیر و سیاحت کا بڑا شوق تھا۔ چنانچہ بیس سال کی عمر میں وطن سے نکلے۔ گجرات، دکن، سراندیپ سے ہوتے ہوئے مکہ معظّمہ پہنچے۔ یہاں حضرت شیخ<href="#_ftn1" name="_ftnref1" title="">[1] علی متقی چشتی قادری شاذلی کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے۔ خدمتِ مرشد میں رہ کر علومِ ظاہری و باطنی سے بہرۂ وافر حاصل کیا۔ اپنے خلوص و عقیدت کے باعث مرشد سے بے اندازہ فیوض و برکات اکتساب کیے۔ اپنے اخلاقِ حمیدہ اور اوصافِ پسندیدہ کی وجہ سے عینِ ذاتِ مرشد ہوگئے تھے۔ صاحبِ اخیار الاخیار لکھتے ہیں: شیخ عبدالوہاب ۱۲ سال مرشد کی زندگی میں اور ۲۸ سال مرشد کی وفات کے بعد مکہ معظّمہ م۔۔۔

مزید

حضرت سیّد صوفی گیلانی

باپ کا نام سیّد بدرالدین بن سیّد اسماعیل ہے۔ کمالاتِ ظاہری و باطنی سے آراستہ اور صاحبِ شریعت وطریقت بزرگ تھے۔ تمام عمر لاہور میں ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ ۱۰۰۲ھ میں وفات پائی۔ شہ خلد صوفیِ صافی ضمیر شود سالِ ترحیلِ او جلوہ گر   شریفے ز اولادِ پاکِ علی ز مخدوم صوفی سیّد ولی ۱۰۰۲ھ ۔۔۔

مزید

شیخ حسین لاہوری

حضرت شیخ بہلول دریائی کے مرید و خلیفہ تھے۔ ان کا دادا کلجس رائے ہندو تھا اور فیروز شاہ تغلق کے عہد میں مُسلمان ہوا تھا۔ حسین کا باپ عثمان نامی دین دار آدمی تھا۔ بافندگی پیشہ تھا۔ شیخ حسین ۹۴۵ھ میں پیدا ہوئے۔ سات برس کے ہوئے تو لاہور کے ایک فاضل حافظ ابو بکر کے حلقۂ درس میں شامل ہوکر قرآن شریف حفظ کرنا شروع کیا۔ چھ سات پارے حفظ بھی کر لیے تھے اور کچھ دینیات میں بھی استعداد بہم پہنچالی تھی کہ اسی اثنا میں شیخ بہلول واردِ لاہور ہُوئے۔ ایک روز شیخ ابو بکر کی مسجد میں تشریف لائے اور شیخ حسین کو دریا سے ایک کُوزہ پانی کا لانے کے لیے کہا۔ اس وقت دریائے راوی ٹکسالی دروازے کے باہر بہتا تھا۔ شیخ حسین دریا پر گئے اور کوزہ میں پانی بھر لائے۔ شیخ بہلول نے وضو کیا، نماز پڑھی اور شیخ حسین کے حق میں دُعا کی کہ اے الٰہی اس لڑکے کو عارف اور اپنا عاشق بنا۔ شیخ حسین بھی ان کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے۔ اُنہی ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سُنَینہ(رضی اللہ عنہا)

سُنَینہ دختر محتف بن زید نکریہ،انہیں حضورِاکرم کی صحبت نصیب ہوئی اور ان سے ایک حدیث حبہ دختر شماخ نکریہ نے روایت کی۔ ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ حسین قادری چشتی

حضرت شیخ عبدالوہاب متقی قادری شاذلی کے بلند مرتبہ مرید تھے۔ صاحب اخبار الاخیار لکھتے ہیں: عجیب و غریب حالت و ہمت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ کشتی میں دریائے  نربدا سے گزر رہے تھے سنا کہ دریا کے ایک کنارے جنگل میں شیر رہتا ہے، کوئی شخص خوف کے مارے اُس طرف سے نہیں گزرتا۔ چنانچہ آپ کشتی سے اس کنارے پر اترے۔ ایک چھری لی اور جنگل میں جاکر اُس شیر کو ہلاک کردیا۔ نقل ہے: ایک شخص بلند جگہ پر جس کے نیچے پانی تھا نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا۔ وسواس کی وجہ سے نیتِ نماز کے الفاظ بار بار دُہراتا تھا۔ حاضرینِ مجلس پر یہ تکرار نہایت گراں گزری۔ آپ نے اٹھ کر غصّے سے اس کے سینے پر ہاتھ مارا وہ پانی میں گر پڑا جو اس بلندی کے نیچے بہ رہا تھا۔ اس کے بعد اس کے دل میں کوئی وسواس پیدا نہ ہوا۔ بقول صاحبِ شجرہ چشتیہ ۱۰۱۳ھ میں بعہدِ اکبر وفات پائی۔ قطعۂ تاریخِ وفات: حسین آں محسن و احسن حسن پیر!! چو از دنیا بفردوسِ بر۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نعمت اللہ سرہندی

حضرت شیخ محمد المعروف بہ میاں میر قدس سرہٗ کے بزرگ تریں خلفاء سے تھے۔ سب سے پہلے آپ ہی نے حضرت میاں میر کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ زہد و ورع، تقویٰ و عبادت میں مشہورِ زمانہ اور صاحبِ خوارق و کرامت تھے۔ شہزادہ داراشکوہ صاحبِ سکینۃ الاولیاء رقم طراز ہے کہ ایک روز ایک تاجر خص اپنے لڑکے کو ساتھ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کیا کہ میں نے اپنے لڑکے کو زرِ کثیر کے ساتھ بغرض تجارت باہر روانہ کیا تھا۔ اب یہ واپس آکر کہتا ہے کہ راستے میں رہزنوں نے مجھے لوٹ لیا ہے۔ میں اس معاملے میں سخت حیران ہوں۔ توجہ فرمائیے آپ نے لڑکے سے مخاطب ہوکر فرمایا اپنے باپ سے جھوٹ کیوں کہتا ہے۔ کیاں تو نے فلاں جگہ روپیہ دفن نہیں کیا۔ جا اور وہ روپیہ لاکر اپنے باپ کو دے۔ لڑکا آپ کا یہ حکم سنتے ہی قدموں پر گر پڑا۔ معذرت خواہ ہوا اور روپیہ لاکر اپنے باپ کے حوالے کیا۔ نقل ہے: ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: میر۔۔۔

مزید