ظاہری و باطنی تعلیم اپنے والدِ ماجد سیّد محمد غوث بالا پیر ستگھرہ سے پائی تھی۔ اپنے زمانے کے شیخ بزرگ، زاہد و عابد اور عالم و فاضل تھے۔ اپنے اوصافِ حمیدہ اور اخلاقِ پسندیدہ کے باعث سیّد عبدالقادر ثالث مشہور تھے۔ پدر بزرگوار کی وفات کے بعد دیارِ ہند کی سیر و سیاحت کے لیے نکلے۔ اور اس دوران میں ایک خلقِ کثیر نے آپ سے اکتسابِ فیض کیا۔ پھر لاہور آئے اور محلہ لنگر خاں بلوچ میں سکونت اختیار کی اور ایک محلہ بنام رسول پور آباد کیا۔ یہیں ۱۰۲۲ھ میں وفات پائی۔ مزار احاطۂ روضہ شاہ چراغ گیلانی لاہوری میں ہے۔ عبدِ قادر چو شد ز دارِ فنا فیضِ اسلام گو بتاریخش ۱۰۲۲ھ یافت از حق بخلدِ والا جاہ ہم بخواں ’’عبد قادر اہل خدا‘‘ ۱۰۲۲ھ ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ محمد میاں میر لاہوری کے خاص الخاص مرید تھے۔ تمام عمر مرشد گرامی ہی کی خدمت میں بسر کی۔ حضرت شیخ کسی دوست و مرید کو رات کے وقت سوائے میاں نتھا کے اپنے پاس نہ رکھتے تھے۔ میاں نتھا پر حالتِ استغراق و بے خودی کا اتنا غلبہ رہتا تھا کہ دنیا وما فیہا کی کچھ خبر نہ رہتی تھی۔ روایت ہے ایک درویش جونپور سے آپ کی ملاقات کے لیے آیا۔ میاں نتھا نے اس سے پوچھا: کون ہو، کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: میں جونپور سے آپ کی ملاقات کے لیے آیا ہوں تاکہ آپ کے نام و عرف اور حسب و نسب سے آگاہی حاصل کروں۔ میاں نتھا نے کہا: میرا نام نتھا ہے۔ قوم کا پراچہ کنجد کش ہوں۔ حضرت میاں میر کا کمترین خادم ہوں۔ میرا حال یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے عالمِ جبروت و ملکوت و لاہوت کی کنجیاں مجھے عطا کردی ہیں۔ جس وقت چاہتا ہوں عالمِ ملکوت[1] و عالمِ جبروت[2] و عالمِ لاہوت[3] کا دروازہ کھول کر داخل ہوجاتا ہوں۔ شہزادہ م۔۔۔
مزید
ساداتِ عظام اور اولیائے ذو الکرام سے تھے۔ تعلیم و تربیت حضرت سیّد عبدالقادر ثالث گیلانی بن سیّد محمد غوث بالا پیر سے پائی تھی۔ ایک خلقِ کثیر آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوکر آپ کی تلقین و ہدایت سے فیض یاب ہوئی۔ ۱۰۳۷ھ میں وفات پائی۔ عبدِ وہاب چوں بفضل الحق رحلتش گو امامِ دیں فیاض ۱۰۳۷ھ رفت آخر بجنت الاعلیٰ ’’افضل و سید و ولی‘‘ فرماق ۱۰۳۷ھ ۔۔۔
مزید
ساداتِ گیلانی میں سے تھے۔ والد کا نام عمر بن سیّد حسن ہے۔ سلسلۂ نسب بارہ واسطوں سے حضرت غوث الاعظم تک منتہی ہوتا ہے۔ خرقۂ خلافت دست بدست اپنے آباو اجداد سے پہنا ہے۔ پندرہ سال کے تھے کہ بہ اشارۂ ربانی ہندوستان تشریف لائے اور موضع تَہہ[1]میں سکونت اختیار کی۔ دیارِ ہند کے اکثر مشائخ کبار سے ملاقات کی۔ علومِ ظاہر و باطن میں درجۂ کمال حاصل تھا۔ مریدوں کا سلسلہ بہت وسیع ہے۔ ہمیشہ با وضو اور مراقبہ میں مستغرق رہتے تھے۔ آپ سے بہت سی کرامات کا ظہور ہُوا۔ چنانچہ صاحب سفینۃ الاولیاء لکھتے ہیں کہ چور اگر آپ کے گھر آجاتا یا وہ اندھا ہوجاتا یا وہ مُردہ پایا جاتا۔ بلکہ جس گاؤں میں آپ رہتے تھے وہاں کوئی چور آنے کی قدرت نہ رکھتا تھا۔ ایک سو برس کی عمر میں ۱۰۳۷ھ میں وفات پائی۔ شد ز دنیا چو در بہشتِ بریں ہست وصلش ’’امامِ دیں فیاض‘‘ ۱۰۳۷ھ شیخ با اختصاص عبداللہ نیز۔۔۔
مزید
اپنے زمانے میں مشائخ قادریہ میں درجۂ بلند رکھتے تھے۔ سکونت اکبر آباد میں تھی۔ صاحبِ فضل و کمال تھے۔ علم و عمل، زہد و تقوٰی، ریاضت و عبادت میں لاثانی، صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔ تمام عمر درس و تدریس میں گزاری۔ ۱۰۵۰ھ میں وفات پائی۔ مزار اکبرآباد میں ہے۔۔۔۔
مزید
والد ماجد کا نام شاہ ابو المعالی بن سیّد محمد نور بن بہاءالدین المشہور بہاول شیر تھا۔ خورد سالی ہی میں باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا تھا مگر تعلیم و تربیّت پُوری طرح ہوئی تھی۔ علومِ ظاہری کی تکمیل کے بعد اکتسابِ علومِ باطنی کی طرف متوجّہ ہوئے۔ ہر روز اپنے جدّ امجد کے مزار پر جاکر مراقبہ اور ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔ ایک رات اپنے جدّ بزرگوار کو خواب میں دیکھا کہ آپ فرماتے ہیں: اے فرزند تیرا حصّہ ہمارے پاس نہیں ہے بلکہ سیّد جمال اللہ حیات المیر زندہ پیر کے پاس ہے۔ لاہور جاؤ وہاں اُن سے تمہاری ملاقات ہوگی۔ چنانچہ آپ اس ارشاد کے بموجب لاہور آئے۔ ایک روز گورستانِ میانی میں مزار شیخ محمد طاہر کے قریب آپ کو موجود پایا۔ خدمت میں حاضر ہوکر حلقۂ ارادت میں داخل ہُوئے اور کمالاتِ ظاہری و باطنی حاصل کئے۔ صاحبِ خوارق و کرامت تھے۔ نقل ہے ایک روز آپ ایک درخت کےسایہ کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے حاضر ہ۔۔۔
مزید
حضرت حاجی محمد نوشاہ گنج بخش کے اکابر مریدوں اور خلیفوں میں سے تھے۔ اصلی وطن کابل تھا۔ طلبِ خدا میں ہندوستان آکر حضرت نوشاہ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے تھے۔ ابتدا میں کچھ عرصہ عالمگیری[1] حکومت کے ملازم بھی رہے۔ پھر کلی طور پر ترکِ علائق اختیار کرلی۔ صاحبِ جزب و سکر اور عشق و محبت تھے۔ طبیعت میں بڑا سوز و گداز تھا۔ صاحبِ تذکرہ نوشاہی فرماتے ہیں کہ خواجہ فضیل صاحب کابل میں ’’وصی‘‘ کے لقب سے ملقب تھے۔ جس فاسق و فاجر پر حالتِ جزب و سُکر میں نظر پڑجاتی، عارفِ کامل ہوجاتا۔ کسی مردہ پر پڑتی تو زندہ ہوجاتا۔ نگاہِ غضب سے کسی طرف دیکھتے تو اس کی جان تن سے نکل جاتی، غرض آپ کے احوال و مقامات عجیب و غریب تھے۔ نقل ہے ایک مرتبہ چند کابلی و ہقانوں نے بہ نظرِ امتحان ایک زندہ شخص کو چارپائی پر ڈال کر یہ ظاہر کیا وُہ مُردہ ہے اس کا جنازہ اٹھا کر قبرستان کی طرف چل پڑے۔ راستے میں حضرت ۔۔۔
مزید
حضرت سید عبد الرزاق شاہ چراغ رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: سید عبد الرزاق بن عبد الوہاب بن سید عبد القادر ثالث بن سید محمد غوث بالا پیربن زین العابدین ابن سید عبد القادر ثانی بن سید محمد غوث اوچی گیلانی رحمہم اللہ۔ سیرت وخصائص: آپ اعظم اولیائے قادریہ سے اور علومِ ظاہری وباطنی میں جامع تھے۔ آپ اپنے والد کے مرید تھے۔ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ کے دادا نے فرمایا کہ ہمارے گھر چراغ پیدا ہوا ہے ، اُسی روز سے آپ شاہ چراغ کے نام سے مشہور ہوگئے۔ بہت بڑے سیاح تھے۔مشائخ حرمین سے بہت ہم صحبت رہ کراستفادہ اٹھایا۔حضرت شاہ جہان آپ کے بہت معتقد تھے۔ وصال: آپ کی وفات 22 ذیقعدہ 1068 ھ /بمطابق 20 اگست 1658 ء میں ہوئی۔ آپ کا مزار آپ کے والد کے مزار سے متصل لاہور میں ہے۔ ماخذ مراجع: تذکرۂ علمائے برِ صغیر پاک و ہند۔۔۔
مزید
نام شاہ محمد، کنیت اخوند، لقب لسان اللہ تھا۔ والد کا نام ملّا عبدی۔ جائے ولادت موضع ارکسان، ضلع روستاق۔ علاقہ بدخشاں۔ اوائل عمر ہی طلبِ حق کے لیے وطن سے نکلے۔ پہلے کشمیر آئے۔ یہاں تین سال رہے پھر ہندوستان کا قصد کیا۔ لاہور سے گزر کر آگرہ کو چلے گئے۔ راستہ میں حضرت میاں میر کے حالات سنے۔ اُن سے ملاقات کرنے کے لیے لاہور کا قصد کیا۔مگر رفقاء سفر نے نہ چھوڑا۔ مجبوراً آگرہ پہنچے۔ جستجوئے مرشد میں اِدھر اُدھر پھرے مگر مایوس ہو کر لاہور آئے اور حضرت میاں میر کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کے اوصاف و کمالات سے متاثر ہو کر حلقۂ ارادات میں داخل ہوگئے۔ تجرید و تفرید، ریاضت و مجاہدہ اور عبادت و تقویٰ میں حضرت میاں میر کے تمام مریدوں اور خلفاء میں ممتاز تھے۔ فقر و استغنا کا یہ عالم تھا کہ کبھی کوئی غلام یا خدمت گار اپنے ساتھ نہیں رکھا۔ کبھی چُولھا گرم نہیں کیا، کبھی چراغ نہیں جلایا حبسِ دم میں بڑا ملکہ صاصل۔۔۔
مزید
شیخ رنگ بلاول کے مرید و خلیفہ تھے۔ مشائخ قادریہ میں درجۂ بلند رکھتے تھے۔ رسولﷺ کے قدم شریف کا نقش جو انہیں اپنے مشائخ سے دست بدست ملا تھا۔ اُس کا روضہ لاہور میں بنوایا تھا۔ حرمین شریفین کی زیارت سے سات بار مشرف ہوئے تھے۔ اِن کا ایک دوست غلام رسول نامی سوداگر تھا اس نے بھی ارادۂ حج کیا اور آپ سے رخصت حاصل کرنے کے لیے حاضر ہُوا۔ آپ نے اجازت نہ دی۔ فرمایا: میں نے سات حج کیے ہیں جو سب کے سب مقبول ہیں اُن میں سے ایک کا ثواب تجھے بخشتا ہُوں۔ اُس نے عرض کیا: مجھے زیارتِ روضہ رسولﷺ کا بھی بے حد اشتیاق ہے۔ کہا: آج کی رات یہیں قیام کرو۔ پھر تمھارا اختیار ہے۔ چنانچہ اُسی رات اُسی رات غلام رسول سوداگر نے خواب میں دیکھا کہ میں خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہوں اور اس کے بعد زیارتِ روضۂ رسول مقبولﷺ سے بھی مشرف ہوا ہوں۔ صبح اٹھ کر حاضرِ خدمت ہو کر حلقۂ ارادت میں اخل ہُوا اور اسی روپے سے روضۂ قدمِ رسول تعمیر ک۔۔۔
مزید