منگل , 11 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 28 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت شاہ فیروز قادری لاہوری

نام فیروز شاہ تھا۔ آپ کے دادا شاہ عالم نے بغداد سے نقل مکان کرکے لاہور آکر سکونت اختیار کرلی تھی۔ صاحب علم و فضل تھے۔ سیادت و بخابت اور عبادت و ریاضت میں مشہور زمانہ تھے۔ اپنے دادا کے مرید و خلیفہ تھے۔ چنانچہ ان کی وفات کے بعد سجادہ نشیں ہوئے۔ تمام عمر طلبہ و مریدین کی درس و تدریس اور ہدایت و تلقین میں گزاری۔ طلبہ کو فقہ و حدیث اور قرآن و تفسیر کا درس دیا کرتے تھے۔ شام سے آدھی رات تک اربابِ معنی کو توجہ اور تلقین فرمانے میں مشغول رہتے۔ جمعہ کے روز نماز کے بعد عصر تک وعظ و نصائح میں صرف کرتے۔ آپ کی ذاتِ بابرکات سے ایک خلقِ کثیر علومِ ظاہری و باطنی سے بہرہ در ہوئی۔ آپ کا سلسلۂ بیعت حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم﷜ تک منتہی ہوتا ہے۔ ۹۳۳ھ میں وفات پائی۔ مزار تکیہ ڈنڈی گراں لاہور میں ہے۔ ڈنڈی گریا خرادی۔ صناعوں کی یہ جماعت آپ سے بڑی عقیدت رکھتی تھی۔ یہ علاقہ ڈنڈی گراں کے نام سے مشہور ہ۔۔۔

مزید

حضرت مخدوم سید عبد القادر ثانی

اپنے وقت کے امامِ شریعت، مقتدائے طریقت اور عارفِ حقیقت تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی کی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے پائی تھی۔ جامع علوم و فنون تھے۔ نیز علومِ منقولات و معقولات میں بڑی دسترس حاصل تھی۔ ہندوستان کے مشائخ ِ  کبار سے تھے۔ سیکڑوں مشرکین اور فاسق و فاجر آپ کے دستِ مبارک پر مشرف بہ اسلام ہوئے اور تائب ہوکر راہِ ہدایت پر آئے۔ حضرت غوث الاعظم ﷫کے ساتھ نسبت خاص تھی۔ حضرت غوثیہ ہی سے عبدالقادر ثانی کا خطاب بعالمِ باطن پایا تھا۔ صاحب اخبار الاخیار لکھتے ہیں: آپ عفوانِ شباب میں بڑی پُر تکلّف زندگی بسر کرتے تھے۔ سماع کی طرف بڑا التفات تھا۔ سفر میں بھی یہی کیفیت تھی۔ سازو سامان کے کئی اونٹ ہمرا ہوتے تھے۔ مگر سجادہ نشین ہوتے ہی ان تمام تکلفات سے کلی اجتناب اختیار کرلیا۔ طالبانِ سماع کو زجرو توبیخ کرتے تھے۔ اگر کسی موقع پر بطریق شاذ سماع سننے کا اتفاق ہوجاتا تھا تو اس قدر گریہ و زاری کر تے تھے۔۔۔

مزید

حضرت سید محمود حضوری

سید محمود نام، حضوری لقب، باپ کا نام خواجہ شمس الدین المشہور شمس العارفین تھا۔ سلسلۂ نسب امام موسیٰ[1] کاظم﷫ تک منتہی ہوتا ہے۔ غُور[2] کے رہنے والے تھے۔ سیّد محمود اپنے والدِ ماجد کی وفات کے بعد نقل مکان کرکے پہلے اوچ اور وہاں سے لاہور آکر محلہ حاجی[3] سرائے میں سکونت پذیر ہوگئے۔ آپ جامع علوم و فنون تھے۔ اپنے زمانے کے عارف کامل اور استاد گرامی تھے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کے علمی و روحانی فیوض و برکات سے اخذِ فیض کیا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جو شخص آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوتا وُہ اسی روز رسول اللہﷺ کے دیدار سے خواب میں نعمت حاصل کرتا اسی لیے آپ حضوری کے لقب سے مشہور زمانہ ہوئے۔ دوسری روایت یہ کہ آپ کا مرید جلدی ہی اور اوجِ طریقت پر پہنچ کر درجۂ حضوری حاصل کرلیتا۔ آپ کا سلسلۂ ارادت حضرت غوث الاعظم﷫ تک اس طرح منتہی ہوتا ہے۔ آپ مرید اپنے والد شمس الدین کے اور یہ مرید سیّد یعقوب کے اور یہ عبدالقادر۔۔۔

مزید

سید عبد القادر گیلانی

سیّد جمال الدین باپ کا نام تھا۔ اپنے پدر بزرگوار کے شاگرد و مرید تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی میں کامل و اکمل مرجع خلائق اور صاحبِ خوارق و کرامت تھے۔ اصل وطن بغداد تھا۔ وہاں سے نقل مکان کر کے لاہور آکر سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ سلسلۂ نسب حضرت شیخ سیّد عبدالقادر گیلانی غوث الاعظم تک منتہی ہوتا ہے۔ ۹۴۲ھ میں اللہ کو پیارے ہوئے۔ عبد قادر سیّدِ نورانی است خیرِ اسلام آمدہ ترحیلِ او ۹۴۲ھ   قطبِ دوراں سالکِ ربانی است بارِ دیگر عبدِ قادر ثانی است ۹۴۲ھ   ۔۔۔

مزید

سید عبد الرزاق گیلانی

سیّد عبدالقادر ثانی اوچی﷫ کے فرزند ارشد ہیں۔ عالی ہمت اور صاحبِ فضل و کمال تھے۔ والدِ ماجد کی وفات کے وقت ناگور میں تھے۔ ایک روز مجلس  میں بیٹھے ہوئے تھے کہ فرمایا: مجھے پدر بزرگوار نے بلایا ہے اور میں نے ان کی آواز بگوشِ ظاہری سنی ہے۔ اسی وقت اوچ کو روانہ ہوگئے۔ گوعین وفات کے وقت تو نہ پہنچ سکے، چند روز کے بعد پہنچے، اور والدِ ماجد کے حکم کے مطابق لباسِ خرقہ و اجازت خلافت و نعمتِ سجادہ نشینی سے مشرف ہوئے۔ بقول صاحب اخبار لاخیار ۹۴۲ھ میں وفات پائی۔ مزار اوچ میں ہے۔ سیّدِ رزاق شاہِ والا جاہ میرِ حق آفتاب گو سالش ۹۴۲ھ   رفت چوں در جناں ز دورِ زماں باز مخدوم قطبِ عالم خواں ۹۴۲ھ ۔۔۔

مزید

میر سید مبارک حقانی گیلانی

مشائخ قادریہ میں بڑے پایہ کے بزرگ تھے۔ زہدو تقویٰ، عبادت و ریاضت، ترکِ علائق اور تجریدو تفرید میں وحید العصر تھے۔ جذب و استغراق طبع عالیہ پر بہت غالب تھا۔ حالتِ جذب و سکر میں دُور دراز غیر آباد مقامات میں چلے جاتے اور مراقبہ و مجاہدہ میں مشغول رہتے۔ جلالت و ہیبت کا یہ عالم تھا کہ کوئی شخص پاس نہ آ جا سکتا تھا۔ شیخ معروف چشتی جو حضرت بابا فرید گنج شکر قدس سرہٗ کی اولادِ امجاد سے تھے۔ صرف انھوں نے ہی حاضرِ خدمت رہ کر اخذِ فیض کیا ہے اور نعمت خلافت پائی ہے۔ آپ نے انھیں بشارت دی تھی کہ تمہاری ذات سے ایک نیا سلسلہ جاری ہوگا۔ چنانچہ شیخ معروف چشتی ﷫‘‘نوشاہی’’سلسلہ کے مورثِ اعلیٰ ہیں۔ ۹۵۶ھ میں وفات پائی۔ پہلے لاہور مدفون ہوئے۔ پھر نعش کو اوچ لیجاکر والدِ ماجد کے روضہ کے اندر دفن کیے گئے۔ مبارک شد چو فردوسِ معلّٰی ز فیض اللہ بسرور رحلتش یافت ۹۵۶ھ   بآں سیّد مبا۔۔۔

مزید

حضرت مخدوم جی قادری

صاحب اخبار الاخیار رقم طراز ہیں: آپ سلسلۂ قادریہ ہیں بڑے پایہ کے بزرگ گزرے ہیں۔زہدوتقدس، عبادت و ریاضت میں بے مثال تھے۔ عالی ہمتی میں اپنی نظیر آپ تھے۔ دنیا و اہل دنیا سے کوئی کام نہ تھا۔ متوکل اور مستغنی المزاج تھے۔ شہرِ بدرجو دیارِ دکن سے ہے وہاں کے رہنے والے تھے۔ شیخ عبدالواہاب﷫ متقی فرماتے ہیں کہ آخری عمر میں بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے اٹھنے اور بیٹھنے کی بھی طاقت نہ رہی تھی۔ اس کے باوجود جواں ہمتی کا یہ عالم تھا کہ آدھی رات کو نوافل کے لیے اٹھتے، نمازِ تہجّد ادا کرنے کے بعد فجر تک ایک نشست میں قرآن شریف ختم کرتے۔ ۹۷۸ھ میں وفات پائی۔ شد چو مخدوم از جہاں بیوفا رحلتش مخدوم قطب العالم است ۹۷۸ھ گشت در فردوس والا جائے گیر ہم بخواں ’’ہادی مخدوم الکبیر‘‘ ۹۷۸ھ (خزینۃ الاصفیا قادریہ۔۔۔

مزید

حضرت مخدوم جی قادری

صاحب اخبار الاخیار رقم طراز ہیں: آپ سلسلۂ قادریہ ہیں بڑے پایہ کے بزرگ گزرے ہیں۔زہدوتقدس، عبادت و ریاضت میں بے مثال تھے۔ عالی ہمتی میں اپنی نظیر آپ تھے۔ دنیا و اہل دنیا سے کوئی کام نہ تھا۔ متوکل اور مستغنی المزاج تھے۔ شہرِ بدرجو دیارِ دکن سے ہے وہاں کے رہنے والے تھے۔ شیخ عبدالواہاب﷫ متقی فرماتے ہیں کہ آخری عمر میں بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے اٹھنے اور بیٹھنے کی بھی طاقت نہ رہی تھی۔ اس کے باوجود جواں ہمتی کا یہ عالم تھا کہ آدھی رات کو نوافل کے لیے اٹھتے، نمازِ تہجّد ادا کرنے کے بعد فجر تک ایک نشست میں قرآن شریف ختم کرتے۔ ۹۷۸ھ میں وفات پائی۔ شد چو مخدوم از جہاں بیوفا رحلتش مخدوم قطب العالم است ۹۷۸ھ   گشت در فردوس والا جائے گیر ہم بخواں ’’ہادی مخدوم الکبیر‘‘ ۹۷۸ھ ۔۔۔

مزید

حضرت سید عبداللہ ربانی

سیّد محمد غوث گیلانی حلبی اوچی﷫ کے فرزند رشید تھے۔ تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی ہی کے سایۂ عاطفت میں پائی تھی۔ علمِ منقول و معقول اور اصول و فروع کے جامع تھے۔ اس جلالتِ علمی کے ساتھ زہدو ورع اور عبادت و ریاضت میں یکتائے روز گار تھے۔ دنیا و اہل دنیا سے بے نیاز تھے۔ اپنے عہد کے مشائخ میں ممتاز و ذویٔ الاحترام تھے۔ تمام عمر ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کے کمالات صوری و معنوی سے اخدِ فیض کیا۔ ۹۷۸ھ میں بہ عہدِ اکبر وفات پائی۔ مزار اوچ میں ہے۔ قطعۂ تاریخِ وفات: ز دنیا رفت در خلدِ معلّٰی!! وصالِ پاک او از دل عیاں شد   چو شیخِ پاک عبداللہ معصوم ’’امامِ دیں عبداللہ مخدوم‘‘ ۹۷۸ھ ۔۔۔

مزید

حضرت سید اسماعیل گیلانی

سیّد عبداللہ ربانی گیلانی﷫ اوچی کے فرزند ارجمند تھے۔ بڑے عابد و زاہد، مستغنی المزاج اور جامع علوم و فنون تھے۔ اپنے پدر بزرگوار ہی کے زیرِ سایہ تعلیم و تربیت پائی تھی۔ انہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ جلال الدین اکبر بادشاہ آپ کا بڑا معتقد تھا۔ آپ کو لاہور بلایا اور یہاں رہنے کی درخواست کی اور ایک ہزار بیگھہ زمین ضلع فیروز پور میں برائے وجہ کفاف عطا کی۔ مگر آپ کے کمالِ فقرو استغنا نے اسے قبول نہ کیا۔ البتہ لاہور میں محلہ لکھی میں سکونت اختیار کرلی۔ ۹۷۸ھ میں بعہدِ اکبر وفات پائی۔ مرقد حضرت موج دریا بخاری کے مزار کے متصل ہے۔ رفت چوں از جہاں بخلدِ بریں گشت تاریخِ رحلتش روشن   پِیرِ روشن ضمیر اسماعیل ’’نیر نور میر اسماعیل‘‘ ۹۸۷ھ ۔۔۔

مزید