بدھ , 12 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 29 April,2026

پسنديدہ شخصيات

ابوالبراء رضی اللہ عنہ

ابوالبراء،تمیم الداری کے غلام تھے،سعید بن زَیّاد بن قائد نے اپنے والد سے انہوں نے داداسے، انہوں نے ابوہند سے روایت کی،کہ تمیم اپنے ساتھ شام سے چند قندیلیں اور تیل لے کر مدینے آئے، جس رات کو وہ مدینے پہنچے جمعے کی رات تھی،انہوں نے اپنے غلام ابوالبراءکوحکم دیا ،کہ قندیلوں میں تیل ڈال کر مسجد میں لٹکا دے،اس نے حکم کی تعمیل کی،چنانچہ جب سورج غروب ہو،تو لیمپ روشن کردئیے گئے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے چمک دمک دیکھ کر دریافت کیا،یہ کس نے کیا ہے،لوگوں نے تمیم کا نام لیا،حضورِ اکرم نے فرمایا،"تو نے اسلامی عبادت گاہ کو منور کیا،اللہ تعالیٰ تیری دنیااور آخرت کو منور فرمائے،جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے،اگر میری کو ئی اوربیٹی ہوتی تومیں اسے تجھ سے بیاہ دیتا"،اس پر نوفل بن حارث بن عبدالمطلب نے عرض کیا،یارسول اللہ! ام مغیرہ نامی میری ایک بیٹی ہے،آپ اس کے بارے میں مختار ہیں،۔۔۔

مزید

ابوبردہ انصاری ظفری رضی اللہ عنہ

ابوبردہ انصاری ظفری،اور ظفر کا نام کعب بن مالک بن اوس تھا،انہوں نے حضوراکرم سے روایت کی،بقول ابونعیم وہ کوفی ہیں،اور ابنِ مندہ انہیں مدنی بتاتے ہیں، عبدالملک نے ارو بروایتے عبداللہ بن مغیث بن ابی بردہ نے اپنے والد سے،اس نے داداسے روایت کی،کہ انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلّم سے سُنا،آپ نے فرمایا کہ کاہنوں کی دو جماعتوں میں ایک ایسا آدمی پیداہوگا جو قرآ ن کی ایسی تفسیر بیان کرے گا،جواس کے بعد اورکوئی ایسی تفسیر نہیں پیش کر سکے گا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ مفسر محمد بن کعب القرظی تھے،اور کاہنوں سے مراد بنوقریظہ اور بنونضیر تھے۔ ۔۔۔

مزید

ابوبردہ رضی اللہ عنہ

ابوبردہ انصاری،جابر بن عبداللہ ان کے راوی ہیں،کہ ابواحمد بن سکینہ نے بتایا،کہ انہیں ابوغالب الماءروی نے عطیتہً باسنادہ ابوداؤد سجستانی سے،انہوں نے قتیبہ بن سعید سے،انہوں نے لیث سے، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے،انہوں نے بکیر بن عبداللہ بن اشجع سے،انہوں نے سلیمان بن یسار سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن جابر سے،انہوں نے ابوبردہ سےروایت کی،کہ حضورِاکرم نے فرمایا،کہ کسی شخص کو بھی بغیر حدود اللہ کے دس کوڑوں سے زیادہ مت مارو۔ نیزبکیر بن عبداللہ نے سلیمان سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن جابر سے،انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابی بردہ سےروایت کی،احمد بن زہیر کہتے ہیں،کہ وہ ظفری ہیں،یا کوئی اور،ان کے علاوہ کسی اور راوی کاقول ہے کہ اس حدیث کو جابر نے ابوبردہ بن نیار سے روایت کیا ہے،ابونعیم نے ابن نیار کے ترجمے میں ان کا ذکر کیا ہے،واللہ اعلم،ابوعمر نے ان کا ذکر کیاہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عبدۃ الہمدانی: ان کا ذکر اس مکتوب میں ہے، جو زرعہ بن یوسف بن ذی یزن نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت تحریر کیا تھا۔ جب اس نے معاذ بن عبداللہ بن زید، مالک بن عبادہ اور عقبہ بن عمرو کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تھا اور اُن لوگوں کو آپ سے متعارف کرایا تھا۔ ابن مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عتاہیہ بن حزب بن سعد الکندی: یہ صحابی مصری تھے۔ بکر بن ابراہیم نے ابن لہیعہ سے، اس نے یزید بن ابی حبیب سے، اس نے مخیس بن ظبیان سے۔ اُس نے عبدالرحمان بن حسان سے اس نے بنو جذام کے ایک آدمی سے اس نے مالک بن عتابیہ سے سنا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص عشاء کو پائے اسے قتل کردے (عشاء ایک شاعر کا نام ہے جو بدگو شاعروں کی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجو کرتا تھا) یحییٰ القطان نے ابن لہیعہ سے اسی سند اورمتن سے یہ روایت بیان کی ہے اور محمد بن معاویہ نے بھی ابن لہیعہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ قتیبہ نے بھی ابن لہیعہ سے روایت کی ہے، لیکن اُس نے نہ مخیس کا ذکر کیا ہے اور نہ عبدالرحمٰن بن حسان کا۔ ابویاسر نے اپنی سند سے ہمیں عبداللہ بن احمد سے روایت کی ہے کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ ہم سے موسیٰ بن داؤدنے بیان کیا کہ ہم سے ابن لہیعہ نے یزید بن ابی حبیب سے اس نے۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عقبہ یا عقبہ بن مالک : (کہتے ہیں، آخر الذکر صحیح ہے) انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ ان سے بشر بن عاصم نے روایت کی ہے۔ ابو عمر اور ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عمرو الاسدی: ان کا تعلق بنو غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ سے تھا۔ ابن اسحاق کا قول ہے کہ مہاجرین ہجرت کرکے مدینے میں آ رہے تھے اور بنو غنم بن دودان اسلام لاچکے تھے چنانچہ یہ سارا قبیلہ (مردوں اور عورتوں سمیت) ہجرت کرکے مدینہ آگیا۔ ان میں مالک بن عمرو بھی شامل تھے۔ ابن مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عمرو البلوی: ابوموسیٰ نے ابن شاہین سے سنبر کے تذکرے میں ان کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عمرو التمیمی: ان کا ذکر ان لوگوں میں ملتا ہے، جو بنو تمیم کے اس وفد میں شامل تھے۔ جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ ابو عمر نے اختصاراً اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عمرو بن ثابت الانصاری: ان کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے تھا۔ اور ابوحبہ ان کی کنیت تھی۔ ابو حاتم الرازی نے بھی ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے۔ ابو عمر نے اختصاراً اس کی تخریج کی ہے۔ ہم کنیتوں کے عنوان کے تحت بھی ان کا ذکر کریں گے۔۔۔۔

مزید